محمد عمر بٹ
جنگ نیوز
گاندربل/وادی کشمیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی روایات، مذہبی رواداری اور کشمیریت کے زندہ مظاہر پیر کے روز اُس وقت پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہوئے جب تلہ مولہ میں واقع ماتا کھیر بھوانی کے مقدس آستانے پر جیٹھ اشٹمی کے سالانہ میلے میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کرکے امن، خوشحالی، بھائی چارے اور انسانیت کی سربلندی کے لئے دعائیں مانگیں۔
تلہ مولہ کا مقدس مقام دن بھر عقیدت، روحانیت اور باہمی محبت کے جذبات سے سرشار رہا۔ صبح سویرے ہی زائرین کی بڑی تعداد مندر پہنچنے لگی، جہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی، بھجنوں کی گونج اور عقیدت کے اظہار نے ایک روح پرور ماحول پیدا کر دیا۔ عقیدت مندوں نے ماتا راگنیہ بھگوتی کے حضور اپنی عقیدت پیش کرتے ہوئے وادی سمیت پوری دنیا میں امن و استحکام کے لئے دعائیں کیں۔
میلہ کھیر بھوانی کشمیری پنڈت برادری کے اہم ترین مذہبی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس کی ایک اور نمایاں خصوصیت کشمیر کی مشترکہ تہذیب اور کشمیریت کے اس جذبے کا اظہار ہے جو مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
اس سال بھی میلے کے دوران ایسے بے شمار جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جنہوں نے حاضرین کو ماضی کی خوشگوار یادوں میں لے گیا۔ وادی کے مسلمانوں نے آنے والے کشمیری پنڈت زائرین کا گرمجوشی سے استقبال کیا، جبکہ برسوں بعد ملنے والے ہمسایوں، دوستوں اور شناساؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر پرانی یادیں تازہ کیں۔ یہ مناظر کشمیریت کی اُس روح کے عکاس تھے جس کی بنیاد محبت، احترام، باہمی اعتماد اور مشترکہ ثقافتی ورثے پر قائم ہے۔
متعدد مقامات پر مسلمان اور کشمیری پنڈت ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف دکھائی دیے، ماضی کی یادیں دہراتے رہے اور وادی میں پائیدار امن اور ہم آہنگی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے رہے۔ ان مناظر نے یہ پیغام دیا کہ کشمیر کی اصل طاقت اس کی متنوع مگر متحد سماجی شناخت اور کشمیریت کی زندہ روایت میں مضمر ہے۔
زائرین کا کہنا تھا کہ میلہ کھیر بھوانی نہ صرف ایک مذہبی تقریب ہے بلکہ اپنی سرزمین، اپنی ثقافت اور اپنے مشترکہ تاریخی ورثے سے وابستگی کا ایک خوبصورت اظہار بھی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محبت، بھائی چارے اور کشمیریت کے یہ رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔
سالانہ میلے کے پُرامن انعقاد کے لئے انتظامیہ کی جانب سے جامع انتظامات کیے گئے تھے۔ سکیورٹی، صحت عامہ، صفائی ستھرائی، ٹریفک نظم و نسق اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جس پر زائرین نے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا۔
یوں تلہ مولہ میں منعقد ہونے والا میلہ کھیر بھوانی ایک بار پھر اس حقیقت کا گواہ بن گیا کہ کشمیریت صرف ایک تصور نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی روایت ہے، جو محبت، رواداری، باہمی احترام اور انسان دوستی کے ذریعے مختلف دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ماتا کھیر بھوانی مندر میں حاضری دِی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج جیٹھ اشٹمی کے موقعہ پر گاندربل کے تولہ مولہ میںماتا کھیر بھوانی مندر میں حاضری دی اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے امن، خوشحالی اوربھلائی کے لئے دُعا کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عقیدت مندوں کو مُبارک باد پیش کرتے ہوئے یہ اُمید ظاہر کی کہ ماتا راگنیا دیوی کاآشیروادہم آہنگی ، ترقی اور روحانی تکمیل کی طرف سب کی رہنمائی کرتا رہے۔
اُنہوں نے کشمیری پنڈت کمیونٹی کے اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ تمام عقیدت مندوں کے لئے ایک پُر سکون اور روحانی تجربے کو یقینی بنانے کے لئے جامع اِنتظامات کامیابی سے مکمل کئے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی اِنتظامیہ کی پیشگی اور فعال کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اِنتظامیہ ملک بھر سے آنے والے عقیدت مندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے اور معاون خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لئے پوری طرح پُر عزم ہے۔ اُنہوں نے سالانہ میلے کے اِنعقاد کے لئے تمام شراکت داروں کی باہمی ہم آہنگی اور بہترین اِنتظامات کی بھی سراہناکی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مختلف کشمیری پنڈت تنظیموں کے نمائندوں، پی ایم پیکیج ملازمین اور سول سوسائٹی کے وفود سے بھی ملاقات کی۔ اُنہوں نے ان کے مسائل بغورسُنااور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ کے عزم کا یقین دِلایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ اس سال یہاں آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اِنتظامیہ نے عقیدت مندوں کی سہولیت ، سلامتی اور یاترا کے پُرامن اور منظم و احسن اِنعقاد کو یقینی بنانے کے لئے جامع اور فول پروف انتظامات کئے ہیں۔
اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری اَتل ڈولو ، ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، صوبائی کمشنر کشمیر اَنشل گرگ، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل جِتن کشور، ریلیفاینڈ رِی ہیبلی ٹیشن کمشنرڈاکٹر اروند کاروانی، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران اور کشمیری پنڈت تنظیموں کے سربراہان بھی موجود تھے۔
کھیربھوانی کے دربار سے اُبھری واپسی کی صدا

شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں منعقدہ سالانہ کھیربھوانی میلہ اس بار کشمیری پنڈتوں کی اپنے آبائی وطن واپسی کی خواہش کا مظہر بن گیا۔ زیٹھ اشٹمی کے موقع پر ٹِکّر گاؤں میں واقع ماتا راگنیا دیوی کے آستانے پر جمع ہوئے سینکڑوں عقیدت مندوں نے حکومت سے مستقل بازآبادکاری اور محفوظ واپسی کے لئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یاتریوں کا کہنا تھا کہ برسوں کی جدائی کے باوجود ان کا رشتہ کشمیر سے کبھی منقطع نہیں ہوا۔ اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے ایک عقیدت مند نے کہا کہ اب وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری پنڈت باعزت طریقے سے اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
جموں سے آئی ایک خاتون یاتری، جن کا تعلق پلوامہ سے ہے، نے جذباتی انداز میں کہا، "ہم ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ کشمیر ہمیشہ سب کا مشترکہ گھر رہا ہے۔ مسلمان، سکھ اور پنڈت ایک بار پھر ساتھ رہیں، یہی ہماری خواہش ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وادی سے دور رہنے کے باوجود ان کے خاندان نے اپنی زبان اور ثقافت کو محفوظ رکھا ہے۔ "کشمیر ہماری مادرِ وطن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔”
عقیدت مندوں نے امن، تحفظ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو واپسی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عزت، سلامتی اور قبولیت کا ماحول میسر ہو تو بہت سے کشمیری پنڈت دوبارہ وادی میں بسنے کے لئے تیار ہیں۔
شرکاء نے انتظامیہ اور مقامی لوگوں کی جانب سے کیے گئے استقبال اور تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے مواقع مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کریں گے اور بچھڑے ہوئے خاندانوں کی واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔
میرواعظ کی میلہ کھیر بھوانی پر مبارکباد
میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نےX پر ایک پوسٹ میں میلہ کھیر بھوانی کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ میں میلہ کھیر بھوانی کے موقع پر اپنے کشمیری پنڈت بھائیوں کو پُرتپاک مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ یہ دن باہمی احترام، بھائی چارے اور کشمیر کے اُس مشترکہ ورثے کے جذبے کی تجدید کا باعث بنے جو ہمیں ورثے میں ملا ہے۔“


