وکست بھارت کا خواب یا زمینی حقیقت؟

ہندوستان کی معیشت میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ شعبہ نہ صرف کروڑوں افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے بلکہ دیہی معیشت، خواتین کی خودمختاری، نوجوانوں کی اختراعی صلاحیتوں اور برآمدات کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایم ایس ایم ایز قومی پیداوار میں تقریباً 31 فیصد، مینوفیکچرنگ میں 35 فیصد اور برآمدات میں 48 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے Udyam Registration، CGTMSE، PM Vishwakarma، PMEGP اور دیگر اسکیموں کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو مالی، تکنیکی اور تربیتی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن خدمات نے کاروبار کے عمل کو بھی پہلے سے زیادہ آسان بنایا ہے۔
تاہم ترقی کی اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ آج بھی بے شمار چھوٹے صنعت کار سرمائے کی کمی، خام مال کی مہنگائی، تاخیر سے ادائیگی اور بڑی کمپنیوں سے سخت مقابلے جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ صرف رجسٹریشن کی تعداد بڑھ جانا کامیابی نہیں، بلکہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کتنے کاروبار مستقل طور پر ترقی کر رہے ہیں، روزگار پیدا کر رہے ہیں اور عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
اگر ہندوستان واقعی "وکست بھارت 2047” کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایم ایس ایم ای شعبے کو مزید مضبوط، خودمختار اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔ خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر دور دراز علاقوں کی دستکاری، دیہی صنعتوں اور مقامی کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی، برانڈنگ اور عالمی منڈیوں سے جوڑنا ناگزیر ہے۔
ایم ایس ایم ایز صرف کاروباری ادارے نہیں بلکہ ہندوستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ ہیں۔ حکومتی پالیسیاں درست سمت میں ضرور ہیں، لیکن ان کی اصل کامیابی مؤثر عمل درآمد، شفافیت اور زمینی نتائج سے ہی ثابت ہوگی۔ یہی شعبہ آئندہ برسوں میں ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی بنیاد مضبوط کرنے کی حقیقی صلاحیت رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

وکست بھارت کا خواب یا زمینی حقیقت؟

ہندوستان کی معیشت میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ شعبہ نہ صرف کروڑوں افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے بلکہ دیہی معیشت، خواتین کی خودمختاری، نوجوانوں کی اختراعی صلاحیتوں اور برآمدات کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایم ایس ایم ایز قومی پیداوار میں تقریباً 31 فیصد، مینوفیکچرنگ میں 35 فیصد اور برآمدات میں 48 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے Udyam Registration، CGTMSE، PM Vishwakarma، PMEGP اور دیگر اسکیموں کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو مالی، تکنیکی اور تربیتی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن خدمات نے کاروبار کے عمل کو بھی پہلے سے زیادہ آسان بنایا ہے۔
تاہم ترقی کی اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ آج بھی بے شمار چھوٹے صنعت کار سرمائے کی کمی، خام مال کی مہنگائی، تاخیر سے ادائیگی اور بڑی کمپنیوں سے سخت مقابلے جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ صرف رجسٹریشن کی تعداد بڑھ جانا کامیابی نہیں، بلکہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کتنے کاروبار مستقل طور پر ترقی کر رہے ہیں، روزگار پیدا کر رہے ہیں اور عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
اگر ہندوستان واقعی "وکست بھارت 2047” کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایم ایس ایم ای شعبے کو مزید مضبوط، خودمختار اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔ خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر دور دراز علاقوں کی دستکاری، دیہی صنعتوں اور مقامی کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی، برانڈنگ اور عالمی منڈیوں سے جوڑنا ناگزیر ہے۔
ایم ایس ایم ایز صرف کاروباری ادارے نہیں بلکہ ہندوستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ ہیں۔ حکومتی پالیسیاں درست سمت میں ضرور ہیں، لیکن ان کی اصل کامیابی مؤثر عمل درآمد، شفافیت اور زمینی نتائج سے ہی ثابت ہوگی۔ یہی شعبہ آئندہ برسوں میں ترقی یافتہ اور خود کفیل ہندوستان کی بنیاد مضبوط کرنے کی حقیقی صلاحیت رکھتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں