
عباس حیدر ڈار
کربلا کو محض ایک تاریخی سانحہ یا مذہبی روایت کے قالب میں مقید کر دینا، اس کے ہمہ گیر اخلاقی، فکری اور تہذیبی مضمرات کو محدود کر دینے کے مترادف ہے۔ واقعۂ کربلا اپنے جوہر میں کسی مخصوص عہد، جغرافیے یا مسلکی شناخت کا اسیر نہیں، بلکہ وہ انسانی ضمیر کی آزادی، اخلاقی استقلال اور حق کے اعلائے کلمہ کی ایسی آفاقی تعبیر ہے جو ہر عہد میں ظلم و استبداد کے بالمقابل ایک زندہ استعارہ بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔
عام طور پر یہ تصور رائج ہے کہ حسینیت کی ضد یزیدیت ہے، حالانکہ اگر واقعۂ کربلا کو اس کے فکری اور اخلاقی تناظر میں دیکھا جائے تو حقیقت اس سے کہیں زیادہ عمیق اور ہمہ گیر ہے۔ حسینیت کی حقیقی ضد محض یزیدیت نہیں، بلکہ امتثالِ بے شعور (Conformism) اور جائر اقتدار کے روبرو انقیاد (Submission) ہے۔
سن 61 ہجری میں، جب اکثریت نے خوف، مصلحت اور دنیاوی مفادات کے تحت یزید کی بیعت کو قبول کر لیا، امام حسینؑ نے اپنے موقف سے ایک لمحہ بھی انحراف نہ کیا۔ ان کا انکار کسی سیاسی اقتدار کی کشمکش نہ تھا، بلکہ وہ حق و باطل، عدل و ظلم اور عزت و ذلت کے درمیان ایک فیصلہ کن اخلاقی امتیاز کا اعلان تھا۔
امام حسینؑ کی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لئے نہیں بلکہ اقدار کے تحفظ کے لئے تھی۔ ان کی مزاحمت کسی شخصی مفاد یا سیاسی مہم جوئی کا اظہار نہیں بلکہ صداقت، عدالت اور انسانی کرامت کی بقا کے لئے ایک شعوری اور اصولی قیام تھا۔ اسی بنا پر حسینیت کسی مخصوص مذہبی روایت یا تاریخی مرحلے تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لئے ایک اخلاقی معیار ہے جو جبر کے مقابل اپنی آزادیِ ضمیر کا تحفظ چاہتا ہے۔
عصرِ حاضر، اپنی تمام تر سائنسی و تکنیکی ترقی کے باوجود، فکری یکسانیت اور اجتماعی امتثال کے ایک غیر محسوس مگر نہایت گہرے بحران سے دوچار ہے۔ ذرائع ابلاغ، صارفیت، سیاسی بیانیے اور سماجی دباؤ انسان کو بتدریج اس مقام تک لے آتے ہیں جہاں اختلافِ رائے جرم، سوال اٹھانا بغاوت، اور خاموشی دانشمندی قرار پاتی ہے۔ اس ماحول میں صداقت کا اظہار محض ایک فکری عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی مخاطرے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
ایسے ہی حالات میں حسینیت اپنی کامل معنویت کے ساتھ ابھرتی ہے۔ وہ ہمیں یہ شعور عطا کرتی ہے کہ اکثریت ہمیشہ حق کی ضامن نہیں ہوتی، اور بسا اوقات تنہا حق پر قائم رہنا، باطل کے عظیم الشان ہجوم کا حصہ بن جانے سے کہیں زیادہ باوقار اور باعظمت ہوتا ہے۔
کربلا کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یزیدی لشکر کا بنیادی مقصد امام حسینؑ کا قتل نہیں بلکہ ان کی اطاعت اور انقیاد تھا۔ اگر مقصود صرف قتل ہوتا تو یہ امر لمحوں میں انجام پا سکتا تھا، مگر اہلِ بیتؑ پر مسلسل مظالم اس لئے ڈھائے گئے کہ امامؑ اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار ہو جائیں۔ تاہم امام حسینؑ نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے زندہ رہنے سے کہیں زیادہ عظیم ہے کہ انسان حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرے۔
اسی حقیقت کا نچوڑ آپؑ کے اس تاریخی اعلان میں جلوہ گر ہے:
"مِثلی لا یُبایعُ مِثلَہ”
"مجھ جیسا شخص اس جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔”
یہ محض ایک سیاسی اعلان نہ تھا بلکہ انسانی ضمیر کی آزادی کا ابدی منشور تھا۔ اس اعلان نے واضح کر دیا کہ جائر اقتدار کے سامنے خاموشی اختیار کرنا، یا اس کی مشروعیت کو تسلیم کر لینا، ظلم کے دوام میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔
آج جب دنیا استبداد، اخلاقی اضافیت، اطلاعاتی مغالطوں اور نظامی ناانصافی کے ایک پیچیدہ عہد سے گزر رہی ہے، حسینیت کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ وہ اعلان کرتی ہے کہ عدل کے بغیر امن ایک فریب ہے، ضمیر کے بغیر اطاعت انسانیت کی نفی ہے، اور ظلم کے سامنے غیر جانب داری درحقیقت ظلم کی اعانت ہے۔
حسینیت انسان کو اپنے باطن میں موجود اس آزاد ضمیر کو بیدار کرنے کی دعوت دیتی ہے جو حق، عدل اور انسانی وقار کے سوا کسی قوت کے سامنے سرنگوں ہونے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہی کربلا کا آفاقی پیغام ہے، یہی امام حسینؑ کی قربانی کا حقیقی مفہوم، اور یہی وہ اخلاقی وراثت ہے جو ہر عہد کے انسان کو ظلم کے مقابل قیام اور حق کی خاطر استقامت کا درس دیتی ہے۔
اگر واقعۂ کربلا کو محض تاریخ کا ایک باب سمجھ کر پڑھا جائے تو وہ ماضی کی ایک المناک یاد بن کر رہ جاتا ہے؛ لیکن اگر اسے ایک زندہ اخلاقی و فکری مکتب کے طور پر سمجھا جائے تو حسینیت ہر زمانے میں آزادیِ ضمیر، عدالتِ اجتماعی اور انسانی کرامت کی سب سے توانا آواز بن کر ابھرتی ہے۔
مزید برآں، اخلاقی اضافیت (Ethical Relativism) کے اس عہد میں حسینیت ایک واضح اخلاقی قطب نما بھی فراہم کرتی ہے۔ جہاں عصرِ حاضر کے بیانیے ہر قیمت پر بقا کو کامیابی قرار دیتے ہیں، وہاں حسینیت ہر قیمت پر صداقت، دیانت اور اصولوں کے تحفظ کا درس دیتی ہے۔ یہ ہمارے باطن میں مضمر اس "حسین” کو بیدار کرنے کی دعوت ہے جو حق، عدل اور انسانی کرامت کے سوا کسی قوت کے سامنے سرِ انقیاد خم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔


