
ڈاکٹر سید تابش امام
ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جہاں کروڑوں شہری اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے جمہوری نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ اعزاز صرف آزاد اور منصفانہ انتخابات کی وجہ سے نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، سیاسی دیانت داری، آئینی وفاداری اور جمہوری روایات کے استحکام سے وابستہ ہے۔
جب کوئی ووٹر ووٹ ڈالتا ہے تو وہ محض کسی فرد کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ ایک سیاسی جماعت، اس کے نظریات، انتخابی منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ یہی اعتماد جمہوریت کا اصل سرمایہ ہے۔ لیکن جب منتخب نمائندے کامیابی کے بعد اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرتے ہیں، دوسری جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں یا نئے سیاسی گروہ تشکیل دیتے ہیں تو یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں رہتا بلکہ جمہوری اقدار اور عوامی اعتماد سے جڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستانی سیاست میں جماعتی انشقاق، سیاسی انضمام اور منتخب نمائندوں کی اجتماعی نقل مکانی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کرناٹک، گوا، اروناچل پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عوامی مینڈیٹ واقعی عوام کے پاس محفوظ رہتا ہے یا انتخابی نتائج کے بعد ہونے والی سیاسی صف بندیاں اس کی نئی تعبیر متعین کر دیتی ہیں۔
حالیہ عرصے میں مغربی بنگال اور مہاراشٹر کی سیاسی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ مغربی بنگال میں بعض منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے الگ سیاسی شناخت اختیار کرنے کی کوششوں اور مہاراشٹر میں بعض ارکانِ پارلیمان کی جانب سے پارٹی قیادت سے اختلاف کے بعد نئے سیاسی راستے اختیار کرنے کی خبروں نے ایک مرتبہ پھر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ انتخابی مینڈیٹ فرد کے ساتھ منتقل ہوتا ہے یا اس جماعت اور نظریے کے ساتھ وابستہ رہتا ہے جس کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے گئے تھے۔
مہاراشٹر میں شیوسینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی تقسیم، مدھیہ پردیش میں منتخب حکومت کی تبدیلی، کرناٹک اور گوا میں سیاسی وفاداریوں کے بدلتے رجحانات اور دیگر ریاستوں میں رونما ہونے والی سیاسی ہلچل نے واضح کر دیا ہے کہ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی اب ایک استثنائی واقعہ نہیں رہی بلکہ ایک مستقل سیاسی رجحان بنتی جا رہی ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف سیاسی استحکام کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کیا ہے۔
سیاسی جماعتیں عموماً ایسے اقدامات کو نظریاتی اختلافات، قیادت سے ناراضگی یا عوامی مفاد کے نام پر جائز قرار دیتی ہیں، لیکن عوام کے ذہنوں میں سوال برقرار رہتا ہے کہ اگر کسی امیدوار نے ایک جماعت کے انتخابی نشان پر ووٹ حاصل کیا اور بعد میں دوسری جماعت کا حصہ بن گیا تو کیا یہ ووٹر کے اعتماد کے ساتھ انصاف ہے؟
اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے 1985 میں آئین کی 52ویں ترمیم کے ذریعے دسویں شیڈول شامل کیا گیا، جسے انسدادِ انحراف قانون کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں 91ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس قانون کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم عملی سیاست میں ایسے راستے نکال لیے گئے جن کے ذریعے قانون کی روح کو کمزور کیا جاتا رہا۔
اجتماعی استعفے، تکنیکی انضمام، اسپیکر کے سامنے زیرِ التوا نااہلی کی درخواستیں اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر نے متعدد مواقع پر عوامی مینڈیٹ کی سمت تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نتیجتاً قانون موجود ہونے کے باوجود جمہوری اخلاقیات بارہا سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوتی رہی ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مختلف ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمانی اداروں میں رونما ہونے والی سیاسی نقل مکانیوں سے بعض سیاسی جماعتوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو راجیہ سبھا میں حکمراں اتحاد کی عددی طاقت مزید مستحکم ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مستقبل کی قانون سازی پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں اپوزیشن جماعتوں، آئینی ماہرین اور سول سوسائٹی کے بعض حلقوں میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جاری سیاسی صف بندیوں کا تعلق صرف حکومت سازی یا اقتدار کے استحکام سے نہیں بلکہ مستقبل کے اہم آئینی اور قانونی اقدامات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق یکساں سول کوڈ، مجوزہ حلقہ بندیاں اور آئینِ ہند کے تمہیدی حصے میں موجود ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ جیسے الفاظ کے مستقبل سے متعلق مباحث اسی وسیع سیاسی پس منظر کا حصہ ہیں۔
اگر مستقبل میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات ملک کے مختلف مذہبی اور ثقافتی طبقات پر مرتب ہوں گے اور شخصی قوانین کے حوالے سے ایک نئی بحث جنم لے گی۔ اسی طرح حلقہ بندیوں کے مجوزہ عمل کو جنوبی اور شمالی ریاستوں کے درمیان پارلیمانی نمائندگی کے توازن سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
راجیہ سبھا اور مختلف ریاستی اسمبلیوں کی موجودہ سیاسی ساخت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ بدلتی سیاسی وابستگیوں نے قومی سیاست کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایوانِ بالا میں عددی طاقت کا بڑھنا یا گھٹنا محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق قانون سازی، آئینی ترامیم اور قومی پالیسیوں سے بھی ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مختلف ریاستوں میں جاری سیاسی تبدیلیاں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے اندر طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد حکومت سازی کے مرحلے میں بعض اتحادی جماعتوں کا کردار فیصلہ کن تھا، لیکن اگر حکمراں جماعت مستقبل میں اپنی پارلیمانی پوزیشن مزید مضبوط بنا لیتی ہے تو اتحادی جماعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ میں نسبتاً کمی آ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ مختلف فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ انسدادِ انحراف قانون کا بنیادی مقصد سیاسی استحکام اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہے۔ عدالتِ عظمیٰ بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو غیر ضروری سیاسی مداخلتوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ تاہم آئینی ماہرین کے مطابق موجودہ قانون میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے، خصوصاً نااہلی کے معاملات کے فیصلوں کے لیے واضح مدت مقرر کی جانی چاہیے تاکہ قانونی عمل سیاسی مفادات کا آلہ نہ بن سکے۔
بعض ماہرین یہ تجویز بھی پیش کرتے ہیں کہ جو منتخب نمائندہ اپنی جماعت تبدیل کرے، اسے فوری طور پر اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جانا چاہیے۔ اگر عوام اس کے فیصلے کی توثیق کریں تو وہ دوبارہ منتخب ہو جائے گا، بصورتِ دیگر یہ واضح ہو جائے گا کہ اس نے عوامی مینڈیٹ کے بجائے سیاسی مفاد کو ترجیح دی تھی۔
جمہوریت صرف آئینی دفعات اور قانونی شقوں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس کی بقا کے لیے سیاسی اخلاقیات، عوامی جواب دہی اور جمہوری روایات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں داخلی جمہوریت کو فروغ دیں، قیادت اور کارکنوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنائیں اور نظریاتی وابستگیوں کو وقتی سیاسی مفادات پر ترجیح دیں تو اس رجحان میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
آج ہندوستانی جمہوریت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت فائدہ اٹھا رہی ہے اور کون نقصان میں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوامی مینڈیٹ کو واقعی ایک مقدس امانت سمجھا جائے گا یا اسے عددی اکثریت حاصل کرنے کا محض ذریعہ بنا دیا جائے گا؟ کیونکہ جب ووٹ کی معنویت کمزور پڑتی ہے تو جمہوریت کی اخلاقی بنیادیں بھی متزلزل ہونے لگتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ انسدادِ انحراف قانون کو مزید مؤثر بنایا جائے، جماعتی تبدیلی کے معاملات میں فوری فیصلوں کو یقینی بنایا جائے، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات کو مضبوط کیا جائے اور سب سے بڑھ کر عوامی مینڈیٹ کے احترام کو سیاسی عمل کا بنیادی اصول بنایا جائے۔ جمہوریت صرف حکومت سازی کا نظام نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی ایک اجتماعی امانت ہے۔ اگر یہ امانت کمزور پڑ گئی تو انتخابات کی ظاہری رونق بھی جمہوریت کی روح کو زندہ نہیں رکھ سکے گی۔
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہندوستانی جمہوریت کو آنے والے برسوں میں تلاش کرنا ہوگا، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت صرف اکثریت کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور مینڈیٹ کے احترام میں مضمر ہوتی ہے۔


