
محمد ہاشم
اولاد اللہ رب العزت کا نہایت ہی قیمتی انعام اور انمول تحفہ ہے۔ شریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضے کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جس طرح والدین کے اوپر اولاد کے حقوق ہیں، ٹھیک اسی طرح اولاد کے اوپر والدین کے حقوق بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کے ساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اولاد کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی امانت اور عطا کردہ انعام کا صحیح طریقے سے حق ادا کرنا ہے، اور اولاد کو یونہی آزاد چھوڑ دینا اور ان کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرنا بہت بڑا دھوکہ اور خیانت ہے۔
کتاب و سنت میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے، ان کی امانت کو ادا کیا جائے، انہیں آزاد چھوڑنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہیوں سے بچا جائے، کیونکہ دنیا میں کسی بھی انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح پرورش اور تربیت کی جائے تو دنیا ہی میں وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے، لیکن اگر خدانخواستہ اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح پرورش اور تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد دنیا ہی میں سخت آزمائش اور جہنم بن جاتی ہے۔
اولاد کی تربیت کے بارے میں حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ: "کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لئے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے۔” (سنن ترمذی)
چھوٹے بچوں کا ذہن آئینے کی طرح صاف و شفاف اور کورے کاغذ کی طرح خالی ہوتا ہے۔ اب اس میں ان کے والدین جو چیز بھی نقش کر دیتے ہیں، وہ نقش علی الحجر کی طرح مضبوط و پائیدار ہو جاتی ہے۔ بچے کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ اپنے ماں باپ اور بڑوں کے نقال ہوتے ہیں۔ وہ ان کی تمام حرکات و سکنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے والدین کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اپنے بچوں کے لئے بہترین نمونہ اور آئیڈیل بنیں۔
قرآن و حدیث میں یہ حقیقت واشگاف انداز میں بیان کی گئی ہے کہ ہر بچہ توحیدِ خالص کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اصل کے اعتبار سے اس میں طہارت، پاکیزگی، برائیوں سے دوری اور ایمان کی روشنی ہوتی ہے۔ پھر اگر اسے اپنے گھر میں اچھی تربیت اور معاشرے میں اچھے ساتھی میسر آجائیں تو وہ ایمان و اخلاق میں اسوہ، نمونہ اور کامل انسان بن جاتا ہے۔
شریعتِ مطہرہ کی رو سے والدین پر اولاد کے سلسلے میں جو حقوق عائد ہوتے ہیں، ان میں سب سے اہم اور مقدم حق ان کی تعلیم و تربیت ہے۔ دین کی بنیادی تعلیم کا حصول اور اسلام کے مبادیات و ارکان کا جاننا تو ہر مسلمان پر فرض ہے، اور اسی پر اخروی زندگی میں فلاح و کامیابی کا دار و مدار ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے والدین کو یہ وصیت کی ہے کہ بچوں کو قرآنِ پاک، احادیثِ مبارکہ، نیک لوگوں کے واقعات اور ضروری دینی احکام کی تعلیم دیں۔ بچہ والدین کے پاس امانت ہوتا ہے، اور اس کا پاکیزہ دل ایک نفیس جوہر اور موتی کی طرح ہے۔ اگر اسے خیر اور بھلائی کا عادی بنایا جائے اور بھلے کام سکھائے جائیں تو وہ انہیں سیکھتا ہوا بڑھتا اور پلتا ہے، پھر دنیا و آخرت دونوں جگہ خوش نصیب رہتا ہے۔ اور اگر اسے برے کاموں کا عادی بنایا جائے یا بیکار چھوڑ دیا جائے تو بدبختی و ہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس لئے اس کی حفاظت کا طریقہ یہی ہے کہ اسے علم و ادب سکھایا جائے، اچھے اخلاق سکھائے جائیں اور مہذب بنایا جائے۔
والدین کو اپنے بچوں کی تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے:
(۱) سمجھانا۔
(۲) ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔
(۳) مار کے علاوہ کوئی سزا دینا۔
(۴) بقدرِ ضرورت مارنا۔
(۵) قطع تعلق کرنا۔
یعنی غلطی ہو جانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے۔ اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحتاً برائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگر بچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی۔ اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ نصیحت اور پیار سے اسے غلطی کا احساس دلایا جائے۔
بچے کی پیار و محبت سے تربیت و اصلاح کا ایک واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں بچپن میں رسول اللہ ﷺ کی زیرِ تربیت اور زیرِ کفالت تھا۔ ایک مرتبہ میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
"یا غلام! سَمِّ اللّٰہَ، وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ، وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ”۔
یعنی: "اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔”
اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی بہت مار پیٹ بھی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ تربیت کے یہ طریقے نو عمر بچوں کے لئے ہیں، لیکن بلوغت کے بعد تربیت کے طریقے اس سے مختلف ہیں۔ اگر اس وقت نصیحت سے نہ سمجھے تو جب تک وہ اپنی برائی سے باز نہ آئے، اس سے قطع تعلق بھی کیا جا سکتا ہے، جو شرعاً درست ہے اور کئی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ثابت ہے۔
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار تھے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے۔ انہوں نے کنکر پھینکا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے، اور وہ حدیث سنائی کہ:
"إنَّها لا تَصِيدُ صَيْدًا”
یعنی اس سے کوئی جانور شکار نہیں ہو سکتا۔ مگر اس نے پھر کنکر پھینکا تو انہوں نے غصے سے فرمایا: "میں تمہیں بتلا رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر دوبارہ ایسا ہی کر رہے ہو؟ میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا۔”
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے (بلال) سے حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے کی بنا پر قطع تعلق کیا تھا اور مرتے دم تک اس سے بات نہ کی۔
بچوں کی تربیت کے لئے ماں باپ یا استاد کا انہیں تھوڑا بہت، ہلکا پھلکا مارنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ بعض اوقات ضروری بھی ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں افراط و تفریط کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ غصے میں بے قابو ہو جانا اور حد سے زیادہ مار کٹائی کرنا یا بچوں کو مارنے ہی کو غلط سمجھنا، دونوں باتیں غلط ہیں۔ پہلی صورت میں افراط ہے اور دوسری میں تفریط۔ اعتدال کا راستہ وہ ہے جو نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا کہ:
"اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جبکہ وہ سات سال کے ہو جائیں، اور ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو جبکہ وہ دس سال کے ہو جائیں۔” (مشکوٰۃ)
ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچپن میں اولاد کی تربیت جوانی کے بالمقابل بہت آسان ہے۔ جس طرح زمین سے اُگنے والے نرم و نازک پودوں کو بہ سہولت کہیں بھی موڑا جا سکتا ہے، اسی طرح بچوں کے خیالات، افکار اور طرزِ زندگی کو جس رخ پر چاہے بہ آسانی لایا جا سکتا ہے۔ اور جب وہ بڑے ہو جائیں اور ان کی عقل پختہ ہو جائے تو ان میں تبدیلی ناممکن نہ سہی، مگر مشکل ضرور ہوتی ہے۔ اس لئے ابتدائی عمر میں بچوں کی نگرانی اور ان کی صحیح تعلیم و تربیت والدین اور سرپرستوں کی اہم ذمہ داری ہے۔
لہٰذا وہ والدین جو اپنی اولاد کو صرف عصری علوم کے حوالے کر دیتے ہیں، ان کی دینی تعلیم و تربیت کی طرف یا تو بالکل توجہ نہیں کرتے یا معمولی سی توجہ کو کافی اور مفید سمجھ بیٹھتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ جس طرح عصری علوم پر خاطر خواہ محنت کو ضروری سمجھتے ہیں، اتنا ہی یا اس سے زیادہ بنیادی دینی تعلیم، یعنی عقائد و اعمال، معاشرت و اخلاق، معاملات و آداب سے متعلق ضروری امور ان کے قلب و دماغ میں راسخ کریں، تاکہ فتنوں کے اس دور میں الحاد و ارتداد کی کوئی لپیٹ انہیں متاعِ ایمان سے محروم نہ کر دے۔
دوسری جانب وہ والدین جو اپنی اولاد کو صرف دینی تعلیم کے لئے وقف کر دیتے ہیں اور انہیں دانستہ یا نادانستہ طور پر عصری تعلیم سے نابلد رکھتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدلتے حالات کے پیشِ نظر بقدرِ ضرورت عصری علوم سے واقف کرانے کا انتظام و اہتمام کریں، تاکہ مستقبل میں ان کی اولاد کسی بھی موقع پر دوسروں کی محتاج نہ رہے۔
اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت ہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


