سلام یا حسینؑ

جگپریت سنگھ
پلوامہ کشمیر
وہ جو نقشِ پا تھا حسینؑ کا ، کوئی کارواں ہو تو لے کے آ
جو گواہی دے تیرے عشق کی ، کوئی ایسا خاں ہو تو لے کے آ
یہ محیطِ دشتِ بلا سہی ، یہ قضا کا رنگِ حنا سہی
یہاں حرفِ حق کی صدا ہے تو ، کوئی ترجماں ہو تو لے کے آ
تری کاوشوں کے خمیر میں ، تری بندشوں کی ضمیر میں
جو ہو مستِ جامِ الست اب ، وہ کوئی زباں ہو تو لے کے آ
یہ جو داستاں ہے انوکھی سی، یہ جو کہکشاں ہے بکھر گئی
جو ملے سراغِ ادب کہیں ، وہ کوئی بیاں ہو تو لے کے آ
یہ جو سانس سانس میں آگ ہے ، یہ جو فکرِ زیست میں راگ ہے
اگر اس میں سوزِ حسینؑ ہے ، کوئی خوش بیاں ہو تو لے کے آ
کبھی دجلہ دجلہ پکار کر ، کبھی بن کے ابرِ بہار تر
جو بجھا سکے تری پیاس کو ، کوئی آبداں ہو تو لے کے آ
نہ نصیرؔ ہے نہ دبیرؔ ہے ، یہ شررؔ کی فکرِ منیر ہے
مرے ظرفِ حرف کو جانچنے ، کوئی نکتہ داں ہو تو لے کے آ
زززز
سلام یا حسینؑ
سلام یا حسینؑ
سلام یا حسینؑ

جگپریت سنگھ
پلوامہ کشمیر
وہ جو نقشِ پا تھا حسینؑ کا ، کوئی کارواں ہو تو لے کے آ
جو گواہی دے تیرے عشق کی ، کوئی ایسا خاں ہو تو لے کے آ
یہ محیطِ دشتِ بلا سہی ، یہ قضا کا رنگِ حنا سہی
یہاں حرفِ حق کی صدا ہے تو ، کوئی ترجماں ہو تو لے کے آ
تری کاوشوں کے خمیر میں ، تری بندشوں کی ضمیر میں
جو ہو مستِ جامِ الست اب ، وہ کوئی زباں ہو تو لے کے آ
یہ جو داستاں ہے انوکھی سی، یہ جو کہکشاں ہے بکھر گئی
جو ملے سراغِ ادب کہیں ، وہ کوئی بیاں ہو تو لے کے آ
یہ جو سانس سانس میں آگ ہے ، یہ جو فکرِ زیست میں راگ ہے
اگر اس میں سوزِ حسینؑ ہے ، کوئی خوش بیاں ہو تو لے کے آ
کبھی دجلہ دجلہ پکار کر ، کبھی بن کے ابرِ بہار تر
جو بجھا سکے تری پیاس کو ، کوئی آبداں ہو تو لے کے آ
نہ نصیرؔ ہے نہ دبیرؔ ہے ، یہ شررؔ کی فکرِ منیر ہے
مرے ظرفِ حرف کو جانچنے ، کوئی نکتہ داں ہو تو لے کے آ
زززز


