
پیرزادہ شعیب اویسی
کربلا کی شبِ عاشور تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ وہ رات تھی جب حضرت امام حسینؑ نے اپنے اصحاب و انصار کو آخری مرتبہ اختیار دیا کہ اگر کوئی جانا چاہے تو چلا جائے، کیونکہ دشمن صرف آپؑ کی جان کا طلبگار تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر واپس لوٹ جائیں، آپؑ ان سے کوئی شکوہ نہیں کریں گے۔ مگر وفا کے پیکر ان جانثاروں نے اپنے امام کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا۔
حضرت حبیب بن مظاہرؓ، مسلم بن عوسجہؓ، زہیر بن قینؓ اور دیگر اصحاب نے عرض کیا:
"اے فرزندِ رسولؐ! اگر ہمیں بار بار قتل کرکے زندہ کیا جائے، تب بھی ہم آپؑ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔”
یہ محض الفاظ نہ تھے بلکہ وفاداری، ایثار اور عشقِ حق کا وہ اعلان تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ ان جاں نثاروں کو معلوم تھا کہ صبحِ عاشور ان کی زندگی کی آخری صبح ہوگی، مگر ان کے قدم متزلزل نہ ہوئے۔
شبِ عاشور ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی وفاداری مفاد، خوف یا مصلحت کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو اہلِ حق جان کی پروا کیے بغیر اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں۔
اسی لئے چودہ صدیوں کے بعد بھی اصحابِ حسینؑ کا ذکر احترام اور عقیدت سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وفا کو لفظوں سے نہیں بلکہ اپنے خون سے لکھا۔ ان کی قربانیاں آج بھی انسانیت کو صبر، استقامت اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہیں۔
سلام ہو امام حسینؑ پر، سلام ہو حضرت عباسؑ پر، سلام ہو حبیب بن مظاہرؓ، مسلم بن عوسجہؓ، زہیر بن قینؓ اور تمام شہدائے کربلا پر، جنہوں نے ثابت کردیا کہ حق کے راستے میں سر تو کٹ سکتا ہے مگر اصول نہیں۔
شبِ عاشور کا پیغام آج بھی یہی ہے کہ وفاداری کی شمع کبھی نہیں بجھتی، اور جو دل عشقِ حسینؑ سے روشن ہوجائے، وہ قیامت تک منور رہتا ہے۔


