جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث

آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے کہ لوگ ووٹ دے نہیں رہے ہیں بلکہ ووٹ فروخت کر رہے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے سیاسی پارٹیوں نے الیکشن کو ایک خرید و فروخت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ حالت ایسی ہو گئی ہے کہ کوئی بھی شریف اور ایماندار شخص الیکشن لڑ نہیں سکتا، اور اگر لڑتا ہے تو کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کروڑوں روپے لٹانے والا مالدار، چاہے وہ ان پڑھ ہو یا کم تعلیم یافتہ، چاہے وہ لٹیرا ہو یا مجرم، اگر وہ ووٹ خریدنے کی طاقت رکھتا ہے تو لوگوں کی اکثریت اسی کو ووٹ دیتی ہے۔
ہر سیاست دان اور ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے سماج اور انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، مگر ہر کوئی اس انتظار میں ہے کہ کوئی اور اس کی پہل کرے گا۔ کسی نہ کسی کو آج نہیں تو کل پہلا قدم اٹھانا پڑے گا۔ آج ایسے لوگوں کی کمی ہے جو بغیر کسی عہدے یا اقتدار کی لالچ کے کام کرنے کو تیار ہوں۔ ہر کوئی اقتدار اور عہدہ چاہتا ہے تاکہ وہ جتنی جلدی اور جتنی زیادہ دولت کما سکتا ہو، کما لے۔

ایسے ماحول میں میں تمل ناڈو کی ایک مثال سنانا پسند کروں گا۔ جب تمل ناڈو میں کامراج چیف منسٹر تھے تو ان کی کابینہ میں صرف سات وزیر تھے اور سب کے سب سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان میں ایک تھے مسٹر کاکن، جن کو گیارہ محکمے دیے گئے تھے (ہوم، پی ڈبلیو ڈی، فنانس، لیبر، تعلیم وغیرہ)۔ وہ دس سال کابینہ کے وزیر رہے۔ جب بھی وہ سرکاری سفر پر جاتے تو اپنے کپڑے خود دھو لیتے تھے اور سادہ زندگی گزارتے تھے۔
ایک مرتبہ وہ سرکاری دورے پر تھے۔ ان سے ٹرین چھوٹ گئی اور دوسری ٹرین اگلے دن صبح تھی۔ انہوں نے کسی کو کچھ نہیں کہا اور پلیٹ فارم پر ہی سو گئے۔ آدھی رات کو پولیس نے انہیں جگایا اور کہا کہ وہ وہاں سو نہیں سکتے۔ جب ان سے نام اور پتہ پوچھا گیا تو انہوں نے صاف صاف اپنا نام، پتہ اور عہدہ بتا دیا۔ اس پر سب حیران ہو گئے اور ان کی مدد کرنا چاہی، مگر وہ نہیں مانے۔ وہیں سو گئے اور صبح ہونے پر ٹرین پکڑ کر روانہ ہو گئے۔
آج کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے آپ ایسے شخص کو کیا کہیں گے؟ کیا آج سیاست میں ہمیں ایسا کوئی شخص دکھائی دیتا ہے؟ معمولی سے معمولی کارپوریٹر بھی آج لاکھوں کروڑوں میں کھیل رہا ہے اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو اس کی طرف اشارہ کر سکے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جو سیاست دان غربت کا شکار تھا، وہ راتوں رات کروڑ پتی کیسے بن گیا۔ نہ اس کا کوئی کاروبار ہے اور نہ ہی کوئی ملازمت، پھر بھی لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے۔
کیا کسی نے سوچا ہے کہ وہ مر کر اللہ کو کیا جواب دے گا؟ ہر کسی کو معلوم ہے کہ یہ دولت اسے کمیشن اور رشوت کے ذریعے حاصل ہو رہی ہے، مگر پھر بھی وہ سب کی نظر میں قابلِ عزت بنا رہتا ہے۔
آج حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو مشہور کرنا چاہتے ہیں، خود کو قائدِ ملت، رہبرِ ملت اور غریبوں کا مسیحا کہلوانا چاہتے ہیں تو قوم میں کئی جاہل، بے روزگار اور ناسمجھ لوگ موجود ہیں جو صرف چند روپے یا کوئی عہدہ لے کر آپ کی جے جے کار کریں گے اور آپ کے قائدِ اعظم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹیں گے۔

آج کل مارکیٹ میں ایسے بے روزگار اور چاپلوس لوگ آ گئے ہیں جو آپ سے پیسے لے کر سو یا دو سو بے روزگاروں کو جمع کرتے ہیں، آپ کے حق میں مظاہرے کرواتے ہیں اور نعرے لگواتے ہیں۔ بس اب آپ قائدِ ملت کہلانے لگیں گے یا حکومت پر دباؤ بنا کر کوئی عہدہ حاصل کر لیں گے۔
کیا یہ سب اس لیے نہیں کہ آج ناجائز دولت حاصل کرنا ایک عام بات ہو گئی ہے؟ آج ہمارا پورا معاشرہ اس کمزوری سے لت پت ہے اور ہم حلال و حرام میں فرق کرنا بھول گئے ہیں۔ قناعت نہ ہم میں ہے اور نہ ہی مذہبی حضرات میں۔
کچھ ناراض سیاست دان ایسے بھی ہیں جو اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے کچھ نامعلوم افراد یا اداروں کو مالی مدد کرتے ہیں اور ان کے ذریعے بڑے بڑے احتجاجی جلسے کرواتے ہیں اور حکومت پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تمام مسلمان ان حکمرانوں سے ناراض ہیں۔ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں عہدے دیے جائیں اور ان کے وعدے پورے کیے جائیں۔
ایسے جلسے جلوسوں سے عام مسلمان متاثر ہو جاتے ہیں اور ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسے جلسے جلوسوں سے ملت کے خاموش افراد کا زیادہ نقصان ہوتا ہے اور فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرہ مزید پولرائز ہو جاتا ہے۔ ایسے دوغلے ہمدردوں سے قوم کو بچانا بے حد ضروری ہے۔
آج کے اس فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے دور میں ایک بہت بڑا مسئلہ امن و امان کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے دین پر چلنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے سامنے ایک نمونہ بنیں۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہمیں ہر دن ذہنی پریشانیوں سے گزرنا پڑے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں غیر مسلموں کو ان ہی کی مذہبی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیتے رہنا ہوگا۔ دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ ویدوں اور اپنشدوں کو بھول گئے ہیں اور صرف دوسرے قصے کہانیوں ہی کو مذہبی کتابیں سمجھ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں شاید یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ویدوں اور اپنشدوں کا نچوڑ چھوٹی چھوٹی کتابوں کی شکل میں ان تک پہنچائیں۔ اگر وہ یہ کتابیں پڑھنے لگیں تو ان سے فرقہ پرستی دور ہو جائے گی اور بھائی چارہ بڑھے گا۔

مجھے معلوم ہے کہ کئی مسلمان اس طریقۂ کار کو پسند نہیں کرتے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے انہیں ان کے سیدھے راستے پر نہیں ڈالا تو سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا ہمیں ہی کرنا ہوگا۔
آج ہندوستان میں ہر شعبۂ زندگی میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، سیاسی نظام میں، پولیس نظام میں، جیلوں کے نظام میں، تعلیمی نظام میں اور معاشی نظام میں بھی۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم مسلمانوں میں موجود دانشور اور ماہرین اس طرف توجہ دیتے اور ہر میدان میں ایک تحریک چلانے کی پہل کرتے۔ اگر ایسی اصلاح کا کام ہم مسلمانوں نے شروع کیا تو یقیناً بہت جلد غیر مسلموں کی اکثریت بھی اس سے جڑ جائے گی اور آج جو ایک دوسرے کے خلاف رجحان پایا جاتا ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔
اس کام کو اگر ہمارا ایک ایک ادارہ اپنے ذمے لے لے تو بہت جلد وہ سب تحریکیں بن جائیں گی جن میں ہماری بھی سلامتی ہے اور دوسروں کی بھی۔
شاید یہ خیال کسی فرد یا مسلم ادارے کو پسند آ جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

ڈاکٹر انیس صدیقی: گل شگفتہ رو-پر ایک نظر

واجد اختر صدیقی  گلبرگہ کرناٹک ڈاکٹر انیس صدیقی نہایت خاموش طبع...

بے خوف ذہن ، لامحدود مستقبل تعلیم نسواں کی طاقت

اشفاق پرواز  ٹنگمرگ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی...

تازہ ترین خبریں

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

ڈاکٹر انیس صدیقی: گل شگفتہ رو-پر ایک نظر

واجد اختر صدیقی  گلبرگہ کرناٹک ڈاکٹر انیس صدیقی نہایت خاموش طبع...

بے خوف ذہن ، لامحدود مستقبل تعلیم نسواں کی طاقت

اشفاق پرواز  ٹنگمرگ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث

آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے کہ لوگ ووٹ دے نہیں رہے ہیں بلکہ ووٹ فروخت کر رہے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے سیاسی پارٹیوں نے الیکشن کو ایک خرید و فروخت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ حالت ایسی ہو گئی ہے کہ کوئی بھی شریف اور ایماندار شخص الیکشن لڑ نہیں سکتا، اور اگر لڑتا ہے تو کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کروڑوں روپے لٹانے والا مالدار، چاہے وہ ان پڑھ ہو یا کم تعلیم یافتہ، چاہے وہ لٹیرا ہو یا مجرم، اگر وہ ووٹ خریدنے کی طاقت رکھتا ہے تو لوگوں کی اکثریت اسی کو ووٹ دیتی ہے۔
ہر سیاست دان اور ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے سماج اور انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، مگر ہر کوئی اس انتظار میں ہے کہ کوئی اور اس کی پہل کرے گا۔ کسی نہ کسی کو آج نہیں تو کل پہلا قدم اٹھانا پڑے گا۔ آج ایسے لوگوں کی کمی ہے جو بغیر کسی عہدے یا اقتدار کی لالچ کے کام کرنے کو تیار ہوں۔ ہر کوئی اقتدار اور عہدہ چاہتا ہے تاکہ وہ جتنی جلدی اور جتنی زیادہ دولت کما سکتا ہو، کما لے۔

ایسے ماحول میں میں تمل ناڈو کی ایک مثال سنانا پسند کروں گا۔ جب تمل ناڈو میں کامراج چیف منسٹر تھے تو ان کی کابینہ میں صرف سات وزیر تھے اور سب کے سب سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان میں ایک تھے مسٹر کاکن، جن کو گیارہ محکمے دیے گئے تھے (ہوم، پی ڈبلیو ڈی، فنانس، لیبر، تعلیم وغیرہ)۔ وہ دس سال کابینہ کے وزیر رہے۔ جب بھی وہ سرکاری سفر پر جاتے تو اپنے کپڑے خود دھو لیتے تھے اور سادہ زندگی گزارتے تھے۔
ایک مرتبہ وہ سرکاری دورے پر تھے۔ ان سے ٹرین چھوٹ گئی اور دوسری ٹرین اگلے دن صبح تھی۔ انہوں نے کسی کو کچھ نہیں کہا اور پلیٹ فارم پر ہی سو گئے۔ آدھی رات کو پولیس نے انہیں جگایا اور کہا کہ وہ وہاں سو نہیں سکتے۔ جب ان سے نام اور پتہ پوچھا گیا تو انہوں نے صاف صاف اپنا نام، پتہ اور عہدہ بتا دیا۔ اس پر سب حیران ہو گئے اور ان کی مدد کرنا چاہی، مگر وہ نہیں مانے۔ وہیں سو گئے اور صبح ہونے پر ٹرین پکڑ کر روانہ ہو گئے۔
آج کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے آپ ایسے شخص کو کیا کہیں گے؟ کیا آج سیاست میں ہمیں ایسا کوئی شخص دکھائی دیتا ہے؟ معمولی سے معمولی کارپوریٹر بھی آج لاکھوں کروڑوں میں کھیل رہا ہے اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو اس کی طرف اشارہ کر سکے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جو سیاست دان غربت کا شکار تھا، وہ راتوں رات کروڑ پتی کیسے بن گیا۔ نہ اس کا کوئی کاروبار ہے اور نہ ہی کوئی ملازمت، پھر بھی لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے۔
کیا کسی نے سوچا ہے کہ وہ مر کر اللہ کو کیا جواب دے گا؟ ہر کسی کو معلوم ہے کہ یہ دولت اسے کمیشن اور رشوت کے ذریعے حاصل ہو رہی ہے، مگر پھر بھی وہ سب کی نظر میں قابلِ عزت بنا رہتا ہے۔
آج حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو مشہور کرنا چاہتے ہیں، خود کو قائدِ ملت، رہبرِ ملت اور غریبوں کا مسیحا کہلوانا چاہتے ہیں تو قوم میں کئی جاہل، بے روزگار اور ناسمجھ لوگ موجود ہیں جو صرف چند روپے یا کوئی عہدہ لے کر آپ کی جے جے کار کریں گے اور آپ کے قائدِ اعظم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹیں گے۔

آج کل مارکیٹ میں ایسے بے روزگار اور چاپلوس لوگ آ گئے ہیں جو آپ سے پیسے لے کر سو یا دو سو بے روزگاروں کو جمع کرتے ہیں، آپ کے حق میں مظاہرے کرواتے ہیں اور نعرے لگواتے ہیں۔ بس اب آپ قائدِ ملت کہلانے لگیں گے یا حکومت پر دباؤ بنا کر کوئی عہدہ حاصل کر لیں گے۔
کیا یہ سب اس لیے نہیں کہ آج ناجائز دولت حاصل کرنا ایک عام بات ہو گئی ہے؟ آج ہمارا پورا معاشرہ اس کمزوری سے لت پت ہے اور ہم حلال و حرام میں فرق کرنا بھول گئے ہیں۔ قناعت نہ ہم میں ہے اور نہ ہی مذہبی حضرات میں۔
کچھ ناراض سیاست دان ایسے بھی ہیں جو اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے کچھ نامعلوم افراد یا اداروں کو مالی مدد کرتے ہیں اور ان کے ذریعے بڑے بڑے احتجاجی جلسے کرواتے ہیں اور حکومت پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تمام مسلمان ان حکمرانوں سے ناراض ہیں۔ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں عہدے دیے جائیں اور ان کے وعدے پورے کیے جائیں۔
ایسے جلسے جلوسوں سے عام مسلمان متاثر ہو جاتے ہیں اور ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسے جلسے جلوسوں سے ملت کے خاموش افراد کا زیادہ نقصان ہوتا ہے اور فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرہ مزید پولرائز ہو جاتا ہے۔ ایسے دوغلے ہمدردوں سے قوم کو بچانا بے حد ضروری ہے۔
آج کے اس فرقہ پرستی کے بڑھتے ہوئے دور میں ایک بہت بڑا مسئلہ امن و امان کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے دین پر چلنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے سامنے ایک نمونہ بنیں۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہمیں ہر دن ذہنی پریشانیوں سے گزرنا پڑے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں غیر مسلموں کو ان ہی کی مذہبی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیتے رہنا ہوگا۔ دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ ویدوں اور اپنشدوں کو بھول گئے ہیں اور صرف دوسرے قصے کہانیوں ہی کو مذہبی کتابیں سمجھ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں شاید یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ویدوں اور اپنشدوں کا نچوڑ چھوٹی چھوٹی کتابوں کی شکل میں ان تک پہنچائیں۔ اگر وہ یہ کتابیں پڑھنے لگیں تو ان سے فرقہ پرستی دور ہو جائے گی اور بھائی چارہ بڑھے گا۔

مجھے معلوم ہے کہ کئی مسلمان اس طریقۂ کار کو پسند نہیں کرتے، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے انہیں ان کے سیدھے راستے پر نہیں ڈالا تو سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا ہمیں ہی کرنا ہوگا۔
آج ہندوستان میں ہر شعبۂ زندگی میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، سیاسی نظام میں، پولیس نظام میں، جیلوں کے نظام میں، تعلیمی نظام میں اور معاشی نظام میں بھی۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم مسلمانوں میں موجود دانشور اور ماہرین اس طرف توجہ دیتے اور ہر میدان میں ایک تحریک چلانے کی پہل کرتے۔ اگر ایسی اصلاح کا کام ہم مسلمانوں نے شروع کیا تو یقیناً بہت جلد غیر مسلموں کی اکثریت بھی اس سے جڑ جائے گی اور آج جو ایک دوسرے کے خلاف رجحان پایا جاتا ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔
اس کام کو اگر ہمارا ایک ایک ادارہ اپنے ذمے لے لے تو بہت جلد وہ سب تحریکیں بن جائیں گی جن میں ہماری بھی سلامتی ہے اور دوسروں کی بھی۔
شاید یہ خیال کسی فرد یا مسلم ادارے کو پسند آ جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں