’’واقعہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایثار قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان ہے

قیصر محمودعراقی
امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو رسم کی شکل دینے کی عادی ہو چکی ہے ۔ شہادت حسین ؓ کا واقعہ بھی سالانہ رسم کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ واقعہ کربلا ہر سال جس عظیم مقصد کے لئے دی گئی شہادت کی یاد دلانے آتا ہے ، اس مقصد کو کسی بھی جگہ یاد نہیں دلایا جاتا ۔ یکم محرم سے ہی سڑکوں اور محلوں میں ہر طرف ماتم کا سما بندھ جاتا ہے لیکن افسوس کہ کسی بھی جگہ حضرت امام حسین ؓ کے مقصد ِشہادت کی بات نہیں دہرائی جاتی ۔ جبکہ واقعہ کربلا ہر پہلو سے کوئی نہ کوئی سبق دیتا نظر آتا ہے مگر ہمارے علمائے کرام صرف اور صرف واقعات کربلا بیان کر کے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جا تے ہیں ۔کربلا سے جو عظیم سبق ملی ہے اُسے امت کو نہیں بتاتے ، یہی وجہ ہے کہ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی اس واقعے پر مسلمان چند دن خوب ماتم کر کے ، تعزیہ اور اکھاڑہ نکال کر یہ اطمینان کر لیتے ہیں کہ ہم نے امام حسین ؓ سے وابستگی کا حق ادا کر دیا ہے ، جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔
اسلامی تاریخ کا ہر واقعہ اپنے اندر عبرت و موعظت کا بے پناہ سامان رکھتا ہے اور عملی زندگی میں اس سے بہت کچھ رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ کسی بھی تاریخی واقعہ سے عملی رہنمائی حاصل کر نے پر کم ہی تو جہ دی جاتی ہے جبکہ زندہ قومیں ماضی سے روشنی حاصل کر کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے کوشاں رہتی ہیں ۔ واقعہ کربلا کا اگر مطالعہ کیا جا ئے اور شہادت امام حسین ؓ کی شہادت کے مقصد کو سمجھا جا ئے تو امت مسلمہ اور ایک مومن کے لئے ان کے شہادت میں سے بے شمار ایسے پیغامات ملتے ہیں جس کے ذریعہ امت مسلمہ اور ایک مومن کی عملی زندگی کی بہترین رہنمائی ہو سکتی ہے ، جس کو اپنا کر امت مسلمہ اور ایک مومن اپنی زندگی اور معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔
حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا امت مسلمہ کو سب سے بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو حق اور دین حق سے اس درجہ عشق ہو نا چاہیے کہ وہ حق کے لئے جان قربان کر نے سے بھی گریز نہ کر ے ۔ یزید کے بیعت کے وقت جو صورت حال تھی اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اسلامی نظام حکومت اپنی اصل سے ہٹ رہا ہے ۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں خلافت کا نظام رائج تھا اور اسلام جس نظام حکومت کی بنیاد رکھتا ہے وہ یہی نظام خلافت ہے ۔ یزید کی آمد کے ساتھ اسلامی نظام حکومت کی ڈگر سے ہٹ کر ملوکیت میں تبدیل ہو گیاتھا اور یہ اسلامی نظام حکومت سے ایسی تبدیلی تھی کہ جس کے اثرات صدیوں تک باقی رہے ۔ ملوکیت خلافت کی ضد ہے ۔ خلافت و  ملوکیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ خلافت میں امیر المومنین کا طرز زندگی ایک عام رعایا کی طرح ہوتا ہے لیکن ملوکیت میں شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہوتی ہے ۔ خلافت میں لوگوں کو خلیفہ کے محاسبہ کی آزادی ہوتی ہے ملک کا ادنی سا شہری بھی خلیفہ کی باز پرُس کر سکتا ہے لیکن ملو کیت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ ملوکیت میں بادشاہ محاسبہ سے ماورا ہوتا ہے ۔ خلافت میں سارے معاملات کتاب و سنت کے مطابق طے کئے جا تے ہیں،جبکہ ملوکیت میں بادشاہ سارے فیصلے اپنی انفرادی رائے سے نافذ کر تا ہے ۔ خلافت و ملوکیت کے اس فرق سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یزید کا اقتدار میں آنا کسی خطر ناک تبدیلی کا پیش خیمہ تھا ۔ ایسے موقع پر اگر حضرت حسین ؓ یزید کے سامنے ڈٹ کر نہ کھڑے ہو تے اور جان کی قربانی نہ دیتے تو اسلامی خلافت کے تصور کا کتابوں میں محفوظ رہنا بھی مشکل ہوتا ۔
حضرت امام حسین ؓ کی شہادت سے دوسرا بڑا اور اہم پیغام امت مسلمہ کو یہ ملتا ہے کہ ایک مسلمان مومن کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی حق پر ڈٹے رہنا چاہیے ۔ کیسے بھی حالات ہوں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہو نا چاہیے ، باطل کے خوف سے ایمان کو کمزور نہیں کرنا چاہیے ۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا تیسرا اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ مومن کو مخالفانہ ماحول سے کبھی متاثر نہیں ہو نا چاہیے ۔ بیعت یزید کے وقت زیادہ تر لوگ خوف کے مارے خاموشی اختیار کئے ہو ئے تھے ۔ ماحول بالکل مخالفانہ تھا لیکن حضرت امام حسینؓ نے اس کی پرواہ نہیں کی اور حق کے لئے اُٹھ کھڑے ہو ئے ۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ مومن کو حق کے دفاع کے لئے ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کر نا چاہیے ، علمبردان حق کبھی ظاہری اسباب ، تعداد و اسلحہ سے مرعوب نہیں ہو تے ۔ واقعہ کربلا سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مصیبت ہو یا خوش حالی میں مومن احکام الہیٰ کا پابند ہوتا ہے ۔ عین حالات جنگ میں بھی حضرت امام حسین ؓ اور ان کے اہل و عیال نے نماز ترک نہیں کی ۔ حضرت اما م حسین ؓ کی شہادت اس بات کی بھی نشاندہی کر تی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو بھی تاریخ میں بلند مقام عطا فرمایا اُسے پہلے آزمائش میں مبتلا کیا ۔ ایمان کے ساتھ اتحاد ضروری ہوتا ہے ۔ اہل ایمان کی زندگی آسان نہیں ہوتی ، آزمائشوں پر پورا اترنے والے لوگ ہی عظیم ہو تے ہیں۔ واقعہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں ہے ، یہ حریت ، خوداری ، شعور ، شجاعت ، ایثار و قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جو قیامت تک لکھی ، پڑھی اور دہرائی جا ئے گی ۔ حضرت امام حسین ؓ نے اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات کے لئے اپنی جان کی قربانی دی ، انہوں نے اپنے عمل سے قیامت تک کے لوگوں کو بتا دیا کہ حق کے لئے سر کٹوایا جا سکتا ہے اور مومن کا سر حق کے لئے کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتا لیکن آج امت مسلمہ میں جتنے انتشار اور مسائل ہیں وہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کے مقصد کو بھلانے کی وجہ سے ہے ۔ آج بیشتر مسلمان بدعات و خرافات میں ملوث ہیں اور حسین ؓ کی آڑ میں یزید یت کو فروغ دے رہے ہیں ۔
حیف صد حیف آج ہم صرف نام کے مسلمان ہیں نام کے حسینی بنتے ہیں ، یہی وجہہ کہ دشمن اسلام مسلمانوں پر وار پر وار کر رہے ہیں ۔ ہر طرف مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے ۔ عبادت گاہیں مسمار کی جا رہی ہیں ، نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی جا رہی ہے ، قرآن مجید کو جلا یا اور پھاڑا جا رہا ہے ۔ لیکن ہم میں دشمنوں سے لوہا لینے کے لئے کوئی امام حسین ؓ کے کر دار کو نہیں اپناتا ۔ زبان پر فقط یا حسینؓ یا حسینؓ ہے لیکن عمل ساری یزید والی ہے ۔ اگر کوئی ان خرافات کی نکیر کر ے تو اُسے مسلک کے آئینے سے دیکھا جاتا ہے اور پھر بد عقیدہ اور گستاخ قرار دے دیا جاتا ہے ۔ آج ہمارے مسلکی تعصب اور دوغلے پن کی وجہ سے ملی و حدت پارہ پارہ ہو چکی ہے اور بحیثیت مسلمان ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے کیونکہ امام حسینؓ کو عصرِ حاضر کے مسلمانوں نے یزید سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ یزیدی افواج نے امام حسین ؓ کا سر مبارک تن سے جدا کر کے شہید کر دیا جبکہ آج کانام نہاد مسلمام امام عالی مقام کی روح اطہر کو پل پل زخمی کر رہا ہے ۔ نواسہ رسول ﷺ نے دین اسلام کی خاطر جان دی اور ہمارے علما کرام اور ہم مسلمان پیٹ پالنے کے لئے دین بیچ رہے ہیں ۔ درس کربلا یہ ہے کہ ظالم قوتوں کے خلاف نفرت کا اظہار کر یں ۔ لیکن واہ رے آج کا مسلمان اپنے ہی کلمہ گو بھائی کے خلاف نفرت کا اظہار کر تا ہے ۔ امام حسین نے محبت و اُخوت کا پیغام دیا اور ہم ایک دوسرے کو قتل کر کے خوش ہو رہے ہیں ۔
آج ہمارا کوئی عمل سیرت حسینؓ سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ ہم تو وہ مسلمان ہیں جو حضور اکرمﷺ پر جان قربان کر نے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی بات ماننے اور سیر ت طیبہ پر عمل کر نے کے لئے تیار نہیں ۔ آج ہمارے ازلی دشمن جگہ جگہ تلاش کر کے ہم مسلمانوں کو ماررہے ہیں کیوں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم راہ ہدایت سے بھٹک چکے ہیں ۔
لہذا مسلمانو!تاریخ کا مطالعہ کرو، تب تمہیں معلوم ہو گا کہ کربلا والے امام حسین ؓ نے نیزے پر قرآن پاک کی تلاوت کی اور کچھ اس طرح سے اسلام کا چراغ روشن کر دیا جس کو  کوئی طوفان نہ بجھا سکا ا ور نہ بجھا سکے گا ۔ لیکن  یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج نام نہاد مسلمان اس ماہ مبارک میں اعمال صالحہ کے بجائے طرح طرح کی بدعات و خرافات اور ناجائز رسومات میں غرق ہے اور ان ہی رسموں کو اپنا دینی شعار تصور کر تا ہے ۔ اب تو صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ محرم کا مہینہ شروع ہو تے ہی کربلا کی یاد شروع ہو جاتی ہے ، اسٹیج سجنے لگتے ہیں  ۔ بڑے بڑے علما کرام چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر کے ہوں فضائل محرم اور حادثہ کربلا سے متعلق بے سر وپا روایات کو پورے زور و قوت کے ساتھ بیان کر تے نظر آتے ہیں ۔ پورا عشرہ ان کی تقریروں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، واقعات کربلا سے متعلق تمام واقعات کو اپنی لچھے دار تقریر کے ذریعہ اس طرح بیان کر تے ہیں گویا میدان کربلا میں وہ خودبہ نفس نفیس موجود تھے ۔ ان کی لن ترانی سے اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی امام حسین ؓ کی شہادت کے معاملے میں جذبات کا شکار ہو جا تے ہیں ۔ حالانکہ میدان کربلا سے جو درس ملتی ہے ۔ جو سبق ملتا ہے وہ ہمارے  علماء کرام بیان نہیں کر تے ۔ کیونکہ انہیں اپنی پھولی ہو ئی تو ند کے پچک جا نے کا ڈر اور جما ہوا سکہ اُکھڑ جا نے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ اس لئے نہ حق بیان کر تے ہیں اور نہ اُمت کو حق بیانی کا درس دیتے ہیں جبکہ کربلا سے سبق ملتا ہے ۔ نماز کا ، کہ تلوار کے سائے میں بھی نماز ادا کی جا ئے کیونکہ یہ وہ نماز ہے جو حضور اکرم ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ جو جنت کی کنجی ہے اور جو لوگوں کو بے حیائی سے روکتی ہے ، مگر افسوس مولوی حضرت نماز کی تلقین نہیں کر تے جس وجہہ کر امت کا بیشتر نوجوان محرم کے ایام میں طرح طرح کی بدعات و خرافات میں ملوث رہتا ہے ۔ نماز یں فوت ہو رہی ہے مگر تعزیہ بنانا نہیں جھوٹتا ، نمازیں فوت ہو رہی ہے مگر اکھاڑہ نکالنا اور کھیلنا بند نہیں ہو رہا ہے ، نماز یں فوت ہو رہی ہے مگر کھچڑا اور ملیدہ نہیں چھوٹتا۔
کربلا سے سبق ملتا ہے صبر کا ، کہ امام حسین ؓ کے گھر والے جام شہادت نوش فرما رہے ہیں مگر امام حسین ؓ صبر پر صبر کئے جا رہے ہیں ، اس کے بر عکس آج کا مسلمان جو خود کو حسینی کہتے نہیں تھکتا ، ایک ذرا سی مصیبت کیا آن پڑی کہ صبر کا دامن چھوڑ کر ادھر اُدھر بھٹکنے لگتا ہے ۔ کربلا سے سبق ملتا ہے پر دے کا کہ عورتوں کے سروں سے دو پٹہ کھینچ لیا جاتا ہے پھر بھی عورتیں حجاب کا دامن تھا مے ہو ئے ہیں یعنی اپنی بالوں سے چہرہ کو چھپائے رکھا ، اس کے بر عکس ہماری آج کل کی ماں اور بہنیں بے پردگی کا وہ مظاہرہ کر تی ہیں کہ شرم سے سر جھک جاتا ہے ۔ خاص کر محرم کے ایام میں تعزیہ اور اکھاڑے کے دوران تماشا دکھانے والے نوجوان اور تماش بین یہ عورتیں ہوتی ہیں ۔ کاش ہر مولوی کربلا کی واقعات نہ بیان کر کے کربلا سے ملنے والی سبق اور درس کو بیان کر تے تو شاید یہ بدعات و خرافات جسے مذہب کا حصہ سمجھ کر کیا جا رہا ہے وہ بند ہو جاتا ۔
تعزیت اصل میں کسی مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین اور تسکین دینے کو کہا جاتا ہے ، لیکن آج تعزیت کو تعزیہ محرم میں بدل دیا گیا ہے جو کہ حضرت حسین ؓ کے روضہ کی نقل کہلاتا ہے ، کوئی اس سے مرادیں مانگتا ہے ، کوئی اولاد تو کوئی بیماری سے شفا طلب کر تا ہے ، کوئی یہ کہہ کر نذر مانتا ہے کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہو گئی تو آئندہ سال امام حسین ؓ کا تعزیہ بنا کر اس پر چڑھا وے چڑھائونگا ۔ کوئی ہا ئے حسین ؓ ہا ئے حسین ؓ کا نعرہ و صدا بلند کر تا ہے ، کوئی ڈھول تاشا بجا کر اُچھل کود کر تا ہے ، کوئی تلوار اور نیزہ لے کر کھیلتا ہے ور پھر دسویں محرم کو گلی کو چوں اور بازاروں میں چکر لگا کر ایک میدان میں لے جا کر دبا دیتا ہے ، جس میدان کو کربلا کہا جاتا ہے ۔ ذرا غور کریں تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ جو والدین اپنے بچوں کو کتاب و قلم خرید کر دینے کی سکت نہیںرکھتے وہ محرم میں دس دنوں کے لئے پانچ سو روپئے کا ڈھول اور تا شا ضرور خرید کر دیتے ہیں اور یہ سب کچھ کون کر تا ہے۔ آریہ نہیں ، یہودی نہیں ، عیسائی نہیں ، سکھ نہیں ، پارسی نہیں ، ہندو نہیں بلکہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے اور مسلمانوں میں بھی اپنے آپ کو سنی اور حسینی کہلانے والے کر تے ہیں ۔ اور اگر کوئی اس پرُ ہنگامہ اور عیش و عشرت کے خلاف زبان کھولے تو وہ مردود ہے ۔ دشمن اہل بیت ہے ، لا مذہب ہے ، بے دین ہے ، عقائد بگاڑنے والا بد عقیدہ ہے ۔
اے قوم مسلم یا د رکھو ! کربلا ایک دن کی جنگ کا نام نہیں ، کربلا ایک تحریک انبیا کا تسلسل ہے ، کربلا دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا نام ہے ، کربلا اپنے جوان بیٹے کو قربان اور ننھے پھول کو راہ خدا میں دینے کا نام ہے ۔ کربلا حق خاطر سر کٹوانے کا نام ہے ۔ اس لئے بند کرو ان خرافات کو جس کو تم لوگوں نے بزرگوں کے حوالے سے رائج کر رکھا ہے ۔ یہ سارے کام جو تم محرم میں کررہے ہو یہ سب افعال و عمل یزید ی سپاہیوں کا ہے ۔ ابن زیاد کا ہے ، ثمر لعین کا ہے ، اس طرح کے تماشے اما م حسین ؓ کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ امام حسینؓ تو بھوکے پیاسے جام شہادت نوش فرما رہے ہیں اور تم کھچڑا کھا کر ، شربت پی کر اور ہاتھوں میں ڈنڈا اور کاندھوں پر تعزیہ لے کر اتراتے پھر تے ہو ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ تمہاری ہر حرکت یزید کی سی ہے اور تم ہو کہ نام حسین کانام لے کر خود کو حسینی گر دان رہے ہو۔ اگر تمہیں اہل بیت سے محبت ہے ۔ امام حسین  ؓ سے اُنسیت ہے تو امام حسین ؓ والا کار نامہ انجام دو۔ بجائے سڑکوں اور بازاروں میں ہائوہو کر نے کے اللہ کے گھر میں جا کر ذکرواذ کار کرو ، خیر خیرات کرو ، لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو ، نمازیں قائم کرو ، یزیدیت اختیار کر کے سنیت کو بد نام کر نے والے تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ سب کر نے سے ثواب ملے گا ، تو سن لو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، جو جس کا نقل کر تا ہے اس کا اسی کے طرح انجام ہوتا ہے ۔ آج امت کا ہر نوجوان دنیا بھر کی گمراہیت کا شکار ہے ، کون سی بدعات و خرافات میں مسلمان ملوث نہیں ، اللہ کے احکام کو بھول کر ، رسول کی  فرامین کو فراموش کر کے ، امام حسین ؓ کی قربانی کو نظر انداز کر کے ہر نوجوان اپنے آپ کو ٹنا ٹن سنی کہلا تا ہے ۔ مگر حقیقت میں ٹیٹیا سنی تو ہو سکتا ہے ٹنا ٹن سنی نہیں ۔ انہیں سنی کا مفہوم تک معلوم نہیں بس مولویوں کی زبانی سن لیا اور کہنے لگے کہ میں سنی ہوں ، میں سنی ہوں ۔ لیکن سنو خود کو سنی کہلانے والو! تم سنی تو ہو ، مگر وہ سنی نہیں جو سن کر ایمان لا یا ہے ۔ یا وہ سنی نہیں جو سنت پر عمل کر تا ہے بلکہ تم وہ سنی ہو ، تمہارے جسم کا ہر حصہ سرے لیکر پائوں تک سن ہو گیا ہے اور جس طرح سونی جسم میں خنجر اورتلوار کی ضرب محسوس نہیں ہوتی اُسی طرح تمہارے سونے دل و دماغ میں قرآن و حدیث کی باتیں پیوست نہیں ہوتیں۔
آج امت میں جو خرافات سرایت کر گئی ہے اس کے ذمہ دار مسلکی علما ، مفاد پر ست علماء ہیں ، انہوں نے صرف واقعات کربلا پڑھا اور اسی کو موزوئے سخن بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔ کربلا سے کیا سبق ملا امت کو کبھی بتانے کی ان لوگوں نے زحمت نہیں کی ۔ اگر آج کربلا سے ملنے والی سبق کو بتایا جاتا تو امت اسقدر گمراہیت کا شکار نہیں ہوتی ۔ مگر حیف صد حیف ! آج بھی ہمارے علما کرام اپنی مفاد کی خاطر امت کو راہ است پر لا نا نہیں چاہتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علما نہیں چاہتے کہ امت دین کے بارے میں مکمل جانکاری رکھے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امت دین کے راستے پر چل پڑے گی اور حسینؓ کی عظمت کو جان جائینگے تو ہمارا دھندہ ٹھپ پڑ جا ئے گا ۔ محض اپنی دکان چلانے کے لئے جو ہو رہا ہے سب ٹھیک ہے ، ان کو امت سے کیا غرض ، امت جہنم کی طرف جاتی ہے تو جا ئے ۔
بہر حال آخر میں میں اپنے نوجوان ساتھیوں سے گذارش و التماس کر تا ہوں کہ خدا کے واسطے ان من گھڑت بدعات و خرافات سے تو بہ کریں اور جو صحیح دین کا راستہ ہے اس پر عمل کریں ۔ دین کوئی کھیل اور تماشا نہیں ہے جو سڑکوں پر بھیڑ لگا کر ڈھول اور تاشے بجا کر زمانے کو دکھا ئیں ، جس طرح کہ ایک مداری تماش بینوں کو اپنی کر تب دکھا تا ہے ۔ ذرا سوچو کہ تمہارے ان بدعات و خرافات میں تمہارا کتنا مال و زر رائیگاں و بیکار جاتا ہے ، ایک طرف تم شرک و بدعت اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو تے ہو تو دوسری طرف اسراف و تبذیر کر تے ہو ، حالانکہ آج کتنے یتیم بچے ہیں ، بیوائیں ہیں ، معصوم لڑکیا ہیں جو ادھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتے ہو ئے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ، ان کی کوئی خبر گیری کر نے والا حامی و مدد گار نہیں ہے ، کتنی بالغ لڑکیاں والدین کے لئے وبال ِ جان بنی بیٹھیں ہیں جن کی شادی کے لئے سرمایہ کا انتظام نہیں ہو پا تا ، بہت سے مساکین و محتاج اور تنگ دست ایسے ہیں جو روٹی کے لئے ترس رہے ہیں ، ہماری تو جہ ادھر نہیں ہوتی لیکن جب ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے تو اسراف و تبذیر و ناجائز کام کے لئے مسلمانوں کی جیب سے ہزاروں روپئے نکل جا تے ہیں ۔ ہمارا مذہب اتنا پیارا اور سنجیدہ مذیب ہے کہ اس مذہب میں شور و شغف کی کوئی گنجائش نہیں۔
لہذا اپنی حرکت و سکنات سے بعض آجائو اسی میں عافیت ہے و رنہ جہنم تمہارا ٹھکانہ ہو گا ۔ وقت ہے تو بہ کر لو اور قوم و ملت کی اصلاح اور تعمیر و تر قی کے لئے اپنے آپ کو قربان کرو اور امت مسلمہ کی بقا و تحفظ کے لئے ایثار کا جذبہ پیدا کرو، ورنہ موجودہ وقت میں جو امت مسلمہ کی حرکت ہے اس پر افسوس کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

’’واقعہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایثار قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان ہے

قیصر محمودعراقی
امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو رسم کی شکل دینے کی عادی ہو چکی ہے ۔ شہادت حسین ؓ کا واقعہ بھی سالانہ رسم کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ واقعہ کربلا ہر سال جس عظیم مقصد کے لئے دی گئی شہادت کی یاد دلانے آتا ہے ، اس مقصد کو کسی بھی جگہ یاد نہیں دلایا جاتا ۔ یکم محرم سے ہی سڑکوں اور محلوں میں ہر طرف ماتم کا سما بندھ جاتا ہے لیکن افسوس کہ کسی بھی جگہ حضرت امام حسین ؓ کے مقصد ِشہادت کی بات نہیں دہرائی جاتی ۔ جبکہ واقعہ کربلا ہر پہلو سے کوئی نہ کوئی سبق دیتا نظر آتا ہے مگر ہمارے علمائے کرام صرف اور صرف واقعات کربلا بیان کر کے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جا تے ہیں ۔کربلا سے جو عظیم سبق ملی ہے اُسے امت کو نہیں بتاتے ، یہی وجہ ہے کہ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی اس واقعے پر مسلمان چند دن خوب ماتم کر کے ، تعزیہ اور اکھاڑہ نکال کر یہ اطمینان کر لیتے ہیں کہ ہم نے امام حسین ؓ سے وابستگی کا حق ادا کر دیا ہے ، جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔
اسلامی تاریخ کا ہر واقعہ اپنے اندر عبرت و موعظت کا بے پناہ سامان رکھتا ہے اور عملی زندگی میں اس سے بہت کچھ رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ کسی بھی تاریخی واقعہ سے عملی رہنمائی حاصل کر نے پر کم ہی تو جہ دی جاتی ہے جبکہ زندہ قومیں ماضی سے روشنی حاصل کر کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے کوشاں رہتی ہیں ۔ واقعہ کربلا کا اگر مطالعہ کیا جا ئے اور شہادت امام حسین ؓ کی شہادت کے مقصد کو سمجھا جا ئے تو امت مسلمہ اور ایک مومن کے لئے ان کے شہادت میں سے بے شمار ایسے پیغامات ملتے ہیں جس کے ذریعہ امت مسلمہ اور ایک مومن کی عملی زندگی کی بہترین رہنمائی ہو سکتی ہے ، جس کو اپنا کر امت مسلمہ اور ایک مومن اپنی زندگی اور معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔
حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا امت مسلمہ کو سب سے بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو حق اور دین حق سے اس درجہ عشق ہو نا چاہیے کہ وہ حق کے لئے جان قربان کر نے سے بھی گریز نہ کر ے ۔ یزید کے بیعت کے وقت جو صورت حال تھی اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اسلامی نظام حکومت اپنی اصل سے ہٹ رہا ہے ۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں خلافت کا نظام رائج تھا اور اسلام جس نظام حکومت کی بنیاد رکھتا ہے وہ یہی نظام خلافت ہے ۔ یزید کی آمد کے ساتھ اسلامی نظام حکومت کی ڈگر سے ہٹ کر ملوکیت میں تبدیل ہو گیاتھا اور یہ اسلامی نظام حکومت سے ایسی تبدیلی تھی کہ جس کے اثرات صدیوں تک باقی رہے ۔ ملوکیت خلافت کی ضد ہے ۔ خلافت و  ملوکیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ خلافت میں امیر المومنین کا طرز زندگی ایک عام رعایا کی طرح ہوتا ہے لیکن ملوکیت میں شاہانہ ٹھاٹ باٹ ہوتی ہے ۔ خلافت میں لوگوں کو خلیفہ کے محاسبہ کی آزادی ہوتی ہے ملک کا ادنی سا شہری بھی خلیفہ کی باز پرُس کر سکتا ہے لیکن ملو کیت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ ملوکیت میں بادشاہ محاسبہ سے ماورا ہوتا ہے ۔ خلافت میں سارے معاملات کتاب و سنت کے مطابق طے کئے جا تے ہیں،جبکہ ملوکیت میں بادشاہ سارے فیصلے اپنی انفرادی رائے سے نافذ کر تا ہے ۔ خلافت و ملوکیت کے اس فرق سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یزید کا اقتدار میں آنا کسی خطر ناک تبدیلی کا پیش خیمہ تھا ۔ ایسے موقع پر اگر حضرت حسین ؓ یزید کے سامنے ڈٹ کر نہ کھڑے ہو تے اور جان کی قربانی نہ دیتے تو اسلامی خلافت کے تصور کا کتابوں میں محفوظ رہنا بھی مشکل ہوتا ۔
حضرت امام حسین ؓ کی شہادت سے دوسرا بڑا اور اہم پیغام امت مسلمہ کو یہ ملتا ہے کہ ایک مسلمان مومن کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی حق پر ڈٹے رہنا چاہیے ۔ کیسے بھی حالات ہوں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہو نا چاہیے ، باطل کے خوف سے ایمان کو کمزور نہیں کرنا چاہیے ۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا تیسرا اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ مومن کو مخالفانہ ماحول سے کبھی متاثر نہیں ہو نا چاہیے ۔ بیعت یزید کے وقت زیادہ تر لوگ خوف کے مارے خاموشی اختیار کئے ہو ئے تھے ۔ ماحول بالکل مخالفانہ تھا لیکن حضرت امام حسینؓ نے اس کی پرواہ نہیں کی اور حق کے لئے اُٹھ کھڑے ہو ئے ۔ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا ایک پیغام یہ بھی ہے کہ مومن کو حق کے دفاع کے لئے ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کر نا چاہیے ، علمبردان حق کبھی ظاہری اسباب ، تعداد و اسلحہ سے مرعوب نہیں ہو تے ۔ واقعہ کربلا سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مصیبت ہو یا خوش حالی میں مومن احکام الہیٰ کا پابند ہوتا ہے ۔ عین حالات جنگ میں بھی حضرت امام حسین ؓ اور ان کے اہل و عیال نے نماز ترک نہیں کی ۔ حضرت اما م حسین ؓ کی شہادت اس بات کی بھی نشاندہی کر تی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو بھی تاریخ میں بلند مقام عطا فرمایا اُسے پہلے آزمائش میں مبتلا کیا ۔ ایمان کے ساتھ اتحاد ضروری ہوتا ہے ۔ اہل ایمان کی زندگی آسان نہیں ہوتی ، آزمائشوں پر پورا اترنے والے لوگ ہی عظیم ہو تے ہیں۔ واقعہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں ہے ، یہ حریت ، خوداری ، شعور ، شجاعت ، ایثار و قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جو قیامت تک لکھی ، پڑھی اور دہرائی جا ئے گی ۔ حضرت امام حسین ؓ نے اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات کے لئے اپنی جان کی قربانی دی ، انہوں نے اپنے عمل سے قیامت تک کے لوگوں کو بتا دیا کہ حق کے لئے سر کٹوایا جا سکتا ہے اور مومن کا سر حق کے لئے کٹ تو سکتا ہے لیکن باطل کے آگے جھک نہیں سکتا لیکن آج امت مسلمہ میں جتنے انتشار اور مسائل ہیں وہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کے مقصد کو بھلانے کی وجہ سے ہے ۔ آج بیشتر مسلمان بدعات و خرافات میں ملوث ہیں اور حسین ؓ کی آڑ میں یزید یت کو فروغ دے رہے ہیں ۔
حیف صد حیف آج ہم صرف نام کے مسلمان ہیں نام کے حسینی بنتے ہیں ، یہی وجہہ کہ دشمن اسلام مسلمانوں پر وار پر وار کر رہے ہیں ۔ ہر طرف مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے ۔ عبادت گاہیں مسمار کی جا رہی ہیں ، نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی جا رہی ہے ، قرآن مجید کو جلا یا اور پھاڑا جا رہا ہے ۔ لیکن ہم میں دشمنوں سے لوہا لینے کے لئے کوئی امام حسین ؓ کے کر دار کو نہیں اپناتا ۔ زبان پر فقط یا حسینؓ یا حسینؓ ہے لیکن عمل ساری یزید والی ہے ۔ اگر کوئی ان خرافات کی نکیر کر ے تو اُسے مسلک کے آئینے سے دیکھا جاتا ہے اور پھر بد عقیدہ اور گستاخ قرار دے دیا جاتا ہے ۔ آج ہمارے مسلکی تعصب اور دوغلے پن کی وجہ سے ملی و حدت پارہ پارہ ہو چکی ہے اور بحیثیت مسلمان ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے کیونکہ امام حسینؓ کو عصرِ حاضر کے مسلمانوں نے یزید سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ یزیدی افواج نے امام حسین ؓ کا سر مبارک تن سے جدا کر کے شہید کر دیا جبکہ آج کانام نہاد مسلمام امام عالی مقام کی روح اطہر کو پل پل زخمی کر رہا ہے ۔ نواسہ رسول ﷺ نے دین اسلام کی خاطر جان دی اور ہمارے علما کرام اور ہم مسلمان پیٹ پالنے کے لئے دین بیچ رہے ہیں ۔ درس کربلا یہ ہے کہ ظالم قوتوں کے خلاف نفرت کا اظہار کر یں ۔ لیکن واہ رے آج کا مسلمان اپنے ہی کلمہ گو بھائی کے خلاف نفرت کا اظہار کر تا ہے ۔ امام حسین نے محبت و اُخوت کا پیغام دیا اور ہم ایک دوسرے کو قتل کر کے خوش ہو رہے ہیں ۔
آج ہمارا کوئی عمل سیرت حسینؓ سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ ہم تو وہ مسلمان ہیں جو حضور اکرمﷺ پر جان قربان کر نے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی بات ماننے اور سیر ت طیبہ پر عمل کر نے کے لئے تیار نہیں ۔ آج ہمارے ازلی دشمن جگہ جگہ تلاش کر کے ہم مسلمانوں کو ماررہے ہیں کیوں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم راہ ہدایت سے بھٹک چکے ہیں ۔
لہذا مسلمانو!تاریخ کا مطالعہ کرو، تب تمہیں معلوم ہو گا کہ کربلا والے امام حسین ؓ نے نیزے پر قرآن پاک کی تلاوت کی اور کچھ اس طرح سے اسلام کا چراغ روشن کر دیا جس کو  کوئی طوفان نہ بجھا سکا ا ور نہ بجھا سکے گا ۔ لیکن  یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج نام نہاد مسلمان اس ماہ مبارک میں اعمال صالحہ کے بجائے طرح طرح کی بدعات و خرافات اور ناجائز رسومات میں غرق ہے اور ان ہی رسموں کو اپنا دینی شعار تصور کر تا ہے ۔ اب تو صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ محرم کا مہینہ شروع ہو تے ہی کربلا کی یاد شروع ہو جاتی ہے ، اسٹیج سجنے لگتے ہیں  ۔ بڑے بڑے علما کرام چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر کے ہوں فضائل محرم اور حادثہ کربلا سے متعلق بے سر وپا روایات کو پورے زور و قوت کے ساتھ بیان کر تے نظر آتے ہیں ۔ پورا عشرہ ان کی تقریروں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، واقعات کربلا سے متعلق تمام واقعات کو اپنی لچھے دار تقریر کے ذریعہ اس طرح بیان کر تے ہیں گویا میدان کربلا میں وہ خودبہ نفس نفیس موجود تھے ۔ ان کی لن ترانی سے اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی امام حسین ؓ کی شہادت کے معاملے میں جذبات کا شکار ہو جا تے ہیں ۔ حالانکہ میدان کربلا سے جو درس ملتی ہے ۔ جو سبق ملتا ہے وہ ہمارے  علماء کرام بیان نہیں کر تے ۔ کیونکہ انہیں اپنی پھولی ہو ئی تو ند کے پچک جا نے کا ڈر اور جما ہوا سکہ اُکھڑ جا نے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ اس لئے نہ حق بیان کر تے ہیں اور نہ اُمت کو حق بیانی کا درس دیتے ہیں جبکہ کربلا سے سبق ملتا ہے ۔ نماز کا ، کہ تلوار کے سائے میں بھی نماز ادا کی جا ئے کیونکہ یہ وہ نماز ہے جو حضور اکرم ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ جو جنت کی کنجی ہے اور جو لوگوں کو بے حیائی سے روکتی ہے ، مگر افسوس مولوی حضرت نماز کی تلقین نہیں کر تے جس وجہہ کر امت کا بیشتر نوجوان محرم کے ایام میں طرح طرح کی بدعات و خرافات میں ملوث رہتا ہے ۔ نماز یں فوت ہو رہی ہے مگر تعزیہ بنانا نہیں جھوٹتا ، نمازیں فوت ہو رہی ہے مگر اکھاڑہ نکالنا اور کھیلنا بند نہیں ہو رہا ہے ، نماز یں فوت ہو رہی ہے مگر کھچڑا اور ملیدہ نہیں چھوٹتا۔
کربلا سے سبق ملتا ہے صبر کا ، کہ امام حسین ؓ کے گھر والے جام شہادت نوش فرما رہے ہیں مگر امام حسین ؓ صبر پر صبر کئے جا رہے ہیں ، اس کے بر عکس آج کا مسلمان جو خود کو حسینی کہتے نہیں تھکتا ، ایک ذرا سی مصیبت کیا آن پڑی کہ صبر کا دامن چھوڑ کر ادھر اُدھر بھٹکنے لگتا ہے ۔ کربلا سے سبق ملتا ہے پر دے کا کہ عورتوں کے سروں سے دو پٹہ کھینچ لیا جاتا ہے پھر بھی عورتیں حجاب کا دامن تھا مے ہو ئے ہیں یعنی اپنی بالوں سے چہرہ کو چھپائے رکھا ، اس کے بر عکس ہماری آج کل کی ماں اور بہنیں بے پردگی کا وہ مظاہرہ کر تی ہیں کہ شرم سے سر جھک جاتا ہے ۔ خاص کر محرم کے ایام میں تعزیہ اور اکھاڑے کے دوران تماشا دکھانے والے نوجوان اور تماش بین یہ عورتیں ہوتی ہیں ۔ کاش ہر مولوی کربلا کی واقعات نہ بیان کر کے کربلا سے ملنے والی سبق اور درس کو بیان کر تے تو شاید یہ بدعات و خرافات جسے مذہب کا حصہ سمجھ کر کیا جا رہا ہے وہ بند ہو جاتا ۔
تعزیت اصل میں کسی مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین اور تسکین دینے کو کہا جاتا ہے ، لیکن آج تعزیت کو تعزیہ محرم میں بدل دیا گیا ہے جو کہ حضرت حسین ؓ کے روضہ کی نقل کہلاتا ہے ، کوئی اس سے مرادیں مانگتا ہے ، کوئی اولاد تو کوئی بیماری سے شفا طلب کر تا ہے ، کوئی یہ کہہ کر نذر مانتا ہے کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہو گئی تو آئندہ سال امام حسین ؓ کا تعزیہ بنا کر اس پر چڑھا وے چڑھائونگا ۔ کوئی ہا ئے حسین ؓ ہا ئے حسین ؓ کا نعرہ و صدا بلند کر تا ہے ، کوئی ڈھول تاشا بجا کر اُچھل کود کر تا ہے ، کوئی تلوار اور نیزہ لے کر کھیلتا ہے ور پھر دسویں محرم کو گلی کو چوں اور بازاروں میں چکر لگا کر ایک میدان میں لے جا کر دبا دیتا ہے ، جس میدان کو کربلا کہا جاتا ہے ۔ ذرا غور کریں تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ جو والدین اپنے بچوں کو کتاب و قلم خرید کر دینے کی سکت نہیںرکھتے وہ محرم میں دس دنوں کے لئے پانچ سو روپئے کا ڈھول اور تا شا ضرور خرید کر دیتے ہیں اور یہ سب کچھ کون کر تا ہے۔ آریہ نہیں ، یہودی نہیں ، عیسائی نہیں ، سکھ نہیں ، پارسی نہیں ، ہندو نہیں بلکہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے اور مسلمانوں میں بھی اپنے آپ کو سنی اور حسینی کہلانے والے کر تے ہیں ۔ اور اگر کوئی اس پرُ ہنگامہ اور عیش و عشرت کے خلاف زبان کھولے تو وہ مردود ہے ۔ دشمن اہل بیت ہے ، لا مذہب ہے ، بے دین ہے ، عقائد بگاڑنے والا بد عقیدہ ہے ۔
اے قوم مسلم یا د رکھو ! کربلا ایک دن کی جنگ کا نام نہیں ، کربلا ایک تحریک انبیا کا تسلسل ہے ، کربلا دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا نام ہے ، کربلا اپنے جوان بیٹے کو قربان اور ننھے پھول کو راہ خدا میں دینے کا نام ہے ۔ کربلا حق خاطر سر کٹوانے کا نام ہے ۔ اس لئے بند کرو ان خرافات کو جس کو تم لوگوں نے بزرگوں کے حوالے سے رائج کر رکھا ہے ۔ یہ سارے کام جو تم محرم میں کررہے ہو یہ سب افعال و عمل یزید ی سپاہیوں کا ہے ۔ ابن زیاد کا ہے ، ثمر لعین کا ہے ، اس طرح کے تماشے اما م حسین ؓ کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ امام حسینؓ تو بھوکے پیاسے جام شہادت نوش فرما رہے ہیں اور تم کھچڑا کھا کر ، شربت پی کر اور ہاتھوں میں ڈنڈا اور کاندھوں پر تعزیہ لے کر اتراتے پھر تے ہو ۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ تمہاری ہر حرکت یزید کی سی ہے اور تم ہو کہ نام حسین کانام لے کر خود کو حسینی گر دان رہے ہو۔ اگر تمہیں اہل بیت سے محبت ہے ۔ امام حسین  ؓ سے اُنسیت ہے تو امام حسین ؓ والا کار نامہ انجام دو۔ بجائے سڑکوں اور بازاروں میں ہائوہو کر نے کے اللہ کے گھر میں جا کر ذکرواذ کار کرو ، خیر خیرات کرو ، لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو ، نمازیں قائم کرو ، یزیدیت اختیار کر کے سنیت کو بد نام کر نے والے تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ سب کر نے سے ثواب ملے گا ، تو سن لو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، جو جس کا نقل کر تا ہے اس کا اسی کے طرح انجام ہوتا ہے ۔ آج امت کا ہر نوجوان دنیا بھر کی گمراہیت کا شکار ہے ، کون سی بدعات و خرافات میں مسلمان ملوث نہیں ، اللہ کے احکام کو بھول کر ، رسول کی  فرامین کو فراموش کر کے ، امام حسین ؓ کی قربانی کو نظر انداز کر کے ہر نوجوان اپنے آپ کو ٹنا ٹن سنی کہلا تا ہے ۔ مگر حقیقت میں ٹیٹیا سنی تو ہو سکتا ہے ٹنا ٹن سنی نہیں ۔ انہیں سنی کا مفہوم تک معلوم نہیں بس مولویوں کی زبانی سن لیا اور کہنے لگے کہ میں سنی ہوں ، میں سنی ہوں ۔ لیکن سنو خود کو سنی کہلانے والو! تم سنی تو ہو ، مگر وہ سنی نہیں جو سن کر ایمان لا یا ہے ۔ یا وہ سنی نہیں جو سنت پر عمل کر تا ہے بلکہ تم وہ سنی ہو ، تمہارے جسم کا ہر حصہ سرے لیکر پائوں تک سن ہو گیا ہے اور جس طرح سونی جسم میں خنجر اورتلوار کی ضرب محسوس نہیں ہوتی اُسی طرح تمہارے سونے دل و دماغ میں قرآن و حدیث کی باتیں پیوست نہیں ہوتیں۔
آج امت میں جو خرافات سرایت کر گئی ہے اس کے ذمہ دار مسلکی علما ، مفاد پر ست علماء ہیں ، انہوں نے صرف واقعات کربلا پڑھا اور اسی کو موزوئے سخن بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔ کربلا سے کیا سبق ملا امت کو کبھی بتانے کی ان لوگوں نے زحمت نہیں کی ۔ اگر آج کربلا سے ملنے والی سبق کو بتایا جاتا تو امت اسقدر گمراہیت کا شکار نہیں ہوتی ۔ مگر حیف صد حیف ! آج بھی ہمارے علما کرام اپنی مفاد کی خاطر امت کو راہ است پر لا نا نہیں چاہتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علما نہیں چاہتے کہ امت دین کے بارے میں مکمل جانکاری رکھے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امت دین کے راستے پر چل پڑے گی اور حسینؓ کی عظمت کو جان جائینگے تو ہمارا دھندہ ٹھپ پڑ جا ئے گا ۔ محض اپنی دکان چلانے کے لئے جو ہو رہا ہے سب ٹھیک ہے ، ان کو امت سے کیا غرض ، امت جہنم کی طرف جاتی ہے تو جا ئے ۔
بہر حال آخر میں میں اپنے نوجوان ساتھیوں سے گذارش و التماس کر تا ہوں کہ خدا کے واسطے ان من گھڑت بدعات و خرافات سے تو بہ کریں اور جو صحیح دین کا راستہ ہے اس پر عمل کریں ۔ دین کوئی کھیل اور تماشا نہیں ہے جو سڑکوں پر بھیڑ لگا کر ڈھول اور تاشے بجا کر زمانے کو دکھا ئیں ، جس طرح کہ ایک مداری تماش بینوں کو اپنی کر تب دکھا تا ہے ۔ ذرا سوچو کہ تمہارے ان بدعات و خرافات میں تمہارا کتنا مال و زر رائیگاں و بیکار جاتا ہے ، ایک طرف تم شرک و بدعت اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو تے ہو تو دوسری طرف اسراف و تبذیر کر تے ہو ، حالانکہ آج کتنے یتیم بچے ہیں ، بیوائیں ہیں ، معصوم لڑکیا ہیں جو ادھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتے ہو ئے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ، ان کی کوئی خبر گیری کر نے والا حامی و مدد گار نہیں ہے ، کتنی بالغ لڑکیاں والدین کے لئے وبال ِ جان بنی بیٹھیں ہیں جن کی شادی کے لئے سرمایہ کا انتظام نہیں ہو پا تا ، بہت سے مساکین و محتاج اور تنگ دست ایسے ہیں جو روٹی کے لئے ترس رہے ہیں ، ہماری تو جہ ادھر نہیں ہوتی لیکن جب ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے تو اسراف و تبذیر و ناجائز کام کے لئے مسلمانوں کی جیب سے ہزاروں روپئے نکل جا تے ہیں ۔ ہمارا مذہب اتنا پیارا اور سنجیدہ مذیب ہے کہ اس مذہب میں شور و شغف کی کوئی گنجائش نہیں۔
لہذا اپنی حرکت و سکنات سے بعض آجائو اسی میں عافیت ہے و رنہ جہنم تمہارا ٹھکانہ ہو گا ۔ وقت ہے تو بہ کر لو اور قوم و ملت کی اصلاح اور تعمیر و تر قی کے لئے اپنے آپ کو قربان کرو اور امت مسلمہ کی بقا و تحفظ کے لئے ایثار کا جذبہ پیدا کرو، ورنہ موجودہ وقت میں جو امت مسلمہ کی حرکت ہے اس پر افسوس کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں