گھر گھر کی کہانی

 

محمد ایوبؔ گنائی
ترال بالا پلوامہ

میں اپنے آبائی گھر کے ویران صحن میں بیٹھا تھا۔ یہ وہی آنگن تھا جہاں کبھی بچوں کی معصوم ہنسی گونجتی تھی، جہاں بزرگ سرما کی یخ بستہ دھوپ میں کانگڑی ہاتھ میں لیے ماضی کے قصے سناتے تھے، اور جہاں بہار دستک دیتی تو سیب اور ناشپاتی کے درختوں سے شگوفوں کی بارش ہونے لگتی تھی۔
آج صحن تو وہی تھا، مگر وہ رونقیں وقت کی دھند میں کہیں کھو گئی تھیں۔
میں نے دیوار کے ساتھ لگی پرانی، خستہ حال چارپائی پر بیٹھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری۔ اسی لمحے فضا میں ایک عجیب سا ارتعاش ہوا، جیسے یہ خاموش در و دیوار مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں۔
"کیا سوچ رہے ہو؟” ایک دھیمی، بوڑھی مگر شناسا آواز ابھری۔
میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔ "کون؟”
"میں… تمہارا گھر۔”
میرے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ شاید تنہائی اور یادوں نے مل کر ایک آواز کا روپ دھار لیا تھا۔
"میں یہی سوچ رہا ہوں کہ وقت کتنی بے رحمی سے بدل گیا ہے،” میں نے دیوار پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
گھر کی بنیادوں سے ایک ہلکی سی صوتی لہر اٹھی، جیسے وہ ہنس رہا ہو:
"وقت تو اپنی رفتار سے چلتا ہے، میرے بچے! اصل سوال یہ ہے کہ ان رشتوں کو کیا ہوا جو اس چھت کے نیچے پروان چڑھے تھے؟ لوگ کتنے بدل گئے ہیں!”
میں لاجواب ہو کر خاموش رہا۔
گھر نے اپنی داستان کا سفر شروع کیا:
"مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب تمہارے دادا نے میری پہلی بنیاد رکھی تھی۔ پورا گاؤں اس مٹی کو گوندھنے کے لیے جمع ہو گیا تھا۔ کوئی پتھر اٹھا رہا تھا، کوئی لکڑی تراش رہا تھا، اور کوئی دل سے دعائیں دے رہا تھا۔ اُس دور میں مکان صرف اینٹ، گارے اور چوبِ چنار کا نام نہیں ہوتا تھا۔ گھر ایک خاندان کا سانجھا خواب تھا، ایک نسل کی امید کا مسکن تھا۔”
میں نے نظریں اٹھا کر لکڑی کی پرانی چھت کو دیکھا۔ اس کے ہر شہتیر اور چوبی تراش پر کئی نسلوں کی محنت اور لمس کے گہرے نشانات ثبت تھے۔
گھر بولتا رہا:
"پھر وقت نے کروٹ لی۔ تمہارے والد جوان ہوئے، میری دیواروں پر چونا پھرا، نئے کمروں کا اضافہ ہوا اور پھر تم پیدا ہوئے۔ تمہاری پہلی معصوم ہنسی کی بازگشت بھی میں نے اپنے سینے میں اتاری تھی اور تمہارا پہلا رونا بھی میری ہی چاردیواری نے سنا تھا۔”
میں نے ماضی کے جھروکے میں جھانکتے ہوئے کہا:
"اور میری وہ پہلی شرارت؟ وہ بھی یاد ہے کیا؟”
"بہت اچھی طرح،” گھر نے جواب دیا، "جب تم صحن میں کھڑے خوبانی کے درخت کی اونچی ٹہنی پر چڑھ کر آدھا دن چھپے رہے تھے، اور پورا محلہ تمہیں ڈھونڈتا پھر رہا تھا اور تم وہاں بیٹھے پکے پھل توڑ رہے تھے۔”
ہم دونوں جیسے ماضی کے دھندلے دالان میں ہاتھ پکڑ کر چلنے لگے۔
"پھر جب عیدیں آتیں،” گھر کی آواز میں ایک چمک سی ابھری، "تو میں دلہن کی طرح جگمگا اٹھتا تھا۔ مطبخ سے روایتی مصالحوں اور گوشت کی خوشبوئیں اٹھتیں، بچے نئے کپڑے پہن کر عیدی کے انتظار میں بے چین رہتے۔ رات گئے تک مہمانوں اور رشتوں کا تانتا بندھا رہتا۔ یوں لگتا جیسے میرے کمرے چھوٹے پڑ گئے ہیں، لیکن لوگوں کے دل اتنے وسیع تھے کہ سب سما جاتے۔”
میں نے تڑپ کر ایک گہری سانس لی:
"اور اب… اب تو عید بھی اس پانچ انچ کے موبائل کی سکرین میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔”
صحن میں چند لمحوں کے لیے ایک گہرا سکوت چھا گیا۔ پھر گھر نے دھیمے لہجے میں کہا:
"یہ صرف تمہاری یا میری کہانی نہیں، ایوب! یہ تو اب ہر گھر کا مقدر بن چکی ہے۔”
"وہ کیسے؟” میں نے پوچھا۔
"پہلے لوگ ایک دوسرے کے دلوں کے دالان میں رہتے تھے، اب وہ ایک ہی چھت کے نیچے الگ الگ کمروں کے حصار میں بند ہیں۔ پہلے دسترخوان ایک ہوتا تھا اور برکتیں سانجھی، اب پلیٹیں الگ ہیں اور ذائقے بھی جدا۔ پہلے بزرگ گھر کا مرکزی ستون ہوتے تھے، اب وہ کسی دور افتادہ کونے کی خاموشی بن کر رہ گئے ہیں۔”
ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور چوبی دروازہ ایک سسکتی ہوئی آواز کے ساتھ چرچرا اٹھا۔
گھر نے سلسلہِ کلام دوبارہ جوڑا:
"مجھے یاد ہے جب تمہاری دادی سردیوں کی طویل اور برفانی راتوں میں، کانگڑی کی آنچ کے گرد بچوں کو بٹھا کر لوک کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ ‘ہیمال اور ناگ رائے’ کے قصے، ‘لیلیٰ مجنوں’ کی داستانیں اور بزرگوں کی حکمتیں۔ بچے سوتے نہیں تھے، بلکہ ان کہانیوں کے سحر میں جکڑے خوابوں کے جزیروں کی سیر کرتے تھے۔”
میں نے سیاہ آسمان پر چمکتے تاروں کو دیکھا:
"آج کے بچوں کے پاس کہانیاں نہیں ہیں، ان کے پاس صرف بے جان سکرینیں ہیں جو شعور کو مفلوج کر دیتی ہیں۔”
"اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے،” گھر نے دکھ سے کہا، "کہانیاں نسلوں کو آپس میں جوڑتی تھیں، اور یہ سکرینیں انسان کو اس کے اپنے ہی وجود کے اندر قید کر دیتی ہیں۔”
میں دیر تک اس فلسفے پر غور کرتا رہا۔ پھر میں نے دھیمے سے پوچھا:
"کیا تمہیں اس سنسان ماحول میں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا؟”
گھر کی آواز میں ایک عجیب، جگر سوز اداسی اتر آئی:
"بہت زیادہ…”
"کیوں؟”
"اس لیے کہ میں پتھروں اور لکڑی سے ضرور بنتا ہوں، لیکن آباد صرف انسانوں کے دم قدم سے ہوتا ہوں۔ جب بیٹے روزگار کی تلاش میں شہروں یا پردیس کا رخ کر لیتے ہیں، جب بیٹیاں اپنے نئے آنگن بسا کر رخصت ہو جاتی ہیں، اور جب بزرگ ایک ایک کر کے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں… تو میرے ان خالی کمروں میں صرف خوفناک خاموشی اور مٹی کی مہک ہی باقی رہ جاتی ہے۔”
میری آنکھوں کے سامنے سے جیسے پورا ایک عہد گزر گیا۔ میں نے ان بند کمروں کے زنگ آلود تالوں کو دیکھا جو کبھی زندگی کی چہل پہل سے مہکتے تھے۔
"لیکن کیا تم جانتے ہو؟” گھر نے اچانک اپنے لہجے کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
"کیا؟”
"مجھے اب بھی امید کی ایک دھیمی سی کرن نظر آتی ہے۔”
"وہ کیسی امید؟”
"یہی کہ ایک دن انسان مادی ترقی کی اس اندھی دوڑ سے تھک کر یہ جان لے گا کہ اصل ترقی عالی شان عمارتیں کھڑی کرنے میں نہیں، بلکہ بکھرتے ہوئے رشتوں کو بچانے اور انہیں وقت دینے میں ہے۔”
رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی تھی۔ چاند پہاڑ کی اوٹ سے نکل کر صحن پر اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا۔ گھر کی آواز اب حد درجہ نرم اور صوفیانہ ہو چکی تھی:
"میں نے کئی زمانے بدلتے دیکھے ہیں۔ غربت کا دور بھی کاٹا ہے اور خوشحالی کے دن بھی۔ جنگوں کی ہولناکیاں بھی سنی ہیں اور امن کے گیت بھی۔ لیکن ایک سچائی ایسی ہے جو صدیوں بعد بھی اٹل رہی۔”
"وہ کیا؟”
"یہ کہ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اسے آخرکار سکون اور محبت کی ہی ضرورت ہوتی ہے، جو صرف اپنوں کے درمیان ملتی ہے۔”
میں نے محسوس کیا کہ یہ سچائی صرف میرے اس آبائی مکان کی نہیں، بلکہ کائنات کے ہر گھر کی اصل روح ہے۔
کچھ دیر بعد میں چارپائی سے اٹھا اور صحن میں آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے لگا۔ دیواروں کی خردری سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے یوں لگا جیسے میں اینٹوں کو نہیں، بلکہ وقت کے قدیم اوراق کو چھو رہا ہوں۔
ہر دیوار پر کسی کے قہقہے کی تحریر لکھی تھی۔
ہر چوکھٹ پر کسی کی جدائی کا نقش تھا۔
ہر کمرے میں گزرے ہوئے خوابوں کی مہک بسی تھی۔
اور ہر آنگن میں زندگی کا کوئی ادھورا افسانہ دفن تھا۔
اسی لمحے، فضا میں گھر کی آخری آواز گونجی:
"میری اس داستان کو قلمبند کرو، ایوب!”
میں نے دھندلی آنکھوں سے پوچھا: "صرف تمہاری داستان؟”
وہ بولا: "نہیں… کچھ اپنی زبانی، کچھ میری زبانی۔ کیونکہ میری یہ کہانی دنیا کے ہر گھر کی کہانی ہے۔ کہیں ماں کی دعاؤں کا عطر ہے، کہیں باپ کی مشقت کے پسینے کی خوشبو، کہیں بہن کی رخصتی کے اشکوں کی نمی، تو کہیں بچوں کی شرارتوں کی گونج۔”
میں نے عقیدت سے سر جھکا دیا۔
واقعی، ہر گھر کی اپنی ایک پوشیدہ کتاب ہوتی ہے، جس کے صفحات مٹی اور پتھر سے نہیں، بلکہ انسانی رشتوں اور جذبوں کے خونِ جگر سے لکھے جاتے ہیں۔ اور جب لوگ بچھڑ جاتے ہیں، تو یہ مکانات یادوں کے امین بن کر وہیں کھڑے رہتے ہیں۔
شاید اسی لیے، مکان کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ بوڑھے تو ہم انسان ہوتے ہیں، جو وقت کی لہروں کے ساتھ ایک دن خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
مگر گھر…
گھر اپنی خاموش، پُرپیچ دیواروں میں نسلوں کی ہنسی، ان کی سسکیوں، دعاؤں اور جدائیوں کو صدیوں تک سنبھالے کھڑے رہتے ہیں، اور آنے والے مسافروں سے بس اتنا ہی کہتے ہیں:
"یہ صرف میری داستان نہیں، یہ تو گھر گھر کی کہانی ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

گھر گھر کی کہانی

 

محمد ایوبؔ گنائی
ترال بالا پلوامہ

میں اپنے آبائی گھر کے ویران صحن میں بیٹھا تھا۔ یہ وہی آنگن تھا جہاں کبھی بچوں کی معصوم ہنسی گونجتی تھی، جہاں بزرگ سرما کی یخ بستہ دھوپ میں کانگڑی ہاتھ میں لیے ماضی کے قصے سناتے تھے، اور جہاں بہار دستک دیتی تو سیب اور ناشپاتی کے درختوں سے شگوفوں کی بارش ہونے لگتی تھی۔
آج صحن تو وہی تھا، مگر وہ رونقیں وقت کی دھند میں کہیں کھو گئی تھیں۔
میں نے دیوار کے ساتھ لگی پرانی، خستہ حال چارپائی پر بیٹھتے ہوئے ایک سرد آہ بھری۔ اسی لمحے فضا میں ایک عجیب سا ارتعاش ہوا، جیسے یہ خاموش در و دیوار مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں۔
"کیا سوچ رہے ہو؟” ایک دھیمی، بوڑھی مگر شناسا آواز ابھری۔
میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔ "کون؟”
"میں… تمہارا گھر۔”
میرے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ شاید تنہائی اور یادوں نے مل کر ایک آواز کا روپ دھار لیا تھا۔
"میں یہی سوچ رہا ہوں کہ وقت کتنی بے رحمی سے بدل گیا ہے،” میں نے دیوار پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
گھر کی بنیادوں سے ایک ہلکی سی صوتی لہر اٹھی، جیسے وہ ہنس رہا ہو:
"وقت تو اپنی رفتار سے چلتا ہے، میرے بچے! اصل سوال یہ ہے کہ ان رشتوں کو کیا ہوا جو اس چھت کے نیچے پروان چڑھے تھے؟ لوگ کتنے بدل گئے ہیں!”
میں لاجواب ہو کر خاموش رہا۔
گھر نے اپنی داستان کا سفر شروع کیا:
"مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب تمہارے دادا نے میری پہلی بنیاد رکھی تھی۔ پورا گاؤں اس مٹی کو گوندھنے کے لیے جمع ہو گیا تھا۔ کوئی پتھر اٹھا رہا تھا، کوئی لکڑی تراش رہا تھا، اور کوئی دل سے دعائیں دے رہا تھا۔ اُس دور میں مکان صرف اینٹ، گارے اور چوبِ چنار کا نام نہیں ہوتا تھا۔ گھر ایک خاندان کا سانجھا خواب تھا، ایک نسل کی امید کا مسکن تھا۔”
میں نے نظریں اٹھا کر لکڑی کی پرانی چھت کو دیکھا۔ اس کے ہر شہتیر اور چوبی تراش پر کئی نسلوں کی محنت اور لمس کے گہرے نشانات ثبت تھے۔
گھر بولتا رہا:
"پھر وقت نے کروٹ لی۔ تمہارے والد جوان ہوئے، میری دیواروں پر چونا پھرا، نئے کمروں کا اضافہ ہوا اور پھر تم پیدا ہوئے۔ تمہاری پہلی معصوم ہنسی کی بازگشت بھی میں نے اپنے سینے میں اتاری تھی اور تمہارا پہلا رونا بھی میری ہی چاردیواری نے سنا تھا۔”
میں نے ماضی کے جھروکے میں جھانکتے ہوئے کہا:
"اور میری وہ پہلی شرارت؟ وہ بھی یاد ہے کیا؟”
"بہت اچھی طرح،” گھر نے جواب دیا، "جب تم صحن میں کھڑے خوبانی کے درخت کی اونچی ٹہنی پر چڑھ کر آدھا دن چھپے رہے تھے، اور پورا محلہ تمہیں ڈھونڈتا پھر رہا تھا اور تم وہاں بیٹھے پکے پھل توڑ رہے تھے۔”
ہم دونوں جیسے ماضی کے دھندلے دالان میں ہاتھ پکڑ کر چلنے لگے۔
"پھر جب عیدیں آتیں،” گھر کی آواز میں ایک چمک سی ابھری، "تو میں دلہن کی طرح جگمگا اٹھتا تھا۔ مطبخ سے روایتی مصالحوں اور گوشت کی خوشبوئیں اٹھتیں، بچے نئے کپڑے پہن کر عیدی کے انتظار میں بے چین رہتے۔ رات گئے تک مہمانوں اور رشتوں کا تانتا بندھا رہتا۔ یوں لگتا جیسے میرے کمرے چھوٹے پڑ گئے ہیں، لیکن لوگوں کے دل اتنے وسیع تھے کہ سب سما جاتے۔”
میں نے تڑپ کر ایک گہری سانس لی:
"اور اب… اب تو عید بھی اس پانچ انچ کے موبائل کی سکرین میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔”
صحن میں چند لمحوں کے لیے ایک گہرا سکوت چھا گیا۔ پھر گھر نے دھیمے لہجے میں کہا:
"یہ صرف تمہاری یا میری کہانی نہیں، ایوب! یہ تو اب ہر گھر کا مقدر بن چکی ہے۔”
"وہ کیسے؟” میں نے پوچھا۔
"پہلے لوگ ایک دوسرے کے دلوں کے دالان میں رہتے تھے، اب وہ ایک ہی چھت کے نیچے الگ الگ کمروں کے حصار میں بند ہیں۔ پہلے دسترخوان ایک ہوتا تھا اور برکتیں سانجھی، اب پلیٹیں الگ ہیں اور ذائقے بھی جدا۔ پہلے بزرگ گھر کا مرکزی ستون ہوتے تھے، اب وہ کسی دور افتادہ کونے کی خاموشی بن کر رہ گئے ہیں۔”
ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور چوبی دروازہ ایک سسکتی ہوئی آواز کے ساتھ چرچرا اٹھا۔
گھر نے سلسلہِ کلام دوبارہ جوڑا:
"مجھے یاد ہے جب تمہاری دادی سردیوں کی طویل اور برفانی راتوں میں، کانگڑی کی آنچ کے گرد بچوں کو بٹھا کر لوک کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ ‘ہیمال اور ناگ رائے’ کے قصے، ‘لیلیٰ مجنوں’ کی داستانیں اور بزرگوں کی حکمتیں۔ بچے سوتے نہیں تھے، بلکہ ان کہانیوں کے سحر میں جکڑے خوابوں کے جزیروں کی سیر کرتے تھے۔”
میں نے سیاہ آسمان پر چمکتے تاروں کو دیکھا:
"آج کے بچوں کے پاس کہانیاں نہیں ہیں، ان کے پاس صرف بے جان سکرینیں ہیں جو شعور کو مفلوج کر دیتی ہیں۔”
"اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے،” گھر نے دکھ سے کہا، "کہانیاں نسلوں کو آپس میں جوڑتی تھیں، اور یہ سکرینیں انسان کو اس کے اپنے ہی وجود کے اندر قید کر دیتی ہیں۔”
میں دیر تک اس فلسفے پر غور کرتا رہا۔ پھر میں نے دھیمے سے پوچھا:
"کیا تمہیں اس سنسان ماحول میں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا؟”
گھر کی آواز میں ایک عجیب، جگر سوز اداسی اتر آئی:
"بہت زیادہ…”
"کیوں؟”
"اس لیے کہ میں پتھروں اور لکڑی سے ضرور بنتا ہوں، لیکن آباد صرف انسانوں کے دم قدم سے ہوتا ہوں۔ جب بیٹے روزگار کی تلاش میں شہروں یا پردیس کا رخ کر لیتے ہیں، جب بیٹیاں اپنے نئے آنگن بسا کر رخصت ہو جاتی ہیں، اور جب بزرگ ایک ایک کر کے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں… تو میرے ان خالی کمروں میں صرف خوفناک خاموشی اور مٹی کی مہک ہی باقی رہ جاتی ہے۔”
میری آنکھوں کے سامنے سے جیسے پورا ایک عہد گزر گیا۔ میں نے ان بند کمروں کے زنگ آلود تالوں کو دیکھا جو کبھی زندگی کی چہل پہل سے مہکتے تھے۔
"لیکن کیا تم جانتے ہو؟” گھر نے اچانک اپنے لہجے کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
"کیا؟”
"مجھے اب بھی امید کی ایک دھیمی سی کرن نظر آتی ہے۔”
"وہ کیسی امید؟”
"یہی کہ ایک دن انسان مادی ترقی کی اس اندھی دوڑ سے تھک کر یہ جان لے گا کہ اصل ترقی عالی شان عمارتیں کھڑی کرنے میں نہیں، بلکہ بکھرتے ہوئے رشتوں کو بچانے اور انہیں وقت دینے میں ہے۔”
رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی تھی۔ چاند پہاڑ کی اوٹ سے نکل کر صحن پر اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا۔ گھر کی آواز اب حد درجہ نرم اور صوفیانہ ہو چکی تھی:
"میں نے کئی زمانے بدلتے دیکھے ہیں۔ غربت کا دور بھی کاٹا ہے اور خوشحالی کے دن بھی۔ جنگوں کی ہولناکیاں بھی سنی ہیں اور امن کے گیت بھی۔ لیکن ایک سچائی ایسی ہے جو صدیوں بعد بھی اٹل رہی۔”
"وہ کیا؟”
"یہ کہ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے، اسے آخرکار سکون اور محبت کی ہی ضرورت ہوتی ہے، جو صرف اپنوں کے درمیان ملتی ہے۔”
میں نے محسوس کیا کہ یہ سچائی صرف میرے اس آبائی مکان کی نہیں، بلکہ کائنات کے ہر گھر کی اصل روح ہے۔
کچھ دیر بعد میں چارپائی سے اٹھا اور صحن میں آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے لگا۔ دیواروں کی خردری سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے یوں لگا جیسے میں اینٹوں کو نہیں، بلکہ وقت کے قدیم اوراق کو چھو رہا ہوں۔
ہر دیوار پر کسی کے قہقہے کی تحریر لکھی تھی۔
ہر چوکھٹ پر کسی کی جدائی کا نقش تھا۔
ہر کمرے میں گزرے ہوئے خوابوں کی مہک بسی تھی۔
اور ہر آنگن میں زندگی کا کوئی ادھورا افسانہ دفن تھا۔
اسی لمحے، فضا میں گھر کی آخری آواز گونجی:
"میری اس داستان کو قلمبند کرو، ایوب!”
میں نے دھندلی آنکھوں سے پوچھا: "صرف تمہاری داستان؟”
وہ بولا: "نہیں… کچھ اپنی زبانی، کچھ میری زبانی۔ کیونکہ میری یہ کہانی دنیا کے ہر گھر کی کہانی ہے۔ کہیں ماں کی دعاؤں کا عطر ہے، کہیں باپ کی مشقت کے پسینے کی خوشبو، کہیں بہن کی رخصتی کے اشکوں کی نمی، تو کہیں بچوں کی شرارتوں کی گونج۔”
میں نے عقیدت سے سر جھکا دیا۔
واقعی، ہر گھر کی اپنی ایک پوشیدہ کتاب ہوتی ہے، جس کے صفحات مٹی اور پتھر سے نہیں، بلکہ انسانی رشتوں اور جذبوں کے خونِ جگر سے لکھے جاتے ہیں۔ اور جب لوگ بچھڑ جاتے ہیں، تو یہ مکانات یادوں کے امین بن کر وہیں کھڑے رہتے ہیں۔
شاید اسی لیے، مکان کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ بوڑھے تو ہم انسان ہوتے ہیں، جو وقت کی لہروں کے ساتھ ایک دن خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
مگر گھر…
گھر اپنی خاموش، پُرپیچ دیواروں میں نسلوں کی ہنسی، ان کی سسکیوں، دعاؤں اور جدائیوں کو صدیوں تک سنبھالے کھڑے رہتے ہیں، اور آنے والے مسافروں سے بس اتنا ہی کہتے ہیں:
"یہ صرف میری داستان نہیں، یہ تو گھر گھر کی کہانی ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں