تقویٰ: کامیابی کا حقیقی معیار

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
کامیابی ہر انسان کی فطری خواہش اور زندگی کا اصل مقصد ہوا کرتاہے، لیکن اس کا حقیقی مفہوم ہر دور میں بحث کا موضوع رہا ہے۔ عام طور پر اس دنیا میں مال و دولت، اعلیٰ عہدہ، اقتدار و اختیار، شہرت، پیشہ ورانہ ترقی اور مادی وسائل کی فراوانی کے حصول کو کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد دراصل مادہ پرستی، مذہب بیزاری، انکار آخرت اور دنیا کی عارضی عیش پرستی پر ہے۔ دوسری طرف جب ہم اسلامی نظریہ حیات کی طرف دیکھتے ہیں جس کی بنیاد الٰہ واحد کی پرستش، دنیا کو دارالعمل، حیات دنیوی کو دور ابتلا و آزمائش اور آخرت کو دار جزا تسلیم کرنے پر قائم ہے، تو پاتے ہیں کہ کامیابی کا معیار ان مادی پیمانوں اور علامات سے بہت بلند اور پائیدارہے۔ قرآن حکیم جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کی جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے، کامیابی کوفکری، اخلاقی، روحانی، سماجی اور اخروی زاویے سے دیکھتا ہے۔ اس تصور میں کامیابی صرف دنیوی و مادی حصول کا نام نہیں بلکہ انسان کی فکر و نظر کی تطہیر، اس کی داخلی پاکیزگی، اخلاقی برتری، روحانی ترقی، اجتماعی بھلائی، اور اخروی نجات کا مجموعہ ہے۔ اس لیے قرآن کریم کے مطابق حتمی طور پر کامیاب شخص وہ ہے جو مطلوبہ صفات کی بنیادوں پرآخرت میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرلے، جہنم کے دائمی عذاب سے نجات حاصل کرلے اور جنت کی ابدی نعمتوں میں داخل کردیا جائے۔ قرآن کے کامیابی کے اس تصور کو جو اس کے دئے گئے فلسفۂ حیات کے عین مطابق ہے، اس آیت میںنہایت واضح اور غیرمبہم انداز میں پیش کردیا گیا ہے: (ترجمہ): ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب اپنا پورا اجر تو قیامت کے دن ہی پاؤگے، پس جو شخص جہنم سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۵)۔دوسری آیتوں میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ جو شخص آخرت کا منکر یا اس سے غافل رہا اور اس کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے بجائے سرکشی کا رویہ اختیار کیا ہوگا، وہ حتمی طور پر ناکام قرار دیا جائے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
حتمی کامیابی کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے قرآن حکیم نے جن صفات پر زور دیا ہے، ان میں ایمان کے بعد سب سے نمایاں حیثیت ’’تقویٰ‘‘کو حاصل ہے۔ قرآن کریم نے اس بات کو بالکل واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک، عزت، فضیلت، اور کامیابی کا اصل معیار نہ مال و دولت ہے، نہ اقتدار و اختیار، نہ حسب و نسب، اور نہ ہی ظاہری توقیر و وجاہت بلکہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ تقوی کو کامیابی کا آفاقی اور ابدی معیار مقرر کیے جانے کی وجہ اس کی جامعیت اور زندگی کے تمام امور پر اس کا محیط ہونا ہے۔ تقویٰ محض چند عبادات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اللہ کی عظمت، اس کی محبت، اس کے خوف، اس کے احکام کی پابندی اور اس کی نافرمانی سے بچنے کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنا سکھاتی ہے۔ یہ انسانی کردار کی وہ معراج ہے جو اسے دنیا میں بھی سرخرو کرتی ہے اور آخرت کی دائمی زندگی میں بھی کامیابی کی ضامن بنتی ہے۔ لہٰذا حقیقی کامیابی مال و زر اور ظاہری شان و شوکت کے حصول میں نہیں بلکہ باطن کی طہارت اور تقوی اختیار کرنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی}’’اور نیک انجام تقویٰ کا ہے۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۳۲)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:  {إِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ}’’بے شک نیک انجام متقیوں کا ہے۔‘‘ (ھود: ۴۹)۔ ایک اور جگہ ارشاد باری ہے: {إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا} ’’بے شک متقیوں کے لیے بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (النبا: ۳۱) ۔ ’’تقویٰ‘‘ کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے رنج و نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ کبھی کبھی یہ لفظ خوف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام تقویٰ ہے جو گناہ کا باعث اور خدائے تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو۔ تقویٰ کے مفہوم کو اس روایت کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے: ’’ایک شخص نے حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھا: تقویٰ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے کبھی کانٹے دار راستہ اختیار کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے فرمایا: پھر تم نے گزرتے وقت کیا کیا تھا؟ اس نے کہا جب میں کانٹا دیکھتا تو اس سے ہٹ جاتا یا اس سے بچ کر نکل جاتا یا اس سے نہیں گزرتا۔ فرمایا: یہی تقویٰ ہے۔‘‘ (کتاب الزھد الکبیر للبیہقیؒ،  حدیث نمبر ۹۶۳)۔
حدیث کامدعا یہ ہے کہ جس طرح جھاڑی دار اور کانٹے دار راستوںسے گزرتے وقت انسان اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر بچتا بچاتا نکل جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح سفر حیات میں گناہ میں ملوث کرنے والے شیطانی جالوں، نفس کی چالوں اور بے جا خواہشات کی تکمیل سے بچتے بچاتے گزر جانے کا نام تقویٰ ہے۔ یہ بات گرچہ ممنوعات شرعیہ کے چھوڑ دینے سے حاصل ہوجاتی ہے لیکن اس میں مرتبۂ کمال حاصل کرنے کے لیے بہت سی مشتبہ اور مباح چیزوں کو بھی ترک کردینا پڑتا ہے۔ چنانچہ مشتبہ چیزوں کو ترک کرنے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ترجمہ): ’’بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہات ہیں جن کو لوگوں کی بڑی تعداد نہیں جانتی، پس جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور آبرو کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑگیا وہ بالآخر حرام میں بھی پڑ گیا، جیسے چرواہا جو (شاہی محفوظ) چراگاہ کے اردگرد (بکریاں) چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس (چراگاہ) میں داخل ہوکرچرنے لگیں (اور وہ شاہی مجرم قرار پائے)، دیکھو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ خبردار رہو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء (یا حدود اللہ) ہیں۔ ‘‘ (صحیح مسلمؒ، جزء حدیث نمبر ۴۰۹۴، بروایت نعمان بن بشیرؓ)۔
اسی طرح تقویٰ کے حصول کے لیے مباح چیزوں کو ترک کرنے کے سلسلے میں آپؐ کاارشاد ہے: ’’کوئی بندہ متقیوں کے مقام کونہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو کہ جس میں کوئی حرج نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لئے نہ چھوڑ دے جس میں حرج (برائی) ہے‘‘۔ (سنن ترمذیؒ، حدیث نمبر  ۲۴۵۱، بروایت عطیہ سعدیؓ)۔ مباح وہ امور ہیں جن کے کرنے یا نہ کرنے پر کوئی شرعی حکم نہ ہو، انسان چاہے تو انھیں کرے ، چاہے تو نہ کرے، اور ان کے کرنے یا نہ کرنے پر گناہ یا ثواب کا معاملہ نہ بنتا ہو۔ اسے ’’جائز‘‘، ’’روا‘‘، ’’حلال‘‘ یا ’’شرعی اجازت یافتہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح مکروہ وہ فعل ہے جس کی ممانعت واضح نہ ہو لیکن شرعاً اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہو اور اس سے بچنے کی ترغیب دی جاتی ہو۔ ا حادیث بالا کا پیغام یہ ہے کہ انسان اگر تقویٰ کے اعلیٰ مراتب کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو مشتبہ چیزوں سے بھی پرہیز کرے ، بے فائدہ یا لایعنی حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دے اور ان چیزوں سے بھی احتراز کرے جو کراہت کے ساتھ جائز ہیں کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کے قریب جانے کے مترادف ہے جس سے حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتاہے۔
اس طرح تقویٰ گویا دینی امور میںحد درجہ احتیاط اور پرہیزگاری کا نام ہے۔ یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہوجانے کے بعد انسان زندگی کے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا لحاظ رکھنے لگتا ہے، اپنے اعضا و جوارح کو ان کی مرضی کے موافق استعمال کرتا ہے، اپنی خواہشات کو احکام شریعت کے تابع کردیتا ہے، ہر دم نیکیوں کی طرف راغب رہتا ہے، اور ہر قسم کے منکرات، مشتبہات اور لایعنی مباحات سے خود کو بچانے لگتا ہے۔ یہ کیفیت دل میں خوف خدا کے موجزن ہونے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے ۔ اس لیے قرآن و حدیث میںتقوے کا محل دل کو بتایا گیا ہے حالاں کہ اس کے اثرات اعضا و جوارح سے صادر ہونے والے اعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے : ’’یہی (حق) ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج: ۳۲)۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تقویٰ یہاں ہے، اور تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۶۵۴۱)۔ آپؐ کا یہ بھی فرمان ہے: ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمھارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمھاری صورتوں اور تمھارے اموال کو بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر۶۵۴۲ اور ۶۵۴۳)۔
اس لیے تقویٰ کسی ظاہری ہیئت، شکل و صورت یا وضع قطع کے اختیار کرنے کا نام نہیں ہے جس کی نمائش کرکے ایک انسان متقی بن جائے یا خود کو متقی باور کرائے بلکہ یہ دل کو رضائے الٰہی کے تابع کردینے کا نام ہے۔ جس شخص کا دل رضائے الٰہی کے تابع ہوجائے ، وہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کا پاس و لحاظ ضرورکھے گا، نیز اپنی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل میں شرعی حدود و قیود سے کبھی دانستہ تجاوز نہیں کرے گا اور اگر کبھی ایسا ہوجائے تو فوراً توبہ و استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا۔ اس طرح جیسے جیسے وہ تقویٰ کے مدارج طے کرتا جائے گا، اس سے گناہوں کے صدور کا امکان بھی کم سے کم تر ہوتا جائے گا، برائیاںاس سے دور ہوتی جائیں گی اور نیکیاں اس کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن جائیںگی۔ اس لیے قرآن کریم میں تقویٰ اختیار کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کم از کم ۲۴۱ جگہ کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر ہے، کہیں اس کی ہدایت کی گئی ہے تو کہیں اس کے فضائل اور انعامات کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ ایک جگہ حکم ربانی ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘ (التوبۃ: ۱۱۹)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جہاں تک تمھاری استطاعت ہو۔‘‘ (التغابن: ۱۶)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے عقل والو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ ‘‘ (المائدۃ: ۱۰۰)۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے ساری عبادتوں کا مقصود دراصل تقویٰ کو ہی قرار دیا گیاہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرۃ:  ۲۱)۔ تقویٰ گویاایک مسلمان کی عملی زندگی کا نصب العین ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو ایمان کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ ارشاد باری ہے: ’’بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘ (الحجرات: ۱۳)۔ متقی اور پرہیز گار لوگ دراصل اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا دوست بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی بشارت ہے: ’’بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (التوبۃ: ۴ ، ۷)۔ دوسری جگہ ارشاد باری ہے: ’’اوراللہ تعالیٰ متقیوں کا دوست ہے۔‘‘ (الجاثیۃ: ۱۹)۔ ایک اور جگہ فرمایا: ’’اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۹۴) ۔
  تقویٰ کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو ایسی نگاہ بصیرت سے نواز دیتا ہے جس سے وہ حق و باطل، صحیح و غلط اور ہدایت و گمراہی کے درمیان آسانی سے فرق قائم کرلیتے ہیں اور راہ ہدایت پر گامزن رہتے ہیں۔ اسی نور بصیرت کو قرآن کریم نے لفظ ’’فرقان ‘‘سے تعبیر کیا ہے جس کا تذکرہ اس آیت مبارکہ میں ہے: (ترجمہ): ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی روش اختیار کروگے تو وہ تمہیں فرقان (حق و باطل کی تمیز کی قوت) عطا فرمائے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ (الانفال: ۲۹)۔ اس آیت میں متقیوںکو فرقان عطا کرنے، ان سے برائیوں کو دور کرنے، اور ان کی لغزشوں کو معاف کرنے کے خدائی وعدے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ نیز اسی تقویٰ پر دنیا میں مومنوں کے ساتھ نصرت، رحمت اور برکت کے وعدے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے (ہر مشکل سے) نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں رکھتا اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے کافی ہوجاتاہے، یقینا اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ ‘‘ (الطّلاق: ۲ – ۳)۔ آگے ارشاد فرمایا: ’’اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے اس کے (ہر) کام میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔‘‘ (الطّلاق:۴)۔ نیز فرمایا: ’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔‘‘ (الاعراف:  ۹۶)۔
پھراسی تقویٰ پر آخرت میں گناہوں کی مغفرت، ہر قسم کے رنج و غم سے نجات اور حتمی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے : ’’جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا اور اسے بہت بڑا اجر و ثواب بھی عطا کرے گا۔ ‘‘ (الطّلاق:۵)۔ نیز ارشاد ہے: ’’اور جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، اللہ ان کو کامیابی کے ساتھ نجات دے گا، انہیں کوئی برائی (تکلیف) چھوئے گی بھی نہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ (الزمر: ۶۱)۔ دوسری جگہ تقویٰ کو ولایت کی علامت بتایا گیا ہے اور متقی لوگوں کو دنیوی و اخروی کامیابی کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ ارشاد باری ہے: ’’یاد رکھو کہ جو اللہ کے ولی ہیں، ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگیں ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میںبھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (یونس: ۶۲ – ۶۴)۔
مزید برآن اسی تقویٰ پر آخرت میں بہترین اجر اور جنت کا وعدہ کیا گیاہے۔ ارشادخداوندی ہے: ’’آخرت کا جو اجر ہے وہ ان لوگوں کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لاتے اور تقویٰ پر کاربند رہتے ہیں۔‘‘ (یوسف: ۵۷)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’بے شک متقی لوگ (جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی ہے)باغات اور نہروں میں ہوں گے، ایک سچی عزت والی نشست میں، اس بادشاہ کے پاس جس کے قبضے میں سارا اقتدار ہے۔‘‘ (القمر: ۵۴ – ۵۵)۔ نیز ارشاد باری ہے: ’’وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اس کے پھل بھی سدا بہار ہیں اور اس کی چھاؤں بھی۔ یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے۔‘‘(الرعد: ۳۵)۔
الغرض تقویٰ کا مقام اسلام میں بہت اعلیٰ و ارفع ہے اور جو شخص اس کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوجائے اس کی کامیابی یقینی ہے۔ اس لیے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام امور میںتقویٰ کے حصول کو پیش نظر رکھے اور اس راہ کی مشقتوں کو خندہ پیشی کے ساتھ برادشت کرے۔ ان شاء اللہ وہ آخرت میں ہنستا مسکراتا جنت میں داخل ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بندۂ عاجز کو بھی آخرت میں ان متقی لوگوں میں شامل کرلے جن پر اس نے انعام کا وعدہ فرمایا ہے، بندہ اگرچہ خود کو تقویٰ والوں میں تو نہیں سمجھتا لیکن اس کی دلالت کرنے والوں میں تو ضرور ہی شامل ہے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’إِنَّ الدَّال عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ‘‘  ’’بے شک خیر کی دلالت کرنے والا اس (خیر) کے کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘ (سنن ترمذیؒ، حدیث نمبر۲۶۷۰)۔اللہ رب العزت سے یہ بھی التجا ہے کہ اس تحریر کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنادے اور احقر کے لیے ذخیرۂ آخرت۔ آمین یا رب العالمین! وما علینا الا البلاغ!
 ٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

تازہ ترین خبریں

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

تقویٰ: کامیابی کا حقیقی معیار

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
کامیابی ہر انسان کی فطری خواہش اور زندگی کا اصل مقصد ہوا کرتاہے، لیکن اس کا حقیقی مفہوم ہر دور میں بحث کا موضوع رہا ہے۔ عام طور پر اس دنیا میں مال و دولت، اعلیٰ عہدہ، اقتدار و اختیار، شہرت، پیشہ ورانہ ترقی اور مادی وسائل کی فراوانی کے حصول کو کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد دراصل مادہ پرستی، مذہب بیزاری، انکار آخرت اور دنیا کی عارضی عیش پرستی پر ہے۔ دوسری طرف جب ہم اسلامی نظریہ حیات کی طرف دیکھتے ہیں جس کی بنیاد الٰہ واحد کی پرستش، دنیا کو دارالعمل، حیات دنیوی کو دور ابتلا و آزمائش اور آخرت کو دار جزا تسلیم کرنے پر قائم ہے، تو پاتے ہیں کہ کامیابی کا معیار ان مادی پیمانوں اور علامات سے بہت بلند اور پائیدارہے۔ قرآن حکیم جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کی جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے، کامیابی کوفکری، اخلاقی، روحانی، سماجی اور اخروی زاویے سے دیکھتا ہے۔ اس تصور میں کامیابی صرف دنیوی و مادی حصول کا نام نہیں بلکہ انسان کی فکر و نظر کی تطہیر، اس کی داخلی پاکیزگی، اخلاقی برتری، روحانی ترقی، اجتماعی بھلائی، اور اخروی نجات کا مجموعہ ہے۔ اس لیے قرآن کریم کے مطابق حتمی طور پر کامیاب شخص وہ ہے جو مطلوبہ صفات کی بنیادوں پرآخرت میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرلے، جہنم کے دائمی عذاب سے نجات حاصل کرلے اور جنت کی ابدی نعمتوں میں داخل کردیا جائے۔ قرآن کے کامیابی کے اس تصور کو جو اس کے دئے گئے فلسفۂ حیات کے عین مطابق ہے، اس آیت میںنہایت واضح اور غیرمبہم انداز میں پیش کردیا گیا ہے: (ترجمہ): ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب اپنا پورا اجر تو قیامت کے دن ہی پاؤگے، پس جو شخص جہنم سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۵)۔دوسری آیتوں میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ جو شخص آخرت کا منکر یا اس سے غافل رہا اور اس کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کے بجائے سرکشی کا رویہ اختیار کیا ہوگا، وہ حتمی طور پر ناکام قرار دیا جائے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
حتمی کامیابی کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے قرآن حکیم نے جن صفات پر زور دیا ہے، ان میں ایمان کے بعد سب سے نمایاں حیثیت ’’تقویٰ‘‘کو حاصل ہے۔ قرآن کریم نے اس بات کو بالکل واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک، عزت، فضیلت، اور کامیابی کا اصل معیار نہ مال و دولت ہے، نہ اقتدار و اختیار، نہ حسب و نسب، اور نہ ہی ظاہری توقیر و وجاہت بلکہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ تقوی کو کامیابی کا آفاقی اور ابدی معیار مقرر کیے جانے کی وجہ اس کی جامعیت اور زندگی کے تمام امور پر اس کا محیط ہونا ہے۔ تقویٰ محض چند عبادات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اللہ کی عظمت، اس کی محبت، اس کے خوف، اس کے احکام کی پابندی اور اس کی نافرمانی سے بچنے کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنا سکھاتی ہے۔ یہ انسانی کردار کی وہ معراج ہے جو اسے دنیا میں بھی سرخرو کرتی ہے اور آخرت کی دائمی زندگی میں بھی کامیابی کی ضامن بنتی ہے۔ لہٰذا حقیقی کامیابی مال و زر اور ظاہری شان و شوکت کے حصول میں نہیں بلکہ باطن کی طہارت اور تقوی اختیار کرنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی}’’اور نیک انجام تقویٰ کا ہے۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۳۲)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:  {إِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ}’’بے شک نیک انجام متقیوں کا ہے۔‘‘ (ھود: ۴۹)۔ ایک اور جگہ ارشاد باری ہے: {إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا} ’’بے شک متقیوں کے لیے بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (النبا: ۳۱) ۔ ’’تقویٰ‘‘ کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے رنج و نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ کبھی کبھی یہ لفظ خوف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام تقویٰ ہے جو گناہ کا باعث اور خدائے تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو۔ تقویٰ کے مفہوم کو اس روایت کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے: ’’ایک شخص نے حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھا: تقویٰ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے کبھی کانٹے دار راستہ اختیار کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے فرمایا: پھر تم نے گزرتے وقت کیا کیا تھا؟ اس نے کہا جب میں کانٹا دیکھتا تو اس سے ہٹ جاتا یا اس سے بچ کر نکل جاتا یا اس سے نہیں گزرتا۔ فرمایا: یہی تقویٰ ہے۔‘‘ (کتاب الزھد الکبیر للبیہقیؒ،  حدیث نمبر ۹۶۳)۔
حدیث کامدعا یہ ہے کہ جس طرح جھاڑی دار اور کانٹے دار راستوںسے گزرتے وقت انسان اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر بچتا بچاتا نکل جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح سفر حیات میں گناہ میں ملوث کرنے والے شیطانی جالوں، نفس کی چالوں اور بے جا خواہشات کی تکمیل سے بچتے بچاتے گزر جانے کا نام تقویٰ ہے۔ یہ بات گرچہ ممنوعات شرعیہ کے چھوڑ دینے سے حاصل ہوجاتی ہے لیکن اس میں مرتبۂ کمال حاصل کرنے کے لیے بہت سی مشتبہ اور مباح چیزوں کو بھی ترک کردینا پڑتا ہے۔ چنانچہ مشتبہ چیزوں کو ترک کرنے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ترجمہ): ’’بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہات ہیں جن کو لوگوں کی بڑی تعداد نہیں جانتی، پس جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور آبرو کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑگیا وہ بالآخر حرام میں بھی پڑ گیا، جیسے چرواہا جو (شاہی محفوظ) چراگاہ کے اردگرد (بکریاں) چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس (چراگاہ) میں داخل ہوکرچرنے لگیں (اور وہ شاہی مجرم قرار پائے)، دیکھو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ خبردار رہو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء (یا حدود اللہ) ہیں۔ ‘‘ (صحیح مسلمؒ، جزء حدیث نمبر ۴۰۹۴، بروایت نعمان بن بشیرؓ)۔
اسی طرح تقویٰ کے حصول کے لیے مباح چیزوں کو ترک کرنے کے سلسلے میں آپؐ کاارشاد ہے: ’’کوئی بندہ متقیوں کے مقام کونہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو کہ جس میں کوئی حرج نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لئے نہ چھوڑ دے جس میں حرج (برائی) ہے‘‘۔ (سنن ترمذیؒ، حدیث نمبر  ۲۴۵۱، بروایت عطیہ سعدیؓ)۔ مباح وہ امور ہیں جن کے کرنے یا نہ کرنے پر کوئی شرعی حکم نہ ہو، انسان چاہے تو انھیں کرے ، چاہے تو نہ کرے، اور ان کے کرنے یا نہ کرنے پر گناہ یا ثواب کا معاملہ نہ بنتا ہو۔ اسے ’’جائز‘‘، ’’روا‘‘، ’’حلال‘‘ یا ’’شرعی اجازت یافتہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح مکروہ وہ فعل ہے جس کی ممانعت واضح نہ ہو لیکن شرعاً اسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہو اور اس سے بچنے کی ترغیب دی جاتی ہو۔ ا حادیث بالا کا پیغام یہ ہے کہ انسان اگر تقویٰ کے اعلیٰ مراتب کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو مشتبہ چیزوں سے بھی پرہیز کرے ، بے فائدہ یا لایعنی حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دے اور ان چیزوں سے بھی احتراز کرے جو کراہت کے ساتھ جائز ہیں کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کے قریب جانے کے مترادف ہے جس سے حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتاہے۔
اس طرح تقویٰ گویا دینی امور میںحد درجہ احتیاط اور پرہیزگاری کا نام ہے۔ یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہوجانے کے بعد انسان زندگی کے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا لحاظ رکھنے لگتا ہے، اپنے اعضا و جوارح کو ان کی مرضی کے موافق استعمال کرتا ہے، اپنی خواہشات کو احکام شریعت کے تابع کردیتا ہے، ہر دم نیکیوں کی طرف راغب رہتا ہے، اور ہر قسم کے منکرات، مشتبہات اور لایعنی مباحات سے خود کو بچانے لگتا ہے۔ یہ کیفیت دل میں خوف خدا کے موجزن ہونے کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے ۔ اس لیے قرآن و حدیث میںتقوے کا محل دل کو بتایا گیا ہے حالاں کہ اس کے اثرات اعضا و جوارح سے صادر ہونے والے اعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے : ’’یہی (حق) ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یقینا یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘‘ (الحج: ۳۲)۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تقویٰ یہاں ہے، اور تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۶۵۴۱)۔ آپؐ کا یہ بھی فرمان ہے: ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمھارے جسموں کو نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمھاری صورتوں اور تمھارے اموال کو بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر۶۵۴۲ اور ۶۵۴۳)۔
اس لیے تقویٰ کسی ظاہری ہیئت، شکل و صورت یا وضع قطع کے اختیار کرنے کا نام نہیں ہے جس کی نمائش کرکے ایک انسان متقی بن جائے یا خود کو متقی باور کرائے بلکہ یہ دل کو رضائے الٰہی کے تابع کردینے کا نام ہے۔ جس شخص کا دل رضائے الٰہی کے تابع ہوجائے ، وہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کا پاس و لحاظ ضرورکھے گا، نیز اپنی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل میں شرعی حدود و قیود سے کبھی دانستہ تجاوز نہیں کرے گا اور اگر کبھی ایسا ہوجائے تو فوراً توبہ و استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا۔ اس طرح جیسے جیسے وہ تقویٰ کے مدارج طے کرتا جائے گا، اس سے گناہوں کے صدور کا امکان بھی کم سے کم تر ہوتا جائے گا، برائیاںاس سے دور ہوتی جائیں گی اور نیکیاں اس کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بن جائیںگی۔ اس لیے قرآن کریم میں تقویٰ اختیار کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کم از کم ۲۴۱ جگہ کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر ہے، کہیں اس کی ہدایت کی گئی ہے تو کہیں اس کے فضائل اور انعامات کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ ایک جگہ حکم ربانی ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘ (التوبۃ: ۱۱۹)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جہاں تک تمھاری استطاعت ہو۔‘‘ (التغابن: ۱۶)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے عقل والو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ ‘‘ (المائدۃ: ۱۰۰)۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے ساری عبادتوں کا مقصود دراصل تقویٰ کو ہی قرار دیا گیاہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرۃ:  ۲۱)۔ تقویٰ گویاایک مسلمان کی عملی زندگی کا نصب العین ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو ایمان کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ ارشاد باری ہے: ’’بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘ (الحجرات: ۱۳)۔ متقی اور پرہیز گار لوگ دراصل اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا دوست بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی بشارت ہے: ’’بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (التوبۃ: ۴ ، ۷)۔ دوسری جگہ ارشاد باری ہے: ’’اوراللہ تعالیٰ متقیوں کا دوست ہے۔‘‘ (الجاثیۃ: ۱۹)۔ ایک اور جگہ فرمایا: ’’اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۹۴) ۔
  تقویٰ کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو ایسی نگاہ بصیرت سے نواز دیتا ہے جس سے وہ حق و باطل، صحیح و غلط اور ہدایت و گمراہی کے درمیان آسانی سے فرق قائم کرلیتے ہیں اور راہ ہدایت پر گامزن رہتے ہیں۔ اسی نور بصیرت کو قرآن کریم نے لفظ ’’فرقان ‘‘سے تعبیر کیا ہے جس کا تذکرہ اس آیت مبارکہ میں ہے: (ترجمہ): ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی روش اختیار کروگے تو وہ تمہیں فرقان (حق و باطل کی تمیز کی قوت) عطا فرمائے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ (الانفال: ۲۹)۔ اس آیت میں متقیوںکو فرقان عطا کرنے، ان سے برائیوں کو دور کرنے، اور ان کی لغزشوں کو معاف کرنے کے خدائی وعدے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ نیز اسی تقویٰ پر دنیا میں مومنوں کے ساتھ نصرت، رحمت اور برکت کے وعدے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے (ہر مشکل سے) نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں رکھتا اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے کافی ہوجاتاہے، یقینا اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ ‘‘ (الطّلاق: ۲ – ۳)۔ آگے ارشاد فرمایا: ’’اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے اس کے (ہر) کام میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔‘‘ (الطّلاق:۴)۔ نیز فرمایا: ’’اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔‘‘ (الاعراف:  ۹۶)۔
پھراسی تقویٰ پر آخرت میں گناہوں کی مغفرت، ہر قسم کے رنج و غم سے نجات اور حتمی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے : ’’جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا اور اسے بہت بڑا اجر و ثواب بھی عطا کرے گا۔ ‘‘ (الطّلاق:۵)۔ نیز ارشاد ہے: ’’اور جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، اللہ ان کو کامیابی کے ساتھ نجات دے گا، انہیں کوئی برائی (تکلیف) چھوئے گی بھی نہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ (الزمر: ۶۱)۔ دوسری جگہ تقویٰ کو ولایت کی علامت بتایا گیا ہے اور متقی لوگوں کو دنیوی و اخروی کامیابی کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ ارشاد باری ہے: ’’یاد رکھو کہ جو اللہ کے ولی ہیں، ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگیں ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میںبھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (یونس: ۶۲ – ۶۴)۔
مزید برآن اسی تقویٰ پر آخرت میں بہترین اجر اور جنت کا وعدہ کیا گیاہے۔ ارشادخداوندی ہے: ’’آخرت کا جو اجر ہے وہ ان لوگوں کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لاتے اور تقویٰ پر کاربند رہتے ہیں۔‘‘ (یوسف: ۵۷)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’بے شک متقی لوگ (جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی ہے)باغات اور نہروں میں ہوں گے، ایک سچی عزت والی نشست میں، اس بادشاہ کے پاس جس کے قبضے میں سارا اقتدار ہے۔‘‘ (القمر: ۵۴ – ۵۵)۔ نیز ارشاد باری ہے: ’’وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اس کے پھل بھی سدا بہار ہیں اور اس کی چھاؤں بھی۔ یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے۔‘‘(الرعد: ۳۵)۔
الغرض تقویٰ کا مقام اسلام میں بہت اعلیٰ و ارفع ہے اور جو شخص اس کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوجائے اس کی کامیابی یقینی ہے۔ اس لیے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام امور میںتقویٰ کے حصول کو پیش نظر رکھے اور اس راہ کی مشقتوں کو خندہ پیشی کے ساتھ برادشت کرے۔ ان شاء اللہ وہ آخرت میں ہنستا مسکراتا جنت میں داخل ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بندۂ عاجز کو بھی آخرت میں ان متقی لوگوں میں شامل کرلے جن پر اس نے انعام کا وعدہ فرمایا ہے، بندہ اگرچہ خود کو تقویٰ والوں میں تو نہیں سمجھتا لیکن اس کی دلالت کرنے والوں میں تو ضرور ہی شامل ہے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’إِنَّ الدَّال عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ‘‘  ’’بے شک خیر کی دلالت کرنے والا اس (خیر) کے کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘ (سنن ترمذیؒ، حدیث نمبر۲۶۷۰)۔اللہ رب العزت سے یہ بھی التجا ہے کہ اس تحریر کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنادے اور احقر کے لیے ذخیرۂ آخرت۔ آمین یا رب العالمین! وما علینا الا البلاغ!
 ٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں