قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے

 

طفیل مگسی

4 شعبان المعظم 4 ہجری کی ایک بابرکت صبح مدینہ منورہ کی فضائیں خوشیوں سے معطر تھیں۔ خاتونِ جنت، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے گھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے فرزندِ ارجمند کو عطا فرمایا، جو قیامت تک حق، صداقت، صبر، استقامت اور قربانی کی علامت بننے والا تھا۔ ولادتِ باسعادت کی خبر سن کر رحمتِ عالم ﷺ اپنی صاحبزادی کے گھر تشریف لائے، نومولود کو گود میں لیا، کانوں میں اذان دی اور اپنے لعابِ دہن سے تحنیک فرمائی۔ ساتویں روز عقیقہ کیا گیا اور حضور اکرم ﷺ نے آپ کا نام "حسین” رکھا۔
حضرت امام حسینؓ، نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ علی المرتضیٰؓ اور لختِ جگر حضرت فاطمۃ الزہراؓ تھے۔ آپؓ نے بچپن ہی سے نبی کریم ﷺ کی آغوشِ محبت میں تربیت پائی۔ رسول اللہ ﷺ کو آپؓ سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں۔ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسینؓ سے محبت کرتا ہے۔”
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:
"حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔”
امام حسینؓ نے اپنے نانا رسول اللہ ﷺ، والد حضرت علیؓ اور والدہ حضرت فاطمہؓ کی تربیت میں حق گوئی، عدل، شجاعت، ایثار اور صبر کا وہ درس سیکھا جو بعد میں میدانِ کربلا میں اپنی کامل ترین صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔
حضرت امیر معاویہؓ کے وصال کے بعد 60 ہجری میں یزید اقتدار پر قابض ہوا۔ اس نے اسلامی خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرتے ہوئے زبردستی بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یزید کے کردار، طرزِ حکومت اور اسلامی تعلیمات سے انحراف کے باعث حضرت امام حسینؓ نے اس کی بیعت سے انکار کردیا۔ آپؓ کا موقف واضح تھا کہ ایک فاسق و فاجر شخص کی اطاعت امتِ مسلمہ کو گمراہی کی طرف لے جائے گی۔
اہلِ کوفہ نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور وعدہ کیا کہ وہ آپؓ کا ساتھ دیں گے۔ حالات کا جائزہ لینے کے لئے آپؓ نے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں ہزاروں افراد نے بیعت کی، لیکن عبیداللہ بن زیاد کی دھمکیوں اور ظلم کے باعث وہی لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کو گرفتار کرکے شہید کردیا گیا۔
حضرت امام حسینؓ کو راستے میں حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر ملی، مگر آپؓ نے حق کے راستے سے پیچھے ہٹنے کے بجائے سفر جاری رکھا۔ 2 محرم 61 ہجری کو آپؓ کا قافلہ سرزمینِ کربلا پہنچا۔ یہ وہ مقام تھا جو تاریخِ انسانیت میں حق و باطل کے فیصلہ کن معرکے کی علامت بن گیا۔
کربلا میں امام حسینؓ کے ساتھ اہلِ بیت، رفقا اور جاں نثاروں سمیت بہتر نفوس موجود تھے، جبکہ یزیدی لشکر ہزاروں کی تعداد میں تھا۔ سات محرم کو یزیدی فوج نے دریائے فرات کا پانی بند کردیا۔ شدید گرمی، بھوک اور پیاس کے باوجود امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
حضرت عباس علمدارؓ نے بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے فرات سے پانی لانے کی کوشش کی، مگر راہ میں شہید کر دیے گئے۔ ایک ایک کرکے امام حسینؓ کے ساتھی، اہلِ خاندان، نوجوان بیٹے حضرت علی اکبرؓ، بھتیجے حضرت قاسمؓ اور دیگر جانثار میدانِ کربلا میں شہادت کا جام نوش کرتے گئے۔
10 محرم الحرام 61 ہجری، یومِ عاشور، حق و باطل کے معرکے کا آخری دن تھا۔ امام حسینؓ نے دشمن کے سامنے آخری مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم مجھے پسند نہیں کرتے تو مجھے واپس جانے دو، مگر یزیدی لشکر جنگ پر آمادہ تھا۔
بالآخر وہ وقت بھی آیا جب امام حسینؓ تنہا رہ گئے۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغرؓ بھی ایک تیر کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔ امامِ عالی مقامؓ نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود آپؓ ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ شمر اور اس کے ساتھیوں نے آپؓ کو شہید کردیا۔
شہادتِ امام حسینؓ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا ابدی پیغام ہے۔ کربلا نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی آواز کو ہمیشہ کے لئے دبایا نہیں جا سکتا۔
امام حسینؓ نے اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی اور امتِ مسلمہ کو یہ درس دیا کہ دین کی سربلندی، عدل کے قیام اور ظلم کے خاتمے کے لئے ہر قربانی پیش کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور ہر دور کے مظلوموں کو حوصلہ، عزم اور استقامت عطا کرتا ہے۔
مولانا محمد علی جوہرؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے

 

طفیل مگسی

4 شعبان المعظم 4 ہجری کی ایک بابرکت صبح مدینہ منورہ کی فضائیں خوشیوں سے معطر تھیں۔ خاتونِ جنت، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے گھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے فرزندِ ارجمند کو عطا فرمایا، جو قیامت تک حق، صداقت، صبر، استقامت اور قربانی کی علامت بننے والا تھا۔ ولادتِ باسعادت کی خبر سن کر رحمتِ عالم ﷺ اپنی صاحبزادی کے گھر تشریف لائے، نومولود کو گود میں لیا، کانوں میں اذان دی اور اپنے لعابِ دہن سے تحنیک فرمائی۔ ساتویں روز عقیقہ کیا گیا اور حضور اکرم ﷺ نے آپ کا نام "حسین” رکھا۔
حضرت امام حسینؓ، نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ علی المرتضیٰؓ اور لختِ جگر حضرت فاطمۃ الزہراؓ تھے۔ آپؓ نے بچپن ہی سے نبی کریم ﷺ کی آغوشِ محبت میں تربیت پائی۔ رسول اللہ ﷺ کو آپؓ سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں۔ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسینؓ سے محبت کرتا ہے۔”
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:
"حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔”
امام حسینؓ نے اپنے نانا رسول اللہ ﷺ، والد حضرت علیؓ اور والدہ حضرت فاطمہؓ کی تربیت میں حق گوئی، عدل، شجاعت، ایثار اور صبر کا وہ درس سیکھا جو بعد میں میدانِ کربلا میں اپنی کامل ترین صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔
حضرت امیر معاویہؓ کے وصال کے بعد 60 ہجری میں یزید اقتدار پر قابض ہوا۔ اس نے اسلامی خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرتے ہوئے زبردستی بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ یزید کے کردار، طرزِ حکومت اور اسلامی تعلیمات سے انحراف کے باعث حضرت امام حسینؓ نے اس کی بیعت سے انکار کردیا۔ آپؓ کا موقف واضح تھا کہ ایک فاسق و فاجر شخص کی اطاعت امتِ مسلمہ کو گمراہی کی طرف لے جائے گی۔
اہلِ کوفہ نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور وعدہ کیا کہ وہ آپؓ کا ساتھ دیں گے۔ حالات کا جائزہ لینے کے لئے آپؓ نے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں ہزاروں افراد نے بیعت کی، لیکن عبیداللہ بن زیاد کی دھمکیوں اور ظلم کے باعث وہی لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کو گرفتار کرکے شہید کردیا گیا۔
حضرت امام حسینؓ کو راستے میں حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر ملی، مگر آپؓ نے حق کے راستے سے پیچھے ہٹنے کے بجائے سفر جاری رکھا۔ 2 محرم 61 ہجری کو آپؓ کا قافلہ سرزمینِ کربلا پہنچا۔ یہ وہ مقام تھا جو تاریخِ انسانیت میں حق و باطل کے فیصلہ کن معرکے کی علامت بن گیا۔
کربلا میں امام حسینؓ کے ساتھ اہلِ بیت، رفقا اور جاں نثاروں سمیت بہتر نفوس موجود تھے، جبکہ یزیدی لشکر ہزاروں کی تعداد میں تھا۔ سات محرم کو یزیدی فوج نے دریائے فرات کا پانی بند کردیا۔ شدید گرمی، بھوک اور پیاس کے باوجود امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
حضرت عباس علمدارؓ نے بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے فرات سے پانی لانے کی کوشش کی، مگر راہ میں شہید کر دیے گئے۔ ایک ایک کرکے امام حسینؓ کے ساتھی، اہلِ خاندان، نوجوان بیٹے حضرت علی اکبرؓ، بھتیجے حضرت قاسمؓ اور دیگر جانثار میدانِ کربلا میں شہادت کا جام نوش کرتے گئے۔
10 محرم الحرام 61 ہجری، یومِ عاشور، حق و باطل کے معرکے کا آخری دن تھا۔ امام حسینؓ نے دشمن کے سامنے آخری مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم مجھے پسند نہیں کرتے تو مجھے واپس جانے دو، مگر یزیدی لشکر جنگ پر آمادہ تھا۔
بالآخر وہ وقت بھی آیا جب امام حسینؓ تنہا رہ گئے۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغرؓ بھی ایک تیر کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔ امامِ عالی مقامؓ نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود آپؓ ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ شمر اور اس کے ساتھیوں نے آپؓ کو شہید کردیا۔
شہادتِ امام حسینؓ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا ابدی پیغام ہے۔ کربلا نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی آواز کو ہمیشہ کے لئے دبایا نہیں جا سکتا۔
امام حسینؓ نے اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی اور امتِ مسلمہ کو یہ درس دیا کہ دین کی سربلندی، عدل کے قیام اور ظلم کے خاتمے کے لئے ہر قربانی پیش کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور ہر دور کے مظلوموں کو حوصلہ، عزم اور استقامت عطا کرتا ہے۔
مولانا محمد علی جوہرؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں