مصنوعی ذہانت اور انسانی سوچ کا زوال

 

خورشید ریشی

کپواڑہ کشمیر

موجودہ دور ترقی، جدت اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان کو نئے علوم اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا، کیونکہ ان کے بغیر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ آج لوگوں کے پاس وقت کم اور ذمہ داریاں زیادہ ہیں، اس لئے ہر شخص آسان اور مختصر راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

ماضی میں حالات مختلف تھے۔ مصنفین کو کتابیں لکھنے میں برسوں لگ جاتے تھے، کالم نویس اپنے مضامین کی تیاری کے لئے طویل مطالعہ اور تحقیق کرتے تھے۔ لوگ کتابیں پڑھتے، اخبارات کا مطالعہ کرتے، ریڈیو سنتے اور ٹیلی ویژن کے ذریعے معلومات حاصل کرتے تھے۔ کسی بھی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے اس شعبے کے بارے میں گہری تحقیق اور مشاہدہ کیا جاتا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بدلا، ترجیحات تبدیل ہوئیں اور زندگی کی رفتار تیز ہوگئی۔ اسی دوران مصنوعی ذہانت (AI) نے بھی انسانی زندگی میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ بلاشبہ یہ ایک حیرت انگیز ایجاد ہے جو بہت سے کاموں کو آسان بناتی ہے، لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب کسی چیز پر حد سے زیادہ انحصار کیا جائے تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ معلومات حاصل کرنے، مضامین لکھنے، نظمیں تخلیق کرنے، تقاریر تیار کرنے اور یہاں تک کہ کتابیں مرتب کرنے کے لئے بھی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہے ہیں۔ نتیجتاً تحقیق، مطالعہ، غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انسان خود سوچنے اور محنت کرنے کے بجائے تیار شدہ مواد پر اکتفا کرنے لگا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم مصنوعی ذہانت کو صحیح معنوں میں استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم آنے والی نسلوں کو مطالعے، تحقیق اور تخلیقی سوچ کی طرف راغب کر رہے ہیں یا انہیں ہر سوال کا فوری جواب حاصل کرنے کی عادت ڈال رہے ہیں؟ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو شاید وہ وقت دور نہیں جب کسی سے کوئی سوال پوچھا جائے اور وہ جواب دینے سے پہلے کہے: "دو منٹ انتظار کیجیے، میں مصنوعی ذہانت سے اس کا جواب معلوم کر لیتا ہوں۔”

مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ہم کتابوں، مطالعے اور قلم و کاغذ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ گھروں میں کتابوں کی جگہ اسکرینوں نے لے لی ہے اور لکھنے کی عادت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اگر قلم اور کاغذ ہماری زندگی سے رخصت ہو گئے تو یہ ایک فکری اور تہذیبی نقصان ہوگا۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون اور رہنما کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ اس پر مکمل انحصار کیا جائے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ضرور کریں، مگر مطالعے، تحقیق، مشاہدے اور تخلیقی صلاحیتوں کو ہرگز فراموش نہ کریں۔ یہی متوازن رویہ ہماری علمی اور تہذیبی بقا کی ضمانت ہے۔

علامہ اقبالؒ نے علم اور کتاب کی اہمیت کو یوں اجاگر کیا تھا:

"مٹا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی،

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی،

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل

ہوتا ہے سیپارا۔”

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

مصنوعی ذہانت اور انسانی سوچ کا زوال

 

خورشید ریشی

کپواڑہ کشمیر

موجودہ دور ترقی، جدت اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان کو نئے علوم اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا، کیونکہ ان کے بغیر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ آج لوگوں کے پاس وقت کم اور ذمہ داریاں زیادہ ہیں، اس لئے ہر شخص آسان اور مختصر راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

ماضی میں حالات مختلف تھے۔ مصنفین کو کتابیں لکھنے میں برسوں لگ جاتے تھے، کالم نویس اپنے مضامین کی تیاری کے لئے طویل مطالعہ اور تحقیق کرتے تھے۔ لوگ کتابیں پڑھتے، اخبارات کا مطالعہ کرتے، ریڈیو سنتے اور ٹیلی ویژن کے ذریعے معلومات حاصل کرتے تھے۔ کسی بھی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے اس شعبے کے بارے میں گہری تحقیق اور مشاہدہ کیا جاتا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ بدلا، ترجیحات تبدیل ہوئیں اور زندگی کی رفتار تیز ہوگئی۔ اسی دوران مصنوعی ذہانت (AI) نے بھی انسانی زندگی میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ بلاشبہ یہ ایک حیرت انگیز ایجاد ہے جو بہت سے کاموں کو آسان بناتی ہے، لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب کسی چیز پر حد سے زیادہ انحصار کیا جائے تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ معلومات حاصل کرنے، مضامین لکھنے، نظمیں تخلیق کرنے، تقاریر تیار کرنے اور یہاں تک کہ کتابیں مرتب کرنے کے لئے بھی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہے ہیں۔ نتیجتاً تحقیق، مطالعہ، غور و فکر اور تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انسان خود سوچنے اور محنت کرنے کے بجائے تیار شدہ مواد پر اکتفا کرنے لگا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم مصنوعی ذہانت کو صحیح معنوں میں استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم آنے والی نسلوں کو مطالعے، تحقیق اور تخلیقی سوچ کی طرف راغب کر رہے ہیں یا انہیں ہر سوال کا فوری جواب حاصل کرنے کی عادت ڈال رہے ہیں؟ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو شاید وہ وقت دور نہیں جب کسی سے کوئی سوال پوچھا جائے اور وہ جواب دینے سے پہلے کہے: "دو منٹ انتظار کیجیے، میں مصنوعی ذہانت سے اس کا جواب معلوم کر لیتا ہوں۔”

مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ہم کتابوں، مطالعے اور قلم و کاغذ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ گھروں میں کتابوں کی جگہ اسکرینوں نے لے لی ہے اور لکھنے کی عادت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اگر قلم اور کاغذ ہماری زندگی سے رخصت ہو گئے تو یہ ایک فکری اور تہذیبی نقصان ہوگا۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون اور رہنما کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ اس پر مکمل انحصار کیا جائے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ضرور کریں، مگر مطالعے، تحقیق، مشاہدے اور تخلیقی صلاحیتوں کو ہرگز فراموش نہ کریں۔ یہی متوازن رویہ ہماری علمی اور تہذیبی بقا کی ضمانت ہے۔

علامہ اقبالؒ نے علم اور کتاب کی اہمیت کو یوں اجاگر کیا تھا:

"مٹا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی،

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی،

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل

ہوتا ہے سیپارا۔”

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون