امرناتھ یاترا: روحانیت، رواداری اور قومی یکجہتی کی علامت

رشید پروین
سوپور، کشمیر

57 روزہ شری امرناتھ یاترا اگرچہ 3 جولائی سے پہلگام اور بالتل، دونوں راستوں سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی، لیکن گزشتہ مہینے سے ہی سرکاری مشینری اس یاترا کے ہر پہلو کا جائزہ لے رہی ہے اور وہ تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو اس یاترا کو بغیر کسی خلل یا کسی ناخوشگوار واقعے کے اپنے انجام تک پہنچا سکیں۔
یہ یاترا محض ایک رسم نہیں، بلکہ سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس کی اہمیت اور افادیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ یہ شکتی پیٹھ اس سرزمین میں واقع ہے جو صدیوں سے امن، شانتی، بھائی چارے اور روحانی اقدار کی حامل رہی ہے۔ یہاں کے عوام نے اپنے اشتراک، اپنی خدمت اور یاتریوں کی سہولیات کے لئے بے مثال خدمات انجام دی ہیں، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

اس حقیقت کا اعتراف حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نہایت شاندار اور خوبصورت الفاظ میں گورنمنٹ وومنز ڈگری کالج، اننت ناگ میں منعقدہ شری امرناتھ یاترا پر بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ:
’’شری امرناتھ یاترا بھارت کے روحانی شعور، ثقافتی ورثے اور انسانی اقدار کی زندہ علامت ہے، جسے زندہ رکھنا، فروغ دینا اور نئی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدس یاترا سماجی اتحاد، باہمی احترام اور باطنی تزکیے کا پیغام دیتی ہے، اور یہ صبر، عبادت اور خالق سے روحانی تعلق کا ایسا سفر ہے جو انسان کو اپنے باطن کی روشنی تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سفر میں یہاں کے مقامی کئی خاندان اور برادریاں صدیوں سے یاتریوں کی خدمت کرتی آئی ہیں، اور یہ اس مشترکہ انسانی شعور کی عکاس ہیں جو مذہب، زبان اور برادری کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔
اس یاترا کی ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ مختلف حصوں سے آنے والے زائرین اپنی اپنی زبانیں، ثقافتیں اور روایات بھی ساتھ لاتے ہیں، جس سے باہمی احترام، محبت اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ’’تنوع میں اتحاد ہی ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ہے۔‘‘
یہ نہایت حسین اور دلنشین الفاظ ہیں اور ہر دور اور ہر زمانے کے لئے حقیقت کے عکاس بھی۔ کیا یہ گنگا جمنی تہذیب و تمدن کے جسم میں چھپی ہوئی روح کا ادراک نہیں؟
کشمیر کے جسم میں تو یہ روح ہزاروں برس سے موجود ہے اور آئندہ بھی رہے گی، لیکن ہمیں پورے بھارت میں اسی ادراک، فہم اور شعور کو فروغ دینے اور پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس شعور اور فہم و ادراک کی مثالیں ہمیں حضرت نظام الدینؒ، اجمیر شریف اور دوسرے اولیائے اللہ کے آستانوں پر بھی روزِ روشن کی طرح صاف نظر آتی ہیں، جہاں ہر روز ہندو، مسلمان اور دوسرے مذاہب، نیز مختلف ثقافتوں، تمدنوں اور تہذیبوں سے وابستہ ہزاروں لوگ ان نورانی آماجگاہوں پر حاضری دیتے ہیں، جہاں ہمیں عقیدت، احترام اور انسانیت سے پیار کی اعلیٰ اقدار درخشاں نظر آتی ہیں۔

واقعی بھارت کی اصل روح اسی تنوع میں زندہ رہ کر ساری دنیا کے لئے امن و چین کا پیغام بن سکتی ہے، لیکن اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
امرناتھ غار کی تاریخ سے شاید بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یہاں ایک مختصر سا منظر اور پس منظر عوام کی واقفیت کے لئے پیش کرنا مقصود ہے، کسی قسم کا تجزیہ یا تبصرہ نہیں۔
اس گپھا کی اہمیت ہندو عقائد اور میتھالوجی میں کیا ہے، اور اس میں وہ کیا چیز ہے جس کی بنا پر برصغیر کے شکتی پیٹھ مقامات میں اس کا نمبر 51 ہے، یہ بھی ایک اہم تیرتھ یاترا کے طور پر جانا جاتا ہے۔
امرناتھ گپھا ضلع اننت ناگ کی لدر وادی میں واقع ہے، اور یہ 3,888 میٹر، یعنی 12,756 فٹ کی بلندی پر اسلام آباد (اننت ناگ) سے 168 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پہلگام کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہ خوابوں کی سرزمین ہے، اور کشمیر آنے والے لوگ لازماً یہاں آ کر ابدی اور ازلی حسن کا ادراک کر لیتے ہیں۔ یہیں سے اصل میں امرناتھ کا سفر شروع ہوتا ہے، اور ایک طرح سے یہ حسین سرزمین امرناتھ یاترا کے لئے بیس کیمپ مانی جاتی ہے۔
یہ ہندوؤں کا تیرتھ استھان اور مقدس غار گلیشیروں کی کوکھ میں واقع ہے۔ چاروں طرف گلیشیروں کا حصار ہے اور راستہ بھی دشوار گزار ہے، لیکن درشن کی چاہت اور آرزو کشاں کشاں اطراف و اکناف اور دور دراز کے بھارت واسیوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔
یہ برف پوش پہاڑ اور ہزاروں برس پرانے گلیشیئر انسانی سوچ کو دستک بھی دیتے ہیں، اور اس گپھا کا یہاں ہونا قدرت کی نشانیوں میں ایک عظیم نشانی محسوس ہوتا ہے۔ گلیشیروں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے بیچ یہ ایک وسیع غار ہے۔ اس میں داخل ہونے کا دروازہ لگ بھگ چالیس گز چوڑا ہے، اس کی بلندی تقریباً 75 فٹ ہے، جبکہ یہ غار پہاڑ کے اندر تقریباً 80 فٹ گہرائی تک جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ گپھا حیران کن ہے، جس کی اہمیت شیو لنگھم سے وابستہ ہے، اور اسی شیو لنگھم کی وجہ سے یہ تیرتھ استھان بھی ہے اور مشہور و معروف بھی۔

یہ شیو لنگھم کیا ہے؟ اس کے ساتھ کئی کہانیاں بھی جڑی ہوئی ہیں، لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ لنگھم اس غار کی چھت سے جون اور جولائی کے مہینوں میں ٹپکنے والے پانی کے قطروں سے وجود میں آتا ہے۔ یہ قطرے چھت سے فرش پر گرتے ہیں، جم جاتے ہیں، اور اس طرح آہستہ آہستہ لنگھم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
جب یہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہی یاتریوں کے اصل درشن کے دن ہوتے ہیں۔ اس لنگھم کو شیو کی physical manifestation تصور کیا جاتا ہے، جس کے درشن کے لئے لاکھوں عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔
اس لنگھم کے ساتھ پاروتی اور گنیش کی برفیلی شکلیں بھی موجود ہوتی ہیں، اور ان کی ماہیت بھی اسی طرح icicles سے وجود پاتی ہے۔
لنگھم ہندو عقائد کے مطابق چاند کے ساتھ ہی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے، جبکہ اگست تک یہ آہستہ آہستہ پگھل کر معدوم ہو جاتا ہے۔ ہندو روایت کے مطابق پاروتی نے کسی موقع پر لارڈ شیوا سے ابدی زندگی کا راز جاننا چاہا تھا۔ شیوا نے ایک عرصے تک یہ راز بتانے سے گریز کیا، لیکن آخر ایک دن انہوں نے یہ راز پاروتی پر منکشف کرنے کا فیصلہ کیا۔ شیوا کا ماننا تھا کہ یہ راز بتانے کے لئے ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں ان دونوں کے سوا کسی اور کے پہنچنے یا اس راز کے ظاہر ہونے کا کوئی احتمال نہ ہو۔ اسی لئے انہوں نے اس مقام کا انتخاب کیا۔ شیوا کو یقین تھا کہ گلیشیروں کے درمیان، اتنی بلندی پر واقع اس مقام تک صرف دیوی دیوتا ہی پہنچ سکتے ہیں۔

چنانچہ اس مقام کی طرف سفر شروع ہوا، اور دورانِ سفر وہ اپنی تمام چیزیں مختلف مقامات پر چھوڑتے گئے۔ مثلاً انہوں نے ’’نندی‘‘ میں اپنا بیل چھوڑا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ تصویروں میں وہ ہمیشہ بیل پر سوار دکھائی دیتے ہیں۔ پھر چندن واڑی میں انہوں نے اپنے بالوں سے چاند کو الگ کیا، اور آگے بڑھتے ہوئے شیش ناگ میں اپنے ناگ کو چھوڑ دیا، جو تصویروں میں ہمیشہ ان کے گلے میں آویزاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد پنج ترنی میں انہوں نے اپنی زندگی کے وہ پانچ عناصر بھی چھوڑ دیے جن سے زندگی کا وجود قائم ہے، یعنی زمین، پانی، آگ، ہوا اور آسمان۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹے گنیش کو بھی ’’مہاگناس‘‘ چوٹی پر چھوڑ کر آگے بڑھے۔
اس تیرتھ استھان کے یاتری انہی مقامات سے گزرتے ہوئے گپھا تک پہنچتے ہیں۔
اگر ’’امرناتھ‘‘ کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ دو لفظوں پر مشتمل ہے۔ ’’امر‘‘، جس کے معنی Eternal یعنی لافانی ہیں، جبکہ ’’ناتھ‘‘ کے معنی لارڈ یا دیوتا کے ہیں۔
ہندو عقائد کے مطابق شیوا اپنی دیوی پاروتی کو یہاں اس لئے لائے تھے تاکہ جو راز وہ منکشف کرنے والے تھے، اس سے کوئی تیسری ہستی واقف نہ ہو سکے۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ جب شیوا ان تمام چیزوں سے، جو انہوں نے مختلف مقامات پر چھوڑی تھیں، مکمل طور پر دستبردار ہو گئے تو سب سے پہلے دونوں نے ’’تانڈو‘‘ رقص کیا۔ اس کے بعد پاروتی کو راز بتانے سے پہلے مزید احتیاط کے طور پر کال اگنی کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ آس پاس موجود ہر چیز کو بھسم کر دے۔
تاہم، شیوا کے تخت کے نیچے کبوتروں کے دو انڈے کسی نہ کسی طرح محفوظ رہ گئے، جن سے بعد میں کبوتروں کی ایک جوڑی نکلی۔ روایت کے مطابق انہی کبوتروں نے ابدی زندگی کا راز سن لیا تھا، اور ہندو عقائد کے مطابق یہ کبوتروں کی جوڑی بھی امر ہو گئی۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں ان باتوں پر کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کر رہا ہوں، بلکہ صرف روایات بیان کر رہا ہوں۔
بہرحال، شیوا نے اسی مقام پر اپنی دیوی پاروتی کو اس راز سے آگاہ کیا۔ ظاہر ہے کہ چونکہ لارڈ شیوا اور پاروتی نے یہاں قیام کیا، اور شیو لنگھم بھی شیوا کی نمائندگی کرتا ہے، اس لئے اگر اس انداز میں لنگھم نہ بھی بنتا، تب بھی یہ مقام مقدس ہی رہتا اور اسے پوتر استھان کا درجہ حاصل رہتا۔
ایک سنسکرت کتاب ’’برنگی شا سمہیتا‘‘ میں اس یاترا کی ابتدا کے بارے میں درج ہے کہ ایک سادھو نے سب سے پہلے اپنے چیلوں کی توجہ اس استھان کی طرف مبذول کرائی اور انہیں لنگھم کے درشن کرنے کی ہدایت دی۔
جب اس کے چیلے اس سفر پر روانہ ہوئے تو راستے میں راکشسوں نے انہیں پریشان کیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ چنانچہ وہ واپس برنگی شا کے پاس فریاد لے کر آئے۔ برنگی شا نے شیوا کی پرارتھنا کی، جس پر لارڈ شیوا نے انہیں ایک تبرک عطا کیا، جسے ’’چھڑی مبارک‘‘ کا نام دیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک یاتریوں کا سب سے بڑا جتھا منظم انداز میں اسی چھڑی مبارک کے ساتھ سفر کرتا ہے۔
ایک اور لوک روایت کے مطابق یہ غار 1850ء میں بوٹا ملک نامی ایک مسلمان گڈریے نے دریافت کیا تھا۔ اس حوالے سے بھی ایک حیرت انگیز کہانی بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کو یہاں ایک سادھو ملا، جس نے اسے کوئلے سے بھرا ایک تھیلا دیا۔ جب وہ گڈریا گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ کوئلہ سونے میں تبدیل ہو چکا تھا۔
یہ دیکھ کر وہ سادھو کو تلاش کرتے ہوئے دوبارہ اسی مقام پر پہنچا، لیکن سادھو کے بجائے اسے یہ گپھا نظر آئی، اور اس طرح بیرونی دنیا کو اس گپھا کے بارے میں معلوم ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کا خاندان ایک طویل عرصے تک اس غار کا نگران یا منتظم رہا، لیکن سن 2000ء سے شری امرناتھ شرائن بورڈ نے اس کا تمام انتظام سنبھال لیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں 40 سالہ شخص کی گھر سے لاش برآمد، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

سرینگر۔ حکام کے مطابق جمعرات کے روز سری نگر کے...

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں 40 سالہ شخص کی گھر سے لاش برآمد، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

سرینگر۔ حکام کے مطابق جمعرات کے روز سری نگر کے...

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

امرناتھ یاترا: روحانیت، رواداری اور قومی یکجہتی کی علامت

رشید پروین
سوپور، کشمیر

57 روزہ شری امرناتھ یاترا اگرچہ 3 جولائی سے پہلگام اور بالتل، دونوں راستوں سے شروع ہو کر 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی، لیکن گزشتہ مہینے سے ہی سرکاری مشینری اس یاترا کے ہر پہلو کا جائزہ لے رہی ہے اور وہ تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو اس یاترا کو بغیر کسی خلل یا کسی ناخوشگوار واقعے کے اپنے انجام تک پہنچا سکیں۔
یہ یاترا محض ایک رسم نہیں، بلکہ سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس کی اہمیت اور افادیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ یہ شکتی پیٹھ اس سرزمین میں واقع ہے جو صدیوں سے امن، شانتی، بھائی چارے اور روحانی اقدار کی حامل رہی ہے۔ یہاں کے عوام نے اپنے اشتراک، اپنی خدمت اور یاتریوں کی سہولیات کے لئے بے مثال خدمات انجام دی ہیں، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

اس حقیقت کا اعتراف حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نہایت شاندار اور خوبصورت الفاظ میں گورنمنٹ وومنز ڈگری کالج، اننت ناگ میں منعقدہ شری امرناتھ یاترا پر بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ:
’’شری امرناتھ یاترا بھارت کے روحانی شعور، ثقافتی ورثے اور انسانی اقدار کی زندہ علامت ہے، جسے زندہ رکھنا، فروغ دینا اور نئی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقدس یاترا سماجی اتحاد، باہمی احترام اور باطنی تزکیے کا پیغام دیتی ہے، اور یہ صبر، عبادت اور خالق سے روحانی تعلق کا ایسا سفر ہے جو انسان کو اپنے باطن کی روشنی تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سفر میں یہاں کے مقامی کئی خاندان اور برادریاں صدیوں سے یاتریوں کی خدمت کرتی آئی ہیں، اور یہ اس مشترکہ انسانی شعور کی عکاس ہیں جو مذہب، زبان اور برادری کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔
اس یاترا کی ایک اور اہمیت یہ بھی ہے کہ مختلف حصوں سے آنے والے زائرین اپنی اپنی زبانیں، ثقافتیں اور روایات بھی ساتھ لاتے ہیں، جس سے باہمی احترام، محبت اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ’’تنوع میں اتحاد ہی ہندوستانی تہذیب کی اصل روح ہے۔‘‘
یہ نہایت حسین اور دلنشین الفاظ ہیں اور ہر دور اور ہر زمانے کے لئے حقیقت کے عکاس بھی۔ کیا یہ گنگا جمنی تہذیب و تمدن کے جسم میں چھپی ہوئی روح کا ادراک نہیں؟
کشمیر کے جسم میں تو یہ روح ہزاروں برس سے موجود ہے اور آئندہ بھی رہے گی، لیکن ہمیں پورے بھارت میں اسی ادراک، فہم اور شعور کو فروغ دینے اور پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس شعور اور فہم و ادراک کی مثالیں ہمیں حضرت نظام الدینؒ، اجمیر شریف اور دوسرے اولیائے اللہ کے آستانوں پر بھی روزِ روشن کی طرح صاف نظر آتی ہیں، جہاں ہر روز ہندو، مسلمان اور دوسرے مذاہب، نیز مختلف ثقافتوں، تمدنوں اور تہذیبوں سے وابستہ ہزاروں لوگ ان نورانی آماجگاہوں پر حاضری دیتے ہیں، جہاں ہمیں عقیدت، احترام اور انسانیت سے پیار کی اعلیٰ اقدار درخشاں نظر آتی ہیں۔

واقعی بھارت کی اصل روح اسی تنوع میں زندہ رہ کر ساری دنیا کے لئے امن و چین کا پیغام بن سکتی ہے، لیکن اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
امرناتھ غار کی تاریخ سے شاید بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یہاں ایک مختصر سا منظر اور پس منظر عوام کی واقفیت کے لئے پیش کرنا مقصود ہے، کسی قسم کا تجزیہ یا تبصرہ نہیں۔
اس گپھا کی اہمیت ہندو عقائد اور میتھالوجی میں کیا ہے، اور اس میں وہ کیا چیز ہے جس کی بنا پر برصغیر کے شکتی پیٹھ مقامات میں اس کا نمبر 51 ہے، یہ بھی ایک اہم تیرتھ یاترا کے طور پر جانا جاتا ہے۔
امرناتھ گپھا ضلع اننت ناگ کی لدر وادی میں واقع ہے، اور یہ 3,888 میٹر، یعنی 12,756 فٹ کی بلندی پر اسلام آباد (اننت ناگ) سے 168 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پہلگام کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہ خوابوں کی سرزمین ہے، اور کشمیر آنے والے لوگ لازماً یہاں آ کر ابدی اور ازلی حسن کا ادراک کر لیتے ہیں۔ یہیں سے اصل میں امرناتھ کا سفر شروع ہوتا ہے، اور ایک طرح سے یہ حسین سرزمین امرناتھ یاترا کے لئے بیس کیمپ مانی جاتی ہے۔
یہ ہندوؤں کا تیرتھ استھان اور مقدس غار گلیشیروں کی کوکھ میں واقع ہے۔ چاروں طرف گلیشیروں کا حصار ہے اور راستہ بھی دشوار گزار ہے، لیکن درشن کی چاہت اور آرزو کشاں کشاں اطراف و اکناف اور دور دراز کے بھارت واسیوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔
یہ برف پوش پہاڑ اور ہزاروں برس پرانے گلیشیئر انسانی سوچ کو دستک بھی دیتے ہیں، اور اس گپھا کا یہاں ہونا قدرت کی نشانیوں میں ایک عظیم نشانی محسوس ہوتا ہے۔ گلیشیروں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے بیچ یہ ایک وسیع غار ہے۔ اس میں داخل ہونے کا دروازہ لگ بھگ چالیس گز چوڑا ہے، اس کی بلندی تقریباً 75 فٹ ہے، جبکہ یہ غار پہاڑ کے اندر تقریباً 80 فٹ گہرائی تک جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ گپھا حیران کن ہے، جس کی اہمیت شیو لنگھم سے وابستہ ہے، اور اسی شیو لنگھم کی وجہ سے یہ تیرتھ استھان بھی ہے اور مشہور و معروف بھی۔

یہ شیو لنگھم کیا ہے؟ اس کے ساتھ کئی کہانیاں بھی جڑی ہوئی ہیں، لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ لنگھم اس غار کی چھت سے جون اور جولائی کے مہینوں میں ٹپکنے والے پانی کے قطروں سے وجود میں آتا ہے۔ یہ قطرے چھت سے فرش پر گرتے ہیں، جم جاتے ہیں، اور اس طرح آہستہ آہستہ لنگھم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
جب یہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہی یاتریوں کے اصل درشن کے دن ہوتے ہیں۔ اس لنگھم کو شیو کی physical manifestation تصور کیا جاتا ہے، جس کے درشن کے لئے لاکھوں عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔
اس لنگھم کے ساتھ پاروتی اور گنیش کی برفیلی شکلیں بھی موجود ہوتی ہیں، اور ان کی ماہیت بھی اسی طرح icicles سے وجود پاتی ہے۔
لنگھم ہندو عقائد کے مطابق چاند کے ساتھ ہی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے، جبکہ اگست تک یہ آہستہ آہستہ پگھل کر معدوم ہو جاتا ہے۔ ہندو روایت کے مطابق پاروتی نے کسی موقع پر لارڈ شیوا سے ابدی زندگی کا راز جاننا چاہا تھا۔ شیوا نے ایک عرصے تک یہ راز بتانے سے گریز کیا، لیکن آخر ایک دن انہوں نے یہ راز پاروتی پر منکشف کرنے کا فیصلہ کیا۔ شیوا کا ماننا تھا کہ یہ راز بتانے کے لئے ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں ان دونوں کے سوا کسی اور کے پہنچنے یا اس راز کے ظاہر ہونے کا کوئی احتمال نہ ہو۔ اسی لئے انہوں نے اس مقام کا انتخاب کیا۔ شیوا کو یقین تھا کہ گلیشیروں کے درمیان، اتنی بلندی پر واقع اس مقام تک صرف دیوی دیوتا ہی پہنچ سکتے ہیں۔

چنانچہ اس مقام کی طرف سفر شروع ہوا، اور دورانِ سفر وہ اپنی تمام چیزیں مختلف مقامات پر چھوڑتے گئے۔ مثلاً انہوں نے ’’نندی‘‘ میں اپنا بیل چھوڑا۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ تصویروں میں وہ ہمیشہ بیل پر سوار دکھائی دیتے ہیں۔ پھر چندن واڑی میں انہوں نے اپنے بالوں سے چاند کو الگ کیا، اور آگے بڑھتے ہوئے شیش ناگ میں اپنے ناگ کو چھوڑ دیا، جو تصویروں میں ہمیشہ ان کے گلے میں آویزاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد پنج ترنی میں انہوں نے اپنی زندگی کے وہ پانچ عناصر بھی چھوڑ دیے جن سے زندگی کا وجود قائم ہے، یعنی زمین، پانی، آگ، ہوا اور آسمان۔ یہاں تک کہ اپنے بیٹے گنیش کو بھی ’’مہاگناس‘‘ چوٹی پر چھوڑ کر آگے بڑھے۔
اس تیرتھ استھان کے یاتری انہی مقامات سے گزرتے ہوئے گپھا تک پہنچتے ہیں۔
اگر ’’امرناتھ‘‘ کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ دو لفظوں پر مشتمل ہے۔ ’’امر‘‘، جس کے معنی Eternal یعنی لافانی ہیں، جبکہ ’’ناتھ‘‘ کے معنی لارڈ یا دیوتا کے ہیں۔
ہندو عقائد کے مطابق شیوا اپنی دیوی پاروتی کو یہاں اس لئے لائے تھے تاکہ جو راز وہ منکشف کرنے والے تھے، اس سے کوئی تیسری ہستی واقف نہ ہو سکے۔
ایسا کہا جاتا ہے کہ جب شیوا ان تمام چیزوں سے، جو انہوں نے مختلف مقامات پر چھوڑی تھیں، مکمل طور پر دستبردار ہو گئے تو سب سے پہلے دونوں نے ’’تانڈو‘‘ رقص کیا۔ اس کے بعد پاروتی کو راز بتانے سے پہلے مزید احتیاط کے طور پر کال اگنی کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ آس پاس موجود ہر چیز کو بھسم کر دے۔
تاہم، شیوا کے تخت کے نیچے کبوتروں کے دو انڈے کسی نہ کسی طرح محفوظ رہ گئے، جن سے بعد میں کبوتروں کی ایک جوڑی نکلی۔ روایت کے مطابق انہی کبوتروں نے ابدی زندگی کا راز سن لیا تھا، اور ہندو عقائد کے مطابق یہ کبوتروں کی جوڑی بھی امر ہو گئی۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں ان باتوں پر کوئی رائے زنی یا تبصرہ نہیں کر رہا ہوں، بلکہ صرف روایات بیان کر رہا ہوں۔
بہرحال، شیوا نے اسی مقام پر اپنی دیوی پاروتی کو اس راز سے آگاہ کیا۔ ظاہر ہے کہ چونکہ لارڈ شیوا اور پاروتی نے یہاں قیام کیا، اور شیو لنگھم بھی شیوا کی نمائندگی کرتا ہے، اس لئے اگر اس انداز میں لنگھم نہ بھی بنتا، تب بھی یہ مقام مقدس ہی رہتا اور اسے پوتر استھان کا درجہ حاصل رہتا۔
ایک سنسکرت کتاب ’’برنگی شا سمہیتا‘‘ میں اس یاترا کی ابتدا کے بارے میں درج ہے کہ ایک سادھو نے سب سے پہلے اپنے چیلوں کی توجہ اس استھان کی طرف مبذول کرائی اور انہیں لنگھم کے درشن کرنے کی ہدایت دی۔
جب اس کے چیلے اس سفر پر روانہ ہوئے تو راستے میں راکشسوں نے انہیں پریشان کیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ چنانچہ وہ واپس برنگی شا کے پاس فریاد لے کر آئے۔ برنگی شا نے شیوا کی پرارتھنا کی، جس پر لارڈ شیوا نے انہیں ایک تبرک عطا کیا، جسے ’’چھڑی مبارک‘‘ کا نام دیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک یاتریوں کا سب سے بڑا جتھا منظم انداز میں اسی چھڑی مبارک کے ساتھ سفر کرتا ہے۔
ایک اور لوک روایت کے مطابق یہ غار 1850ء میں بوٹا ملک نامی ایک مسلمان گڈریے نے دریافت کیا تھا۔ اس حوالے سے بھی ایک حیرت انگیز کہانی بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کو یہاں ایک سادھو ملا، جس نے اسے کوئلے سے بھرا ایک تھیلا دیا۔ جب وہ گڈریا گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ کوئلہ سونے میں تبدیل ہو چکا تھا۔
یہ دیکھ کر وہ سادھو کو تلاش کرتے ہوئے دوبارہ اسی مقام پر پہنچا، لیکن سادھو کے بجائے اسے یہ گپھا نظر آئی، اور اس طرح بیرونی دنیا کو اس گپھا کے بارے میں معلوم ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ بوٹا ملک کا خاندان ایک طویل عرصے تک اس غار کا نگران یا منتظم رہا، لیکن سن 2000ء سے شری امرناتھ شرائن بورڈ نے اس کا تمام انتظام سنبھال لیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں