غزل

 

شیخ افلاق حسین سیمانی
پلوامہ، کشمیر

کس بات کا غم ہے جو مجھے کھائے جا رہا ہے
کس سے کہوں، یہاں کوئی اپنا نظر نہیں آ رہا ہے
خاموش رہوں کب تک، یہ دل مانتا ہی نہیں
سینے میں چھپا درد مسلسل شور مچا رہا ہے
دھڑکن بھی میری اب تو رکی رکی سی لگتی ہے
یہ حال اگر رہا تو وجود بکھرا جا رہا ہے
لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں سے ہوں پریشان
تو بھی عجب ہے، جو مجھے یوں آزما رہا ہے
سکون کی تلاش میں کٹتی ہے میری رات تمام
مگر رات کا سکوت بھی مجھے چین نہ دے رہا ہے
اپنوں کی کج روش سے سہما ہوں میں، سیمانی
مل جائے کوئی اپنا تو کہنا، وہ شخص مر گیا ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

رافیہ رسول مغموم کا ناول ’’پہچان آنسو کی‘‘

    رئیس احمد کمار قاضی گنڈ، کشمیر رفیہ رسول مغموم اُن چند...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

رافیہ رسول مغموم کا ناول ’’پہچان آنسو کی‘‘

    رئیس احمد کمار قاضی گنڈ، کشمیر رفیہ رسول مغموم اُن چند...

غزل

 

شیخ افلاق حسین سیمانی
پلوامہ، کشمیر

کس بات کا غم ہے جو مجھے کھائے جا رہا ہے
کس سے کہوں، یہاں کوئی اپنا نظر نہیں آ رہا ہے
خاموش رہوں کب تک، یہ دل مانتا ہی نہیں
سینے میں چھپا درد مسلسل شور مچا رہا ہے
دھڑکن بھی میری اب تو رکی رکی سی لگتی ہے
یہ حال اگر رہا تو وجود بکھرا جا رہا ہے
لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں سے ہوں پریشان
تو بھی عجب ہے، جو مجھے یوں آزما رہا ہے
سکون کی تلاش میں کٹتی ہے میری رات تمام
مگر رات کا سکوت بھی مجھے چین نہ دے رہا ہے
اپنوں کی کج روش سے سہما ہوں میں، سیمانی
مل جائے کوئی اپنا تو کہنا، وہ شخص مر گیا ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون