حسین ابن علیؑ کی زندگی پر فاروق اعظم کی سیرت کے اثرات

 

    ریاض فردوسی

ظلم کہ آگے سر نہ جھکے
اور شہادت حسین کیا ہے؟

حسین ابن علیؓ اسلام کی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ہیں۔وہ مولی علی کرم اللہ وجہہ اور خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزند اور محمد رسول اللّٰہ ﷺ کے نواسے تھے۔
ان کی شہادت 10 محرم 61 ہجری (10 اکتوبر 680ء) کو کربلا میں ہوئی،اور یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں "واقعۂ کربلا” کے نام سے معروف ہے۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید کو خلافت سونپی گئی۔
اس جانشینی پر بعض ممتاز مسلمانوں کو اعتراض تھا،کیونکہ ان کے نزدیک خلافت مشاورت اور رضامندی سے ہونی چاہیے تھی۔
حضرت حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔اسی دوران کوفہ کے بہت سے لوگوں نے خطوط لکھ کر انہیں دعوت دی کہ وہ وہاں آ کر قیادت سنبھالیں۔
حضرت حسینؓ نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا مسلم ابن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تاکہ حالات کا جائزہ لیں۔ابتدا میں کوفہ کے لوگوں نے حمایت کا وعدہ کیا،لیکن بعد میں اموی گورنر کے دباؤ اور سیاسی حالات کے باعث اکثر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔مسلم بن عقیل کو گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔
اس کے باوجود حضرت حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور چند ساتھیوں کے ساتھ سفر جاری رکھتے ہوئے کربلا پہنچے۔
2 محرم 61 ہجری کو حضرت حسینؓ کا قافلہ کربلا میں روک لیا گیا۔اموی فوج نے ان کے گرد محاصرہ کر لیا اور پانی تک رسائی محدود کر دی۔
10محرم (یوم عاشورا) کو جنگ شروع ہوئی۔حضرت حسینؓ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم تھی،جبکہ مخالف فوج کہیں زیادہ بڑی تھی۔ایک ایک کرکے ان کے رفقا اور اہلِ خاندان شہید ہوتے گئے،جن میں ان کے بھائی،بھتیجے،بیٹے اور دیگر قریبی عزیز شامل تھے۔
آخرکار حضرت حسینؓ بھی میدانِ جنگ میں شہید کر دیے گئے۔
مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر واقعۂ کربلا کی تفصیلات کی بعض تشریحات میں اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ:
حضرت حسینؓ نے اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے ظلم،جبر یا غیر منصفانہ اقتدار کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔
ان کی قربانی اسلامی تاریخ میں حق،انصاف اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
واقعۂ کربلا نے مسلمانوں کی سیاسی،مذہبی اور فکری تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کو مرکزی مذہبی و روحانی اہمیت حاصل ہے،اور محرم خصوصاً عاشورا کے ایام غم و یاد کے طور پر منائے جاتے ہیں۔تمام مکاتب فکر میں حضرت حسینؓ کو جلیل القدر صحابی زادے اور اہلِ بیت کے عظیم فرد کے طور پر انتہائی احترام حاصل ہے،اور ان کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ سمجھا جاتا ہے۔

واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھا بلکہ اصول،وفاداری،قربانی اور حق پر ثابت قدمی کی ایک تاریخی مثال بن گیا۔
سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کو دنیا بھر کے مسلمان مختلف انداز سے یاد کرتے ہیں،اور ان کی زندگی اور قربانی آج بھی اخلاقی جرات اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
حسین ابن علی نے اپنے عقیدے اور اصولوں کے مطابق حق اور انصاف کے دفاع کے لیے قربانی دی،اور اسی وجہ سے ان کی شہادت اسلامی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت پر فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کردار کا بہت گہرا اثر تھا۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعض اقدام کو اسی طرح سے دیکھا جا سکتا ہے جس طرح فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے اصول اور اپنے کردار پر پکے نظر آتے ہیں۔ظلم کے خلاف جنگ میں جس طرح سے فاروق اعظم صف اول میں کھڑے نظر آتے تھے،اسی طرح سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ظالم کے آگے جھکنا پسند نہ کیا،اپنےخاندان کو قربان کر دیا،اپنے سر کو تن سے جدا کرنا پسندتو کیا لیکن اسلام کی عظمت کو پامال نہیں ہونے دیا۔
جب جناب علی اکبر کو زخمی حالت میں آپ علیہ السلام کے سامنے لایا گیا،علی اکبر کے سینے میں نیزے کی کڑیاں گھسی ہوئی تھی،سیدنا حسین نے اپنے بیٹے کے سینے سے نیزے کو نکالا تو نیزے کے ساتھ ساتھ بیٹے کا جواں دل بھی نکل کر سامنے آگیا،تاریخ پوچھتی ہے؟ حسین ہے ہمت بیٹے کا خون سے سنا ہوا دل دیکھنے کی؟
حسین جواب دیتے ہیں،نانا کے گود میں پلا ہوں۔اسلام کا خون دیکھنے کی ہمت نہیں ہے،ہاں اسلام کو بچانے والے کا خون دیکھنے کی ہمت مجھ میں ہے۔
اب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی دیکھیے اسلامی شعار کی خاطر جب ان کے فرزند نے گناہ کیا تو انہوں نے اسلامی قانون کے تحت اپنے بیٹے کو سزا دی حتی کہ ان کے فرزند کا انتقال ہوگیا فاروق اعظم نے اپنے بیٹے کو شریعت اسلام پر قربان کر دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شریعت کے لیے ہر چیز قربان کی جانی چاہیے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا ظالم کے حوالے سے سب سے مشہور اور بنیادی قول یہ ہے: "ظالم کو معاف کر دینا مظلوموں پر ظلم ہے۔” آپ کا ماننا تھا کہ ظالم کو سزا دیے بغیر چھوڑنا معاشرے میں ناانصافی کو بڑھاتا ہے اور کمزوروں کا حق مارنے کے مترادف ہے۔
حضرت امام حسین علی جدہ و علیہ السلام فرماتے ہیں۔ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا،خود ایک ظلم ہے۔

جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فاروق اعظم کا رد عمل دیکھیے اور یزید بن امیر معاویہ کی بیعت میں حسین بن علی کا اصول دیکھیے،اس کے علاوہ بہت سی مثالیں ہیں جیسے لگتا ہے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر عمر بن خطاب رضی تعالی اللہ عنہ کی سیرت کا بہت گہرا اثر تھا۔
حضرت حسین ابن علیؓ اور خلیفہ دوم عمر بن الخطابؓ کے درمیان گہرا اور محبت پر مبنی تعلق تھا۔حضرت عمرؓ اہل بیت اور نواسۂ رسول ﷺ کی بے حد تعظیم کرتے تھے،انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر مانتے تھے،اور اسلامی ریاست کے بیت المال سے ان کا خاص وظیفہ مقرر کیا تھا۔اہم معاملات اور مشوروں میں حضرت عمرؓ،حضرت علیؓ کے ساتھ ساتھ جوان حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی رائے کو بھی اہمیت دیتے تھے،جس سے ان کی بالغ نظری اور علم کا اظہار ہوتا ہے۔عدل کے معاملے میں دونوں مقدس شخصیات کا کردار دیکھیے،ظالم کے خلاف دونوں منور شخصیات کا کردار دیکھیے،جلال میں دونوں بزرگوں کا کردار دیکھیے،جذبات میں دونوں عظیم شخصیتوں کا کردار دیکھیے،ایسا لگتا ہے جیسے ایک سکے کے دو پہلو ہوں،
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مدینے میں کہیں جا رہے تھے کہ اچانک حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ اور امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم سامنے سے آگئے،حضرت علی نے سلام کیا اور فاروق اعظم کا ہاتھ تھام لیا جبکہ امام حسن و امام حسین فاروقِ اعظم کے دائیں بائیں آکر کھڑے ہوگئے،اتنے میں فاروق اعظم پر گریہ طاری ہوگیا،یہ دیکھ کر حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کی:اے امیر المؤمنین!کس وجہ سے آپ رو رہے ہیں؟

حضرت عمر فاروق نے فرمایا:اے علی ! مجھ سے زیادہ رونے کا حقدار کون ہے؟مجھے اس امت کا والی و حکمران مقرر کردیا گیا ہے،میں ان میں فیصلے کرتا ہوں،اب مجھے نہیں معلوم کہ اچھا فیصلہ کرتا ہوں یا غلطی کر بیٹھتا ہوں،
حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا:اللہ کی قسم ! آپ عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں،مگر حضرت علی کی یہ بات فاروق اعظم کے آنسو بند نہ کرسکی،یہ دیکھ کر امام حسن نے حضرت عمر فاروق کی حکومت اور عدل و انصاف کے بارے میں تعریفی گفتگو کی،مگر حضرت عمر فاروق کے آنسو زار و قطار بہتے رہے،پھر امام حسین نے بہت مدلل انداز میں مؤدبانہ کلام کیاان کے عدل کی بہت تعریفیں کی،ادھر حضرت امام حسین کا کلام ختم ہوا اُدھر فاروق اعظم کے آنسو تھم گئے،اس کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کہنے لگے:اے میرے دونوں بھتیجو! کیا تم اس بات پر گواہ بن کر رہو گے؟
دونوں شہزادے خاموش رہے پھر اپنے والد محترم حضرت مولا علی کی جانب دیکھا تو حضرت علی نے فرمایا :تم دونوں اس بات پر گواہ بن جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات پرگواہ ہوں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

حسین ابن علیؑ کی زندگی پر فاروق اعظم کی سیرت کے اثرات

 

    ریاض فردوسی

ظلم کہ آگے سر نہ جھکے
اور شہادت حسین کیا ہے؟

حسین ابن علیؓ اسلام کی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ہیں۔وہ مولی علی کرم اللہ وجہہ اور خاتون جنت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزند اور محمد رسول اللّٰہ ﷺ کے نواسے تھے۔
ان کی شہادت 10 محرم 61 ہجری (10 اکتوبر 680ء) کو کربلا میں ہوئی،اور یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں "واقعۂ کربلا” کے نام سے معروف ہے۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید کو خلافت سونپی گئی۔
اس جانشینی پر بعض ممتاز مسلمانوں کو اعتراض تھا،کیونکہ ان کے نزدیک خلافت مشاورت اور رضامندی سے ہونی چاہیے تھی۔
حضرت حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔اسی دوران کوفہ کے بہت سے لوگوں نے خطوط لکھ کر انہیں دعوت دی کہ وہ وہاں آ کر قیادت سنبھالیں۔
حضرت حسینؓ نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا مسلم ابن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تاکہ حالات کا جائزہ لیں۔ابتدا میں کوفہ کے لوگوں نے حمایت کا وعدہ کیا،لیکن بعد میں اموی گورنر کے دباؤ اور سیاسی حالات کے باعث اکثر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔مسلم بن عقیل کو گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔
اس کے باوجود حضرت حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور چند ساتھیوں کے ساتھ سفر جاری رکھتے ہوئے کربلا پہنچے۔
2 محرم 61 ہجری کو حضرت حسینؓ کا قافلہ کربلا میں روک لیا گیا۔اموی فوج نے ان کے گرد محاصرہ کر لیا اور پانی تک رسائی محدود کر دی۔
10محرم (یوم عاشورا) کو جنگ شروع ہوئی۔حضرت حسینؓ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم تھی،جبکہ مخالف فوج کہیں زیادہ بڑی تھی۔ایک ایک کرکے ان کے رفقا اور اہلِ خاندان شہید ہوتے گئے،جن میں ان کے بھائی،بھتیجے،بیٹے اور دیگر قریبی عزیز شامل تھے۔
آخرکار حضرت حسینؓ بھی میدانِ جنگ میں شہید کر دیے گئے۔
مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر واقعۂ کربلا کی تفصیلات کی بعض تشریحات میں اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ:
حضرت حسینؓ نے اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے ظلم،جبر یا غیر منصفانہ اقتدار کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔
ان کی قربانی اسلامی تاریخ میں حق،انصاف اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
واقعۂ کربلا نے مسلمانوں کی سیاسی،مذہبی اور فکری تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کو مرکزی مذہبی و روحانی اہمیت حاصل ہے،اور محرم خصوصاً عاشورا کے ایام غم و یاد کے طور پر منائے جاتے ہیں۔تمام مکاتب فکر میں حضرت حسینؓ کو جلیل القدر صحابی زادے اور اہلِ بیت کے عظیم فرد کے طور پر انتہائی احترام حاصل ہے،اور ان کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ سمجھا جاتا ہے۔

واقعۂ کربلا صرف ایک جنگ نہیں تھا بلکہ اصول،وفاداری،قربانی اور حق پر ثابت قدمی کی ایک تاریخی مثال بن گیا۔
سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کو دنیا بھر کے مسلمان مختلف انداز سے یاد کرتے ہیں،اور ان کی زندگی اور قربانی آج بھی اخلاقی جرات اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
حسین ابن علی نے اپنے عقیدے اور اصولوں کے مطابق حق اور انصاف کے دفاع کے لیے قربانی دی،اور اسی وجہ سے ان کی شہادت اسلامی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت پر فاروق اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کردار کا بہت گہرا اثر تھا۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعض اقدام کو اسی طرح سے دیکھا جا سکتا ہے جس طرح فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے اصول اور اپنے کردار پر پکے نظر آتے ہیں۔ظلم کے خلاف جنگ میں جس طرح سے فاروق اعظم صف اول میں کھڑے نظر آتے تھے،اسی طرح سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ظالم کے آگے جھکنا پسند نہ کیا،اپنےخاندان کو قربان کر دیا،اپنے سر کو تن سے جدا کرنا پسندتو کیا لیکن اسلام کی عظمت کو پامال نہیں ہونے دیا۔
جب جناب علی اکبر کو زخمی حالت میں آپ علیہ السلام کے سامنے لایا گیا،علی اکبر کے سینے میں نیزے کی کڑیاں گھسی ہوئی تھی،سیدنا حسین نے اپنے بیٹے کے سینے سے نیزے کو نکالا تو نیزے کے ساتھ ساتھ بیٹے کا جواں دل بھی نکل کر سامنے آگیا،تاریخ پوچھتی ہے؟ حسین ہے ہمت بیٹے کا خون سے سنا ہوا دل دیکھنے کی؟
حسین جواب دیتے ہیں،نانا کے گود میں پلا ہوں۔اسلام کا خون دیکھنے کی ہمت نہیں ہے،ہاں اسلام کو بچانے والے کا خون دیکھنے کی ہمت مجھ میں ہے۔
اب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی زندگی دیکھیے اسلامی شعار کی خاطر جب ان کے فرزند نے گناہ کیا تو انہوں نے اسلامی قانون کے تحت اپنے بیٹے کو سزا دی حتی کہ ان کے فرزند کا انتقال ہوگیا فاروق اعظم نے اپنے بیٹے کو شریعت اسلام پر قربان کر دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شریعت کے لیے ہر چیز قربان کی جانی چاہیے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا ظالم کے حوالے سے سب سے مشہور اور بنیادی قول یہ ہے: "ظالم کو معاف کر دینا مظلوموں پر ظلم ہے۔” آپ کا ماننا تھا کہ ظالم کو سزا دیے بغیر چھوڑنا معاشرے میں ناانصافی کو بڑھاتا ہے اور کمزوروں کا حق مارنے کے مترادف ہے۔
حضرت امام حسین علی جدہ و علیہ السلام فرماتے ہیں۔ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا،خود ایک ظلم ہے۔

جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فاروق اعظم کا رد عمل دیکھیے اور یزید بن امیر معاویہ کی بیعت میں حسین بن علی کا اصول دیکھیے،اس کے علاوہ بہت سی مثالیں ہیں جیسے لگتا ہے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر عمر بن خطاب رضی تعالی اللہ عنہ کی سیرت کا بہت گہرا اثر تھا۔
حضرت حسین ابن علیؓ اور خلیفہ دوم عمر بن الخطابؓ کے درمیان گہرا اور محبت پر مبنی تعلق تھا۔حضرت عمرؓ اہل بیت اور نواسۂ رسول ﷺ کی بے حد تعظیم کرتے تھے،انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر مانتے تھے،اور اسلامی ریاست کے بیت المال سے ان کا خاص وظیفہ مقرر کیا تھا۔اہم معاملات اور مشوروں میں حضرت عمرؓ،حضرت علیؓ کے ساتھ ساتھ جوان حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی رائے کو بھی اہمیت دیتے تھے،جس سے ان کی بالغ نظری اور علم کا اظہار ہوتا ہے۔عدل کے معاملے میں دونوں مقدس شخصیات کا کردار دیکھیے،ظالم کے خلاف دونوں منور شخصیات کا کردار دیکھیے،جلال میں دونوں بزرگوں کا کردار دیکھیے،جذبات میں دونوں عظیم شخصیتوں کا کردار دیکھیے،ایسا لگتا ہے جیسے ایک سکے کے دو پہلو ہوں،
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مدینے میں کہیں جا رہے تھے کہ اچانک حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ اور امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم سامنے سے آگئے،حضرت علی نے سلام کیا اور فاروق اعظم کا ہاتھ تھام لیا جبکہ امام حسن و امام حسین فاروقِ اعظم کے دائیں بائیں آکر کھڑے ہوگئے،اتنے میں فاروق اعظم پر گریہ طاری ہوگیا،یہ دیکھ کر حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کی:اے امیر المؤمنین!کس وجہ سے آپ رو رہے ہیں؟

حضرت عمر فاروق نے فرمایا:اے علی ! مجھ سے زیادہ رونے کا حقدار کون ہے؟مجھے اس امت کا والی و حکمران مقرر کردیا گیا ہے،میں ان میں فیصلے کرتا ہوں،اب مجھے نہیں معلوم کہ اچھا فیصلہ کرتا ہوں یا غلطی کر بیٹھتا ہوں،
حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا:اللہ کی قسم ! آپ عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں،مگر حضرت علی کی یہ بات فاروق اعظم کے آنسو بند نہ کرسکی،یہ دیکھ کر امام حسن نے حضرت عمر فاروق کی حکومت اور عدل و انصاف کے بارے میں تعریفی گفتگو کی،مگر حضرت عمر فاروق کے آنسو زار و قطار بہتے رہے،پھر امام حسین نے بہت مدلل انداز میں مؤدبانہ کلام کیاان کے عدل کی بہت تعریفیں کی،ادھر حضرت امام حسین کا کلام ختم ہوا اُدھر فاروق اعظم کے آنسو تھم گئے،اس کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کہنے لگے:اے میرے دونوں بھتیجو! کیا تم اس بات پر گواہ بن کر رہو گے؟
دونوں شہزادے خاموش رہے پھر اپنے والد محترم حضرت مولا علی کی جانب دیکھا تو حضرت علی نے فرمایا :تم دونوں اس بات پر گواہ بن جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات پرگواہ ہوں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں