
ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس با غ کھاگ
لوگ حقیقت سے نظریں چرانے میں لگے ہیں
اپنے چہروں پہ جھوٹ سجانے میں لگے ہیں
خود تو اندھیروں میں بھٹکتے ہیں مگر
روشنی اوروں کو دکھانے میں لگے ہیں
نفرتوں کی آگ دلوں میں بھٹکانے والے
الفت کے ترانے سنانے میں لگے ہیں
حقیر خواہشیں پُوری کرنے کی خاطر
حرام کی دولت کمانے میں لگے ہیں
بستیاں اوروں کی اجھاڑ کر تعجب ہے
لوگ اپنا گھر بسانے میں لگے ہیں
کہاں وہ اسلاف کی دی ہوئی تعلیم
ہم خود کی شناخت مٹانے میں لگے ہیں
محبت کہاں ہے رشتوں میں ساؔحل مگر
جھوٹے رشتے پھر بھی نبھانے میں لگے ہیں


