جب جمہوریت کو خاموش کر دیا گیا

 

جنگ فیچر ڈیسک

25 جون 1975 کی رات ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کی سب سے متنازع راتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی رات اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کو ملک میں داخلی ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی۔ آئین ہند کے آرٹیکل 352 کے تحت صدر نے "داخلی بے چینی” (Internal Disturbance) کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی کے اعلان پر دستخط کر دیے۔ یوں آدھی رات کے بعد 26 جون 1975 سے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی۔
ایمرجنسی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل دہلی کے رام لیلا میدان میں لوک نائک جے پرکاش نارائن نے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک کو مزید تیز کرنے کی اپیل کی تھی۔ سیاسی حالات پہلے ہی کشیدہ تھے اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے اندرا گاندھی کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر دیا تھا۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں امن و امان اور قومی استحکام کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق ایمرجنسی کا اصل مقصد سیاسی اقتدار کو بچانا تھا۔
ایمرجنسی کے اعلان کے فوراً بعد ملک بھر میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جے پرکاش نارائن، مرارجی دیسائی، اٹل بہاری واجپائی، لال کرشن اڈوانی، چرن سنگھ، جارج فرنینڈس اور سیکڑوں دیگر سیاسی کارکنوں کو راتوں رات حراست میں لے لیا گیا۔ ٹیلی فون لائنوں کی نگرانی بڑھا دی گئی، عوامی اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور اخبارات کو سرکاری سنسرشپ کے تابع کر دیا گیا۔
26 جون 1975 کی صبح آل انڈیا ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا اور اسے ملک کے مفاد میں ضروری قدم قرار دیا۔ تاہم آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوتا گیا کہ یہ فیصلہ ہندوستانی جمہوریت، صحافتی آزادی اور شہری حقوق پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
ایمرجنسی تقریباً 21 ماہ تک جاری رہی۔ آخرکار 21 مارچ 1977 کو اسے واپس لے لیا گیا۔ اس دوران ہزاروں افراد گرفتار ہوئے، بنیادی حقوق معطل رہے، اخبارات پر سخت پابندیاں نافذ رہیں اور آئینی اداروں کے کردار پر وسیع بحث چھڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ 25 جون 1975 کو ہندوستانی جمہوری تاریخ میں ایک ایسے دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب آئینی آزادیوں پر غیر معمولی پابندیاں عائد کی گئیں۔
آج، پچاس برس بعد بھی، 25 جون کو "سمویدھان ہتیا دیوس” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ جمہوریت، آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کا تحفظ کسی بھی آزاد معاشرے کی بنیاد ہیں اور ان کی حفاظت ہر نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
عدلیہ کا امتحان اور اے ڈی ایم جبل پور مقدمہ
ایمرجنسی کے دوران ہندوستانی عدلیہ کو بھی ایک غیر معمولی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا مقدمہ "اے ڈی ایم جبل پور بنام شیو کانت شکلا” تھا، جسے عموماً "ہیبیس کارپس کیس” بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر کسی شخص کو حکومت نے حراست میں لے لیا ہو تو کیا وہ عدالت سے اپنی آزادی کے لئے رجوع کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے نے حکومت کے مؤقف کی تائید کی، جس کے تحت ایمرجنسی کے دوران شہریوں کے لئے بعض بنیادی حقوق کے نفاذ کا راستہ محدود ہو گیا۔ تاہم جسٹس ایچ آر کھنہ نے تاریخی اختلافی نوٹ لکھا اور مؤقف اختیار کیا کہ زندگی اور آزادی کا حق محض ریاست کی عطا نہیں بلکہ انسانی وجود کا بنیادی تقاضا ہے۔ بعد کے برسوں میں ان کے اختلافی فیصلے کو ہندوستانی عدالتی تاریخ کے روشن ترین ابواب میں شمار کیا گیا۔
جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھر گئیں
ایمرجنسی کے دوران "مینٹیننس آف انٹرنل سیکیورٹی ایکٹ” (MISA) اور دیگر قوانین کے تحت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سیاست دانوں کے علاوہ صحافی، وکلا، طلبہ، مزدور رہنما اور سماجی کارکن بھی شامل تھے۔ متعدد افراد کو مہینوں بلکہ برسوں تک بغیر مقدمے کے قید رکھا گیا۔
اس دور کے عینی شاہدین کے مطابق کئی خاندان اپنے قریبی افراد کی گرفتاری کے بعد شدید مشکلات سے دوچار ہوئے۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کو ایک حق سمجھا جاتا ہے، لیکن ایمرجنسی کے دوران اختلاف کو اکثر ریاستی نظم کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔
نوجوان نسل اور جے پرکاش تحریک
ایمرجنسی کی مخالفت میں نوجوانوں کا کردار بھی نمایاں رہا۔ جے پرکاش نارائن کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے طلبہ اور نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ اس تحریک کا بنیادی نعرہ "سمپورن کرانتی” یعنی "مکمل انقلاب” تھا، جس کا مقصد صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور انتظامی اصلاحات تھا۔
بہت سے نوجوان کارکن بعد میں قومی سیاست کے اہم چہرے بنے۔ ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد نے ایک نئی سیاسی نسل کو جنم دیا جس نے آنے والے عشروں میں ہندوستانی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وفاقی ڈھانچے پر اثرات
ایمرجنسی نے ہندوستان کے وفاقی نظام کو بھی متاثر کیا۔ ریاستی حکومتوں پر مرکز کا اثر و رسوخ بڑھ گیا اور کئی اہم فیصلے دہلی سے کیے جانے لگے۔ ناقدین کے مطابق اس دور میں ریاستوں کی خودمختاری محدود ہوئی اور مرکزیت پسند رجحانات کو تقویت ملی۔
یہ تجربہ بعد میں اس بحث کا سبب بنا کہ ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں وفاقی ڈھانچے کا تحفظ جمہوری استحکام کے لئے کیوں ضروری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا نقطۂ نظر
ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایمرجنسی کے دوران ہونے والی گرفتاریوں، سنسرشپ اور جبری اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان تنظیموں کا مؤقف تھا کہ قومی سلامتی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کو مکمل طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
اسی پس منظر میں بعد کے برسوں میں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور شفاف حکمرانی کے موضوعات پر عوامی مباحث میں اضافہ ہوا۔ متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی اداروں نے شہری حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی۔
ایمرجنسی اور آئینی اصلاحات
1977 میں ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد نئی حکومت نے آئین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ ان میں 44ویں آئینی ترمیم خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے بعض بنیادی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنایا گیا اور ایمرجنسی کے نفاذ کے طریقۂ کار کو مزید سخت بنایا گیا تاکہ مستقبل میں اس اختیار کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
آئینی ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک حفاظتی دیوار ثابت ہوئیں اور انہوں نے ریاستی طاقت اور شہری آزادیوں کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔
عالمی تناظر میں ایمرجنسی
دنیا کی کئی جمہوریتوں نے مختلف ادوار میں ہنگامی حالات کا سامنا کیا ہے، لیکن ہندوستان کی 1975 کی ایمرجنسی ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی پارلیمانی جمہوریت میں نافذ ہوئی جہاں آئینی ادارے بظاہر فعال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسیات کے طلبہ اور محققین آج بھی اس دور کا مطالعہ جمہوریت، اقتدار اور آئینی حدود کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لئے کرتے ہیں۔
سمویدھان ہتیا دیوس کی معنویت
"سمویدھان ہتیا دیوس” صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ ایک فکری پیغام بھی ہے۔ اس دن کا مقصد عوام کو یہ یاد دلانا ہے کہ آئین کسی بھی جمہوری ریاست کی روح ہوتا ہے۔ جب بنیادی حقوق، آزاد صحافت، عدالتی خودمختاری اور سیاسی اختلاف کے حق کو محدود کیا جاتا ہے تو جمہوریت کمزور ہونے لگتی ہے۔
یہ دن اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔
ایمرجنسی 1975 ہندوستانی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس سے اختلافِ رائے رکھنے والے مختلف سیاسی نظریات کے لوگ بھی ایک اہم سبق اخذ کرتے ہیں: جمہوریت کی بقا صرف آئینی دفعات سے نہیں بلکہ ان اداروں، روایات اور عوامی شعور سے وابستہ ہوتی ہے جو آزادی اور احتساب کو زندہ رکھتے ہیں۔
پچاس برس گزر جانے کے باوجود ایمرجنسی کا تذکرہ اس لئے زندہ ہے کیونکہ یہ محض ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ مستقبل کے لئے ایک تنبیہ ہے۔ سمویدھان ہتیا دیوس اسی یادداشت کو تازہ رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ قوم یہ نہ بھولے کہ آزادی اور جمہوریت کی حفاظت مسلسل بیداری، مضبوط اداروں اور آئین سے غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

جب جمہوریت کو خاموش کر دیا گیا

 

جنگ فیچر ڈیسک

25 جون 1975 کی رات ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کی سب سے متنازع راتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی رات اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کو ملک میں داخلی ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی۔ آئین ہند کے آرٹیکل 352 کے تحت صدر نے "داخلی بے چینی” (Internal Disturbance) کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی کے اعلان پر دستخط کر دیے۔ یوں آدھی رات کے بعد 26 جون 1975 سے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی۔
ایمرجنسی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل دہلی کے رام لیلا میدان میں لوک نائک جے پرکاش نارائن نے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک کو مزید تیز کرنے کی اپیل کی تھی۔ سیاسی حالات پہلے ہی کشیدہ تھے اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے اندرا گاندھی کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر دیا تھا۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں امن و امان اور قومی استحکام کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق ایمرجنسی کا اصل مقصد سیاسی اقتدار کو بچانا تھا۔
ایمرجنسی کے اعلان کے فوراً بعد ملک بھر میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جے پرکاش نارائن، مرارجی دیسائی، اٹل بہاری واجپائی، لال کرشن اڈوانی، چرن سنگھ، جارج فرنینڈس اور سیکڑوں دیگر سیاسی کارکنوں کو راتوں رات حراست میں لے لیا گیا۔ ٹیلی فون لائنوں کی نگرانی بڑھا دی گئی، عوامی اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور اخبارات کو سرکاری سنسرشپ کے تابع کر دیا گیا۔
26 جون 1975 کی صبح آل انڈیا ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا اور اسے ملک کے مفاد میں ضروری قدم قرار دیا۔ تاہم آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوتا گیا کہ یہ فیصلہ ہندوستانی جمہوریت، صحافتی آزادی اور شہری حقوق پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
ایمرجنسی تقریباً 21 ماہ تک جاری رہی۔ آخرکار 21 مارچ 1977 کو اسے واپس لے لیا گیا۔ اس دوران ہزاروں افراد گرفتار ہوئے، بنیادی حقوق معطل رہے، اخبارات پر سخت پابندیاں نافذ رہیں اور آئینی اداروں کے کردار پر وسیع بحث چھڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ 25 جون 1975 کو ہندوستانی جمہوری تاریخ میں ایک ایسے دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب آئینی آزادیوں پر غیر معمولی پابندیاں عائد کی گئیں۔
آج، پچاس برس بعد بھی، 25 جون کو "سمویدھان ہتیا دیوس” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ جمہوریت، آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کا تحفظ کسی بھی آزاد معاشرے کی بنیاد ہیں اور ان کی حفاظت ہر نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
عدلیہ کا امتحان اور اے ڈی ایم جبل پور مقدمہ
ایمرجنسی کے دوران ہندوستانی عدلیہ کو بھی ایک غیر معمولی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا مقدمہ "اے ڈی ایم جبل پور بنام شیو کانت شکلا” تھا، جسے عموماً "ہیبیس کارپس کیس” بھی کہا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر کسی شخص کو حکومت نے حراست میں لے لیا ہو تو کیا وہ عدالت سے اپنی آزادی کے لئے رجوع کر سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے نے حکومت کے مؤقف کی تائید کی، جس کے تحت ایمرجنسی کے دوران شہریوں کے لئے بعض بنیادی حقوق کے نفاذ کا راستہ محدود ہو گیا۔ تاہم جسٹس ایچ آر کھنہ نے تاریخی اختلافی نوٹ لکھا اور مؤقف اختیار کیا کہ زندگی اور آزادی کا حق محض ریاست کی عطا نہیں بلکہ انسانی وجود کا بنیادی تقاضا ہے۔ بعد کے برسوں میں ان کے اختلافی فیصلے کو ہندوستانی عدالتی تاریخ کے روشن ترین ابواب میں شمار کیا گیا۔
جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھر گئیں
ایمرجنسی کے دوران "مینٹیننس آف انٹرنل سیکیورٹی ایکٹ” (MISA) اور دیگر قوانین کے تحت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سیاست دانوں کے علاوہ صحافی، وکلا، طلبہ، مزدور رہنما اور سماجی کارکن بھی شامل تھے۔ متعدد افراد کو مہینوں بلکہ برسوں تک بغیر مقدمے کے قید رکھا گیا۔
اس دور کے عینی شاہدین کے مطابق کئی خاندان اپنے قریبی افراد کی گرفتاری کے بعد شدید مشکلات سے دوچار ہوئے۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کو ایک حق سمجھا جاتا ہے، لیکن ایمرجنسی کے دوران اختلاف کو اکثر ریاستی نظم کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔
نوجوان نسل اور جے پرکاش تحریک
ایمرجنسی کی مخالفت میں نوجوانوں کا کردار بھی نمایاں رہا۔ جے پرکاش نارائن کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے طلبہ اور نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ اس تحریک کا بنیادی نعرہ "سمپورن کرانتی” یعنی "مکمل انقلاب” تھا، جس کا مقصد صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور انتظامی اصلاحات تھا۔
بہت سے نوجوان کارکن بعد میں قومی سیاست کے اہم چہرے بنے۔ ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد نے ایک نئی سیاسی نسل کو جنم دیا جس نے آنے والے عشروں میں ہندوستانی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وفاقی ڈھانچے پر اثرات
ایمرجنسی نے ہندوستان کے وفاقی نظام کو بھی متاثر کیا۔ ریاستی حکومتوں پر مرکز کا اثر و رسوخ بڑھ گیا اور کئی اہم فیصلے دہلی سے کیے جانے لگے۔ ناقدین کے مطابق اس دور میں ریاستوں کی خودمختاری محدود ہوئی اور مرکزیت پسند رجحانات کو تقویت ملی۔
یہ تجربہ بعد میں اس بحث کا سبب بنا کہ ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع ملک میں وفاقی ڈھانچے کا تحفظ جمہوری استحکام کے لئے کیوں ضروری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا نقطۂ نظر
ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایمرجنسی کے دوران ہونے والی گرفتاریوں، سنسرشپ اور جبری اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان تنظیموں کا مؤقف تھا کہ قومی سلامتی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کو مکمل طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
اسی پس منظر میں بعد کے برسوں میں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور شفاف حکمرانی کے موضوعات پر عوامی مباحث میں اضافہ ہوا۔ متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی اداروں نے شہری حقوق کے تحفظ کے لئے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی۔
ایمرجنسی اور آئینی اصلاحات
1977 میں ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد نئی حکومت نے آئین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ ان میں 44ویں آئینی ترمیم خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے بعض بنیادی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنایا گیا اور ایمرجنسی کے نفاذ کے طریقۂ کار کو مزید سخت بنایا گیا تاکہ مستقبل میں اس اختیار کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
آئینی ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک حفاظتی دیوار ثابت ہوئیں اور انہوں نے ریاستی طاقت اور شہری آزادیوں کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔
عالمی تناظر میں ایمرجنسی
دنیا کی کئی جمہوریتوں نے مختلف ادوار میں ہنگامی حالات کا سامنا کیا ہے، لیکن ہندوستان کی 1975 کی ایمرجنسی ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی پارلیمانی جمہوریت میں نافذ ہوئی جہاں آئینی ادارے بظاہر فعال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسیات کے طلبہ اور محققین آج بھی اس دور کا مطالعہ جمہوریت، اقتدار اور آئینی حدود کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لئے کرتے ہیں۔
سمویدھان ہتیا دیوس کی معنویت
"سمویدھان ہتیا دیوس” صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ ایک فکری پیغام بھی ہے۔ اس دن کا مقصد عوام کو یہ یاد دلانا ہے کہ آئین کسی بھی جمہوری ریاست کی روح ہوتا ہے۔ جب بنیادی حقوق، آزاد صحافت، عدالتی خودمختاری اور سیاسی اختلاف کے حق کو محدود کیا جاتا ہے تو جمہوریت کمزور ہونے لگتی ہے۔
یہ دن اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔
ایمرجنسی 1975 ہندوستانی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس سے اختلافِ رائے رکھنے والے مختلف سیاسی نظریات کے لوگ بھی ایک اہم سبق اخذ کرتے ہیں: جمہوریت کی بقا صرف آئینی دفعات سے نہیں بلکہ ان اداروں، روایات اور عوامی شعور سے وابستہ ہوتی ہے جو آزادی اور احتساب کو زندہ رکھتے ہیں۔
پچاس برس گزر جانے کے باوجود ایمرجنسی کا تذکرہ اس لئے زندہ ہے کیونکہ یہ محض ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ مستقبل کے لئے ایک تنبیہ ہے۔ سمویدھان ہتیا دیوس اسی یادداشت کو تازہ رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ قوم یہ نہ بھولے کہ آزادی اور جمہوریت کی حفاظت مسلسل بیداری، مضبوط اداروں اور آئین سے غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں