جنگ نیوز
سری نگر/جموں و کشمیر کے طبی شعبے میں ایک تاریخی کامیابی اس وقت رقم ہوئی جب SKIMS نے تین سالہ کشمیری بچے پر پہلا کامیاب Matched Unrelated Donor (MUD) Stem Cell Transplant انجام دیا۔
بچہ HLH نامی نایاب اور جان لیوا بیماری میں مبتلا تھا۔ اس کی زندگی اس وقت بچ گئی جب پولینڈ کے ایک گمنام رضاکار نے اپنے Stem Cells عطیہ کیے۔ عالمی ادارے DKMS نے انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطیہ دہندہ سے متعلق اخراجات بھی معاف کر دیے۔
اس کامیابی کو مزید جذباتی بنا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ بچے کے والد محمد اشرف شیخ دو سال قبل اسی بیماری کے باعث اپنی بیٹی کو کھو چکے تھے۔ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبے اس خاندان کو SKIMS کے ڈاکٹروں نے امید دلائی اور کامیاب ٹرانسپلانٹ کے ذریعے ان کے دوسرے بچے کو نئی زندگی عطا کی۔
SKIMS کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف گنائی نے اس کامیابی کو جموں و کشمیر میں جدید طبی خدمات کے لئے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے عوام سے Stem Cell Donor کے طور پر رجسٹر ہونے کی اپیل کی۔
یہ کامیابی صرف ایک طبی کارنامہ نہیں بلکہ انسانیت، عالمی تعاون اور امید کی ایسی داستان ہے جس نے ایک بکھرتے ہوئے خاندان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دیا۔


