
سیماشکور
الجھے ہوئے حالات کو …
زنجیر بنا دیتے ہیں
جہدِ مسلسل نہیں کرتے …
ہر مشکل کو تقدیر بنا دیتے ہیں
حق پرست لوگ …
جو بھی کہتے ہیں ، کر گزرتے ہیں
دیکھے ہوئے ہر حسیں خواب کو …
وہ تعبیر بنا دیتے ہیں
جن کے دامن پہ لگے ہوں …
خون کے ہزاروں چھینٹے
وہ کسی کے آنسو …
بھی پونچھیں تو تشہیر بنا دیتے ہیں
عجیب سوچ کے مالک ہیں …
یہ دنیا والے
عجزوانکساری سے جو بھی ملے …
اُسے حقیر بنا دیتے ہیں
شکوہ کسی سے کرتے بھی تو …
کیا کرتے
خاموشی سے ہر دکھ کو …
تحریر بنا دیتے ہیں
تحریر بنا دیتے ہیں


