
ام ماریہ حق (دہلی)
جب علم، تجربہ اور وقت ایک جگہ جمع ہوں، تو انسان خود ایک کتاب بن جاتا ہے۔ ایسی کتاب، جس کے اوراق کاغذ کے نہیں ہوتے بلکہ یادوں، مشاہدات، آزمائشوں اور احساسات سے ترتیب پاتے ہیں۔ کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، وقت انہیں انسان کے چہرے پر، اس کی آنکھوں میں اور اس کے رویّوں میں لکھ دیتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز، کامیابیاں اور ناکامیاں، خوشیاں اور غم، سب مل کر اس کتاب کے ابواب تشکیل دیتے ہیں۔ہر بوسیدہ صفحہ ایک داستان سناتا ہے، ہر شکن ایک تجربے کی گواہی دیتی ہے، اور ہر خاموش چہرہ اپنے اندر ایک پوری دنیا سموئے ہوتا ہے۔ بعض کہانیاں الفاظ کی محتاج نہیں ہوتیں؛ وہ کردار، صبر، برداشت، شفقت اور حکمت کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ایک ماں کی قربانی، ایک باپ کی خاموش فکر، ایک استاد کی مخلصانہ رہنمائی، ایک مزدور کی محنت، ایک کسان کی امید اور ایک بزرگ کی دعائیں، یہ سب زندگی کے وہ ابواب ہیں جنہیں الفاظ میں مکمل طور پر قید نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات ایک آنسو، ایک مسکراہٹ یا ایک خاموش دعا اپنے اندر اتنے معنی رکھتی ہے کہ پوری کتاب بھی ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔
انسانی تاریخ دراصل ایسی ہی زندہ کتابوں سے عبارت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں، اولیاء و صلحاء کے کردار، مفکرین کے افکار، اہلِ علم کی خدمات اور عام انسانوں کی بے لوث قربانیاں، سب اپنے اپنے انداز میں انسانیت کے لئے روشنی کا سامان ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے کوئی کتاب نہیں لکھی، لیکن ان کی زندگی خود ایک ایسی کتاب بن گئی جسے زمانے نے احترام سے پڑھا اور آنے والی نسلوں نے مشعلِ راہ بنایا۔ وقت کتاب کو پرانا ضرور کر دیتا ہے، مگر اس کے اندر چھپی ہوئی حقیقت، دانائی اور سبق کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ دراصل عمر کا حسن صرف سال گزرنے میں نہیں، بلکہ ان برسوں سے حاصل ہونے والی بصیرت، شعور اور فہم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
ہم سب ایک کھلی کتاب ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ہمیں دل سے پڑھتے ہیں اور کچھ صرف سرورق دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اصل کہانی سرورق میں نہیں، بلکہ ان صفحات میں چھپی ہوتی ہے جنہیں سمجھنے کے لئے وقت، صبر، وسعتِ نظر اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک خاموش انسان اپنی ذات میں ایسی حکمت لئے بیٹھا ہوتا ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل کتابوں میں بھی آسانی سے نہیں ملتی۔زندگی کی راہوں میں کبھی یہ کتاب صبر کی داستان سناتی ہے، کبھی جدوجہد کا باب کھولتی ہے، اور کبھی ایسی خاموش قربانیوں کا ذکر کرتی ہے جن کا تذکرہ کسی زبان پر نہیں آتا۔ انسان کی پیشانی پر ابھرتی ہوئی لکیریں محض بڑھتی عمر کی علامت نہیں ہوتیں، بلکہ وقت کے لکھے ہوئے ایسے جملے ہوتی ہیں جن میں تجربے، حکمت اور شعور کے کئی معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔
بعض لوگ سینکڑوں کتابیں پڑھ لیتے ہیں، مگر زندگی کی کتاب انہیں وہ سبق سکھا دیتی ہے جو کسی درسگاہ میں نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صاحبِ تجربہ انسان کی خاموشی بھی ایک طویل تقریر سے زیادہ معنی خیز ہوتی ہے، کیونکہ اس کے پیچھے برسوں کے مشاہدات، آزمائشیں اور سیکھے ہوئے اسباق ہوتے ہیں۔ اس کی ایک نصیحت، ایک نگاہ یا ایک مختصر جملہ بھی دلوں میں وہ اثر چھوڑ سکتا ہے جو لمبی گفتگو بھی نہ چھوڑ سکے۔زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک غیر پڑھی ہوئی کہانی موجود ہے۔ اس لئے کسی کے دکھ، خاموشی، ناکامی یا ظاہری حالت کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ جس شخص کو دنیا معمولی سمجھ رہی ہو، اس کے سینے میں تجربے اور حکمت کا ایسا خزانہ موجود ہو جس تک پہنچنے کے لئے عمر بھر کی ریاضت درکار ہو۔
اصل دانائی صرف جاننے میں نہیں، بلکہ سمجھنے میں ہے؛ صرف بولنے میں نہیں، بلکہ سننے میں ہے؛ صرف پڑھنے میں نہیں، بلکہ زندگی کے ہر لمحے سے سبق حاصل کرنے میں ہے۔ کیونکہ علم انسان کو معلومات دیتا ہے، مگر تجربہ اسے بصیرت عطا کرتا ہے، اور بصیرت ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو اپنے آپ، دوسروں اور اپنے رب کی معرفت کی طرف لے جاتی ہے۔
اسی لئے ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے لباس، عمر، عہدے یا ظاہری حیثیت سے نہ پرکھیں، بلکہ ان کے کردار، اخلاق، تجربات اور انسانیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے سامنے بیٹھا خاموش انسان زندگی کی ایسی کتاب ہو جس کے ایک صفحے میں وہ حکمت موجود ہو جو آپ نے کئی کتابوں میں بھی نہ پڑھی ہو۔


