شیخ افلاق حسین سیمانی
پلوامہ، کشمیر
کس بات کا غم ہے جو مجھے کھائے جا رہا ہے
کس سے کہوں، یہاں کوئی اپنا نظر نہیں آ رہا ہے
خاموش رہوں کب تک، یہ دل مانتا ہی نہیں
سینے میں چھپا درد مسلسل شور مچا رہا ہے
دھڑکن بھی میری اب تو رکی رکی سی لگتی ہے
یہ حال اگر رہا تو وجود بکھرا جا رہا ہے
لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں سے ہوں پریشان
تو بھی عجب ہے، جو مجھے یوں آزما رہا ہے
سکون کی تلاش میں کٹتی ہے میری رات تمام
مگر رات کا سکوت بھی مجھے چین نہ دے رہا ہے
اپنوں کی کج روش سے سہما ہوں میں، سیمانی
مل جائے کوئی اپنا تو کہنا، وہ شخص مر گیا ہے


