
دانش رحمان
اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر ایک خاموش حملہ ہے۔ موبائل فون، ٹیبلیٹ، ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل مواد بچوں کی معصومیت اور قدرتی نشوونما کو متاثر کر رہے ہیں۔ والدین کی مصروفیات اور سوشل میڈیا کی لت نے بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کرکے ایک مصنوعی ماحول میں محدود کر دیا ہے، جہاں حرکت کی جگہ بے حرکتی، تخیل کی جگہ تیار شدہ مواد اور حقیقی رشتوں کی جگہ مجازی رابطے غالب ہیں۔ ابتدائی عمر میں بچوں کا دماغ قدرتی تجربات، حقیقی کھیل اور آمنے سامنے گفتگو سے بہتر نشوونما پاتا ہے، مگر اسکرینوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال اس عمل کو سست کر رہا ہے اور نشے جیسی وابستگی پیدا کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کم عمر بچوں کے لئے اسکرین کا استعمال محدود ہونا چاہیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بچے روزانہ کئی گھنٹے ڈیوائسز پر گزارتے ہیں۔ کورونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم نے اس رجحان کو مزید تیز کیا اور اب بہت سے گھروں میں اسکرین بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی بن چکی ہے۔ نتیجتاً بچے باہر کھیلنے اور حقیقی ماحول سے سیکھنے کے بجائے گھروں تک محدود ہو گئے ہیں۔
جسمانی نقصان اس مسئلے کا نمایاں پہلو ہے۔ گھنٹوں بیٹھے رہنے سے موٹاپا، جسمانی کمزوری اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ آنکھوں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے اور نظر کی کمزوری، خشک آنکھیں اور تھکاوٹ عام ہو چکی ہیں۔ نیلی روشنی نیند کے نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے بچے دیر سے سوتے ہیں اور دن بھر تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ دوڑنے، چڑھنے اور کھیلنے سے پیدا ہونے والی جسمانی مہارتیں بھی کمزور پڑ رہی ہیں۔
علمی اور تعلیمی اثرات بھی تشویشناک ہیں۔ زیادہ تر ڈیجیٹل مواد توجہ منتشر کرتا ہے اور گہری سوچ کی صلاحیت کم کرتا ہے۔ بچوں کی یکسوئی متاثر ہو رہی ہے، مطالعے کی عادت کمزور پڑ رہی ہے اور تخلیقی صلاحیتیں محدود ہو رہی ہیں۔ غیر فعال اسکرین مواد زبان سیکھنے میں تاخیر کا باعث بنتا ہے جبکہ اساتذہ بھی کلاس روم میں بچوں کی کم ہوتی توجہ پر تشویش ظاہر کرتے ہیں۔
سماجی اور جذباتی نقصان شاید سب سے گہرا ہے۔ بچپن سماجی مہارتوں، ہمدردی اور جذباتی توازن سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے، مگر اسکرینوں نے ان مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر موازنہ، لائکس کی دوڑ اور آن لائن ہراسانی بچوں میں اضطراب، احساسِ کمتری اور اداسی پیدا کر رہی ہے۔ ذہنی صحت کے ماہرین کے مطابق اسکرین کا زیادہ استعمال چڑچڑاپن، تنہائی اور جذباتی بے چینی میں اضافہ کرتا ہے۔ حقیقی دوستیاں کم ہو رہی ہیں جبکہ خاندانی وقت بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ثقافتی نقصان بھی کم اہم نہیں۔ پاکستان کی روایتی ثقافت میں بچپن کھیلوں، کہانیوں اور سماجی سرگرمیوں سے وابستہ تھا، مگر اسکرینوں نے ان روایات کو کمزور کر دیا ہے۔ بچے عالمی ڈیجیٹل مواد میں مصروف ہیں، جس سے مقامی زبان، روایات اور خاندانی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔ آزادانہ کھیلنے اور برادری سے جڑنے کی صلاحیت بھی کمزور پڑ رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے فیچرز استعمال کرتی ہیں جو بچوں کو زیادہ دیر تک مصروف رکھتے ہیں، جیسے لامتناہی سکرولنگ اور خودکار ویڈیوز۔ پاکستان میں قوانین موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس مسئلے کا حل والدین، سکولوں، حکومت اور معاشرے کی مشترکہ کوشش میں ہے۔ والدین گھر میں اسکرین سے پاک اوقات مقرر کریں، بچوں کے ساتھ کھیلیں، کتابیں پڑھیں اور انہیں بیرونی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ سکولوں میں کھیل، فنون لطیفہ اور تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جبکہ حکومت آگاہی مہمات اور بہتر پالیسیوں پر توجہ دے۔
بچپن ایک مختصر مگر قیمتی دور ہے۔ اسکرینوں کی چمک بچوں کو اس حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے جہاں وہ کھیل سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور اپنی شخصیت تعمیر کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی ایک مفید ذریعہ ہونی چاہیے، بچوں کی زندگی کا حاکم نہیں۔ اگر آج سنجیدہ اقدامات کیے گئے تو کل کا بچپن محفوظ رہے گا، ورنہ آنے والی نسلیں اس خاموش چوری کی قیمت ادا کرتی رہیں گی۔


