
نقی احمد ندوی
ایران اور امریکہ کی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے، جہاں سے اب مستقبل کا سیاسی منظرنامہ بدل جائے گا۔ امریکہ نے شکست قبول نہیں کی ہے، مگر خود مغربی ممالک کے سیاسی اور دفاعی مبصرین اس جنگ کو امریکہ کی ایسی شکست قرار دے رہے ہیں جو اس نے ویتنام کی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی۔ اس جنگ سے خلیجی ممالک کو جو سبق ملتا ہے، ہم اس پر مختصر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں، مگر اس سے پہلے ذرا موجودہ صورتحال پر نظر ڈال لیں۔
جنگ ختم کرنے کے لئے امریکہ نے جدوجہد کی، جبکہ ایران جنگ کے لئے ہمیشہ تیار رہا۔ اب جس میمورنڈم پر دونوں ممالک کے سربراہوں نے دستخط کیے ہیں، اس کی اہم شروط یہ ہیں: ایران آبنائے ہرمز کو دنیا کے لئے ساٹھ دنوں کے لئے کھول دے گا اور امریکہ اپنی فوجیں سمندر سے ہٹا لے گا۔ ایران کے اربوں ڈالر جو منجمد کیے گئے ہیں، وہ اسے دیے جائیں گے۔ اسرائیل لبنان میں جنگ روک دے گا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان مستقل جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی اور ایران ایٹمی ہتھیار کبھی نہیں بنائے گا۔
اس جنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ اب اسرائیل کا "گریٹر اسرائیل” کا سپنا چکنا چور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو نہ صرف پاگل قرار دیا ہے، بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ امریکہ کے بغیر اسرائیل دو دن بھی ایران کے سامنے نہیں ٹک پائے گا۔ چنانچہ امریکہ نے اسرائیل کے مفاد کو درکنار کرتے ہوئے "امریکہ فرسٹ کی پالیسی پر اپنی تمام سیاست مرکوز کر دی ہے۔
یہ جنگ دراصل اسرائیل اور ایران کی جنگ تھی، جو اسرائیل نے امریکہ کے دم پر لڑی تھی۔ جب باپ ہی جنگ کے میدان سے بھاگ گیا، تو پتر (بیٹے) کا کیا ہوگا؟ یہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ اگر اگلی جنگ اسرائیل نے چھیڑی اور امریکہ نے ساتھ نہ دیا—اور دوسرے مغربی ممالک جیسے برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی اور اٹلی وغیرہ تو پہلے ہی ساتھ چھوڑ چکے ہیں—تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کا انجام کیا ہوگا؟ جب اسرائیل ایران کے سامنے نہیں ٹک سکتا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ہی کر دیا ہے، تو پھر خلیجی ممالک کا کیا ہوگا؟ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اس جنگ میں کوئی حملہ نہیں کیا۔ ایسا اس لئے نہیں ہوا کہ انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور بڑی دانشمندی کا ثبوت دیا، جیسا کہ بعض اہل حدیث قلمکاروں کا جھوٹا دعویٰ ہے؛ بلکہ یہ ممالک اچھی طرح جان گئے کہ جب ایران امریکی بیسز (فوجی اڈوں) کو اڑا سکتا ہے، تو ان کے تیل کے کارخانوں، فیکٹریوں اور تجارتی فلک بوس عمارتوں کو تو کبھی بھی اڑا سکتا ہے، اور وہ سو سال پہلے کی اونٹوں اور کھجوروں والی دنیا میں پہنچ جائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ کسی ملک نے ایران پر حملہ کرنے کی حماقت نہیں کی۔ دل کو سمجھانے کے لئے بہت سے بہانے بنائے جا سکتے ہیں، مگر کڑوا سچ یہی ہے۔ ایران کو ہمیشہ سے خطرہ تھا کہ ایک نہ ایک دن اسرائیل اور امریکہ اس پر حملہ ضرور کریں گے۔ عراق، شام، یمن، لیبیا اور افغانستان میں جو کچھ ہوا، ایران نے اس سے سبق لیتے ہوئے اپنی بساط بھر جنگ کی تیاری کی اور اپنی ایسی ٹیکنالوجی بنائی جس نے دنیا کی سپر پاور کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس کے برعکس، خلیجی ممالک نے اپنی سیکیورٹی امریکہ کے حوالے کر دی۔ ہر سال اربوں ڈالر کا جنگی سامان خریدا، امریکہ میں سرمایہ کاری کی، اور یہی نہیں بلکہ ہر ملک نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کروائے اور ان کا پورا خرچ اٹھایا۔ مگر جب وقتِ قیام آیا تو امریکی فوجی سجدے میں گر گئے۔ انہیں دیکھ کر خلیجی ممالک کے ہوش اڑ گئے کہ جب امریکہ خود اپنے فوجی اڈوں کو نہیں بچا سکتا، تو وہ ہمیں کیا بچائے گا۔ اس جنگ سے صرف ایک ہی سبق ملتا ہے کہ خلیجی ممالک کو دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے وسائل، اپنی عوام اور اپنی عوام کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا چاہیے، جیسا کہ ایران نے کیا۔ اگر یہ سبق انہوں نے نہ سیکھا تو ایران نہیں، بلکہ اسرائیل ان کو کبھی بھی نگل جائے گا۔ موجودہ سیاسی اور جنگی صورتحال میں گویا ایران اپنی زبانِ حال سے خلیجی ممالک اور اسرائیل کو یہ کہہ رہا ہے کہ "ہم رشتہ میں تمہارے باپ کے باپ لگتے ہیں”۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل تلملایا ہوا ہے اور خلیجی ممالک ڈالر لے کر ایران کے آستانے پر حاضری دی نے کے لئے بے قرار ہیں۔


