درس کربلا: عالم انسانیت اور امت مسلمہ کیلئے ابدی پیغام

سید عارف احمد بخاری (القادری) 
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے جس میں ایمان، صبر، استقامت، ایثار، وفاداری اور حق پر ثابت قدمی کے بے شمار اسباق پوشیدہ ہیں۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک عملی درسگاہ اور حق و صداقت کا ابدی منشور ہے۔ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے وفادار رفقاء نے اپنے مقدس خون سے وہ پیغام رقم کیا جس کی روشنی میں ہر دور کا انسان حق و باطل میں امتیاز کر سکتا ہے۔
کربلا کا سب سے پہلا درس یہ ہے کہ انسان حق کے معاملے میں کسی خوف، مصلحت یا دنیاوی منفعت کا اسیر نہ بنے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے سامنے اقتدار، آسائش اور ظاہری امن کے مختلف راستے موجود تھے، مگر آپ نے رضائے الٰہی کی خاطر ان سب کو ٹھکرا کر حق و صداقت کا راستہ اختیار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی کامیابی کا معیار دنیاوی جاہ و منصب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔
کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ظلم و جبر خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اہلِ ایمان کی شان نہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتِ اطہار اور اپنے وفادار ساتھیوں کی قربانی دے کر ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے جھکنا ہرگز قبول نہیں۔
واقعۂ کربلا صبر و استقامت کا عظیم ترین درس بھی دیتا ہے۔ تین دن کی پیاس، اہل و عیال کی تکالیف، نوجوانوں اور بچوں کی شہادت اور مسلسل مصائب کے باوجود حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثار ساتھیوں کے قدموں میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اور ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ۔
’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘
شہدائے کربلا نے اپنے کردار سے ان آیاتِ مبارکہ کی ایسی عملی تفسیر پیش کی جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
کربلا کا ایک اہم سبق دین کی حفاظت ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے واضح فرما دیا کہ جب دین کے بنیادی اصول اور اسلامی اقدار خطرے میں پڑ جائیں تو خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں رہتا۔ آپ کی عظیم قربانی نے امت کو یہ پیغام دیا کہ دینِ اسلام کی سربلندی اور اس کی حقیقی روح کی حفاظت ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
واقعۂ کربلا اتحادِ امت کا بھی عظیم درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کسی ایک قبیلے، نسل یا مخصوص گروہ کے لیے نہیں بلکہ پوری امتِ محمدیہ ﷺ کی بقا اور اصلاح کے لیے میدانِ عمل میں اترے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ نے عالمِ انسانیت کے ہر مظلوم کی آواز بن کر حق و انصاف کا عَلَم بلند کیا۔ اسی لیے پیغامِ کربلا مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر امت کو قرآن و سنت کے دامن میں جمع ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
کربلا ایثار، وفاداری اور شہادتِ حق کی لازوال داستان ہے۔ حضرت عباس علمدار علیہ السلام، حضرت علی اکبر علیہ السلام، حضرت قاسم علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا نے جس بے مثال وفاداری، ایثار اور جانثاری کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ انسانیت میں اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے اپنے پاکیزہ خون سے یہ حقیقت ثبت کر دی کہ حق کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنا فنا نہیں بلکہ بقا کی معراج ہے۔
قرآنِ مجید شہداء کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔
’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے انہیں ہرگز مردہ خیال نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔‘‘
اسی طرح فرمایا:مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ۔
’’مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔‘‘
بلاشبہ شہدائے کربلا ان آیات کے روشن مصداق تھے جنہوں نے وفا، ایثار اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک انسانیت کو حق کے لیے قربانی دینے کا درس دیتی رہے گی۔
آج امتِ مسلمہ جن مسائل، انتشار، فرقہ واریت، اخلاقی زوال اور فکری کمزوریوں کا شکار ہے، ان کا علاج بھی پیغامِ کربلا میں موجود ہے۔ اگر عالمِ انسانیت بالعموم اور مسلمان بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ سے اخلاص، صبر، قربانی، حق گوئی اور استقامت کا سبق حاصل کر لیں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
چونکہ یہاں اگر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے عظیم کردار کا تذکرہ نہ کیا جائے تو حق ادا نہ ہوگا۔ آپ ایک طرف خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی لختِ جگر، حیا و عصمت کی پیکر اور دوسری طرف شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہادر اور باوقار بیٹی تھیں۔ آپ نے کربلا سے لے کر کوفہ اور دمشق تک جس صبر، استقامت، حکمت، بصیرت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے کردار اور عمل کے ذریعے حق و صداقت کی ایسی مثال قائم کی جو زمانے کے تغیرات کے باوجود اپنی تازگی اور اثر آفرینی برقرار رکھتی ہے۔ ان عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت سیدہ زینب بنتِ علی سلام اللہ علیہا کا مقام نہایت بلند اور منفرد ہے۔ آپ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی، امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی لختِ جگر اور نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی ہمشیرہ تھیں۔ آپ نے میدانِ کربلا سے لے کر کوفہ و دمشق کے ایوانوں تک جس صبر، حکمت، بصیرت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔
کربلا کے میدان میں جب یکے بعد دیگرے اہلِ بیتِ اطہار اور اصحابِ وفا جامِ شہادت نوش کر رہے تھے تو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نہ صرف خیموں میں موجود خواتین اور بچوں کی دلجوئی اور نگہبانی فرما رہی تھیں بلکہ درحقیقت آپ امام حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کی محافظ بھی تھیں۔ آپ نے اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور دیگر عزیزوں کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی مگر صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اسی استقامت اور بصیرت کے باعث تاریخ نے آپ کو ’’عقیلۃ بنی ہاشم‘‘ اور ’’شریکۃ الحسین‘‘ کے معزز القابات سے یاد کیا۔
عاشورہ کے دن جب حضرت امام حسین علیہ السلام شہید کر دیے گئے اور اہلِ بیت کے خیموں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تو اس ہولناک اور کربناک ماحول میں حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جس عزم، تدبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ آپ کے غیر معمولی کردار کا روشن ثبوت ہے۔ آپ نے خوف و اضطراب کے عالم میں بھی بچوں اور خواتین کی حفاظت فرمائی اور مصیبت کے سمندر میں ثابت قدمی کا ایسا مظاہرہ کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کے لیے ارشاد فرماتا ہے:وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ۔
’’اور صبر کیجیے، اور آپ کا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔‘‘
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی اس آیتِ مبارکہ کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
کربلا کے بعد اصل معرکہ تلوار کا نہیں بلکہ پیغام، فکر اور حق گوئی کا تھا۔ دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ شہادتِ حسین علیہ السلام کے بعد یہ تحریک دم توڑ دے گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو اس مشن کی ایسی ترجمان بنایا کہ کربلا کا پیغام رہتی دنیا تک زندہ ہو گیا۔
جب اسیرانِ اہلِ بیت کو کوفہ لایا گیا تو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اہلِ کوفہ کے سامنے ایسا مؤثر اور تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے لوگوں کے ضمیر جھنجھوڑ دیے۔ آپ نے انہیں ان کی بے وفائی، عہد شکنی اور دنیا پرستی کا آئینہ دکھایا اور واضح فرمایا کہ انہوں نے کس عظیم ہستی کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ارتکاب کیا ہے۔
اس کے بعد جب قافلۂ اہلِ بیت دمشق پہنچا اور دربارِ یزید میں پیش کیا گیا تو وہاں بھی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جرأت و حق گوئی کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے باطل کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ یزید اپنی ظاہری کامیابی پر نازاں تھا مگر آپ کے خطبۂ حق نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آپ نے واضح فرما دیا کہ اقتدار، قوت اور دنیاوی غلبہ عارضی چیزیں ہیں جبکہ حق، صداقت اور رضائے الٰہی ہی اصل کامیابی کا معیار ہیں۔
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا وہ تاریخی جملہ آج بھی صبر، یقین اور معرفت کی معراج سمجھا جاتا ہے:مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا۔
’’میں نے تو اس سارے واقعے میں حسن ہی حسن دیکھا ہے۔‘‘
یہ جملہ درحقیقت اس کامل ایمان اور غیر متزلزل یقین کا مظہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے والوں کے حصے میں آتا ہے۔ آپ نے دنیا کو یہ درس دیا کہ اللہ کی راہ میں دی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور شہادت شکست نہیں بلکہ حیاتِ جاوداں کا عنوان ہے۔
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی امتِ مسلمہ کی خواتین کے لیے بے شمار عملی پیغامات رکھتی ہے۔ سب سے پہلا پیغام ایمانِ کامل اور اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل بھروسے کا ہے۔ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مومنہ عورت اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھتی ہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتی۔
دوسرا پیغام حیا، عفت اور پاکیزگی کا ہے۔ حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے شدید ترین مصائب اور آزمائشوں کے باوجود اسلامی وقار، عفت اور حیا کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آج کی مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کی تمام خواتین کے لیے آپ کی زندگی ایک روشن نمونہ ہے کہ وہ جدید زندگی کے تمام تقاضوں کے باوجود اپنے اخلاقی تشخص اور اعلیٰ اقدار کی حفاظت کریں۔
خصوصاً ایسے دور میں جبکہ آئے روز خواتین ظلم، استحصال، بدامنی اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہو رہی ہیں، حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا کردار انہیں عزت، وقار، جرأت اور استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
تیسرا پیغام علم و شعور کا ہے۔ حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا علم، فہم، حکمت اور بصیرت میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ آپ کے خطبات اس حقیقت کا بین ثبوت ہیں کہ ایک مسلمان خاتون علمِ دین اور فہمِ شریعت کے ذریعے معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
چوتھا پیغام جرأتِ اظہار اور حق گوئی کا ہے۔ آپ نے ظالم حکمران کے دربار میں بھی حق بات کہنے میں کوئی تردد نہیں فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورت محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ وہ علم، کردار اور حکمت کے ساتھ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور دینی رہنمائی بھی کر سکتی ہے۔
پانچواں پیغام صبر و استقامت کا ہے۔ زندگی میں آزمائشیں ہر شخص پر آتی ہیں، لیکن کامیاب وہی ہوتا ہے جو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی طرح صبر، حوصلے اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کے ساتھ ان کا سامنا کرے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو ثابت قدمی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ۔
’’پس آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘
اور ارشادِ ربانی ہے:وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔
’’کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔‘‘
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی ان قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر ہے۔ آپ نے مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود نہ صبر کا دامن چھوڑا، نہ حق گوئی سے کنارہ کشی اختیار کی اور نہ ہی ظلم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اپنے مقدس خون سے حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل قائم کی تو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، حکمت، خطابت اور جرأت کے ذریعے اس پیغام کو عالمِ انسانیت تک پہنچایا۔ کربلا کی قربانی کو دوام بخشنے اور اس کے پیغام کو زندہ رکھنے میں آپ کا کردار بنیادی، فیصلہ کن اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا میں حسینی قربانی کا ظہور ہوا اور اس کی حفاظت و اشاعت کا عظیم فریضہ زینبی کردار نے انجام دیا۔
آج امتِ مسلمہ کی خواتین اگر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی سیرتِ مبارکہ سے ایمان، حیا، علم، صبر، جرأت اور استقامت کا سبق حاصل کر لیں تو وہ نہ صرف اپنی ذات کی تعمیر کر سکتی ہیں بلکہ ایک صالح خاندان، باکردار نسل اور مضبوط اسلامی معاشرے کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
الغرض، واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق، عدل، حریت، صبر، وفا اور قربانی کا ایک ابدی منشور ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے مقدس خون سے یہ ثابت فرمایا کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی ایک صدا اس کی بنیادوں کو متزلزل کر سکتی ہے، جبکہ حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، حکمت، بصیرت اور بے مثال خطابت کے ذریعے اس پیغام کو رہتی دنیا تک زندہ کر دیا۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ۔
’’اور اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔‘‘
کربلا اسی وعدۂ الٰہی کی ایک روشن تعبیر ہے۔ آج عالمِ انسانیت بالعموم اور امتِ مسلمہ بالخصوص کو ضرورت ہے کہ وہ پیغامِ کربلا کو محض ایک تاریخی یادگار کے طور پر نہ پڑھے بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔ جب تک اخلاصِ حسینی، وفائے عباسی، شجاعتِ علوی اور استقامتِ زینبی ہمارے کردار میں جلوہ گر نہیں ہوتی، اس وقت تک کربلا کا حقیقی پیغام ہماری زندگیوں میں پوری طرح نمایاں نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے، حق و صداقت کا عَلَم بلند رکھنے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

جنگ نیوز سرینگر/سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پیش...

FIFAولڈ کپ امریکہ کی سرزمین پر ایران کا پرچم لہرایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک مغربی ایشیا میں امن معاہدے کے اعلان...

تازہ ترین خبریں

سچائی مکالمے سے نہیں ڈرتی

ام ماریہ حق آج دنیا مذہب، ثقافت، زبان اور نظریات...

پنڈت نہرو کے انڈیا سے مودی جی کے بھارت تک کا سفر

ہردیپ سنگھ پوری مرکزی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی گیس وزیرِاعظم نریندر مودی...

1448 ہجری کی آمد مبارک ہو، مگر یاد رکھیے!

افتخاراحمدقادری ایک اور سال اپنی تمام یادوں، حسرتوں، کامیابیوں...

امرناتھ یاترا: جموں و کشمیر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

جنگ نیوز سرینگر/سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پیش...

FIFAولڈ کپ امریکہ کی سرزمین پر ایران کا پرچم لہرایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک مغربی ایشیا میں امن معاہدے کے اعلان...

درس کربلا: عالم انسانیت اور امت مسلمہ کیلئے ابدی پیغام

سید عارف احمد بخاری (القادری) 
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے جس میں ایمان، صبر، استقامت، ایثار، وفاداری اور حق پر ثابت قدمی کے بے شمار اسباق پوشیدہ ہیں۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک عملی درسگاہ اور حق و صداقت کا ابدی منشور ہے۔ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے وفادار رفقاء نے اپنے مقدس خون سے وہ پیغام رقم کیا جس کی روشنی میں ہر دور کا انسان حق و باطل میں امتیاز کر سکتا ہے۔
کربلا کا سب سے پہلا درس یہ ہے کہ انسان حق کے معاملے میں کسی خوف، مصلحت یا دنیاوی منفعت کا اسیر نہ بنے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے سامنے اقتدار، آسائش اور ظاہری امن کے مختلف راستے موجود تھے، مگر آپ نے رضائے الٰہی کی خاطر ان سب کو ٹھکرا کر حق و صداقت کا راستہ اختیار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی کامیابی کا معیار دنیاوی جاہ و منصب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔
کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ظلم و جبر خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اہلِ ایمان کی شان نہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتِ اطہار اور اپنے وفادار ساتھیوں کی قربانی دے کر ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے جھکنا ہرگز قبول نہیں۔
واقعۂ کربلا صبر و استقامت کا عظیم ترین درس بھی دیتا ہے۔ تین دن کی پیاس، اہل و عیال کی تکالیف، نوجوانوں اور بچوں کی شہادت اور مسلسل مصائب کے باوجود حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثار ساتھیوں کے قدموں میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اور ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ۔
’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘
شہدائے کربلا نے اپنے کردار سے ان آیاتِ مبارکہ کی ایسی عملی تفسیر پیش کی جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
کربلا کا ایک اہم سبق دین کی حفاظت ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے واضح فرما دیا کہ جب دین کے بنیادی اصول اور اسلامی اقدار خطرے میں پڑ جائیں تو خاموشی اختیار کرنا جائز نہیں رہتا۔ آپ کی عظیم قربانی نے امت کو یہ پیغام دیا کہ دینِ اسلام کی سربلندی اور اس کی حقیقی روح کی حفاظت ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
واقعۂ کربلا اتحادِ امت کا بھی عظیم درس دیتا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کسی ایک قبیلے، نسل یا مخصوص گروہ کے لیے نہیں بلکہ پوری امتِ محمدیہ ﷺ کی بقا اور اصلاح کے لیے میدانِ عمل میں اترے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ نے عالمِ انسانیت کے ہر مظلوم کی آواز بن کر حق و انصاف کا عَلَم بلند کیا۔ اسی لیے پیغامِ کربلا مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر امت کو قرآن و سنت کے دامن میں جمع ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
کربلا ایثار، وفاداری اور شہادتِ حق کی لازوال داستان ہے۔ حضرت عباس علمدار علیہ السلام، حضرت علی اکبر علیہ السلام، حضرت قاسم علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا نے جس بے مثال وفاداری، ایثار اور جانثاری کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ انسانیت میں اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے اپنے پاکیزہ خون سے یہ حقیقت ثبت کر دی کہ حق کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنا فنا نہیں بلکہ بقا کی معراج ہے۔
قرآنِ مجید شہداء کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔
’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے انہیں ہرگز مردہ خیال نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔‘‘
اسی طرح فرمایا:مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ۔
’’مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔‘‘
بلاشبہ شہدائے کربلا ان آیات کے روشن مصداق تھے جنہوں نے وفا، ایثار اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک انسانیت کو حق کے لیے قربانی دینے کا درس دیتی رہے گی۔
آج امتِ مسلمہ جن مسائل، انتشار، فرقہ واریت، اخلاقی زوال اور فکری کمزوریوں کا شکار ہے، ان کا علاج بھی پیغامِ کربلا میں موجود ہے۔ اگر عالمِ انسانیت بالعموم اور مسلمان بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ سے اخلاص، صبر، قربانی، حق گوئی اور استقامت کا سبق حاصل کر لیں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
چونکہ یہاں اگر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے عظیم کردار کا تذکرہ نہ کیا جائے تو حق ادا نہ ہوگا۔ آپ ایک طرف خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی لختِ جگر، حیا و عصمت کی پیکر اور دوسری طرف شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہادر اور باوقار بیٹی تھیں۔ آپ نے کربلا سے لے کر کوفہ اور دمشق تک جس صبر، استقامت، حکمت، بصیرت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک اہلِ حق کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے کردار اور عمل کے ذریعے حق و صداقت کی ایسی مثال قائم کی جو زمانے کے تغیرات کے باوجود اپنی تازگی اور اثر آفرینی برقرار رکھتی ہے۔ ان عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت سیدہ زینب بنتِ علی سلام اللہ علیہا کا مقام نہایت بلند اور منفرد ہے۔ آپ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی، امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی لختِ جگر اور نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی ہمشیرہ تھیں۔ آپ نے میدانِ کربلا سے لے کر کوفہ و دمشق کے ایوانوں تک جس صبر، حکمت، بصیرت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔
کربلا کے میدان میں جب یکے بعد دیگرے اہلِ بیتِ اطہار اور اصحابِ وفا جامِ شہادت نوش کر رہے تھے تو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نہ صرف خیموں میں موجود خواتین اور بچوں کی دلجوئی اور نگہبانی فرما رہی تھیں بلکہ درحقیقت آپ امام حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کی محافظ بھی تھیں۔ آپ نے اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور دیگر عزیزوں کی شہادت اپنی آنکھوں سے دیکھی مگر صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اسی استقامت اور بصیرت کے باعث تاریخ نے آپ کو ’’عقیلۃ بنی ہاشم‘‘ اور ’’شریکۃ الحسین‘‘ کے معزز القابات سے یاد کیا۔
عاشورہ کے دن جب حضرت امام حسین علیہ السلام شہید کر دیے گئے اور اہلِ بیت کے خیموں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تو اس ہولناک اور کربناک ماحول میں حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جس عزم، تدبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ آپ کے غیر معمولی کردار کا روشن ثبوت ہے۔ آپ نے خوف و اضطراب کے عالم میں بھی بچوں اور خواتین کی حفاظت فرمائی اور مصیبت کے سمندر میں ثابت قدمی کا ایسا مظاہرہ کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کے لیے ارشاد فرماتا ہے:وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ۔
’’اور صبر کیجیے، اور آپ کا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔‘‘
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی اس آیتِ مبارکہ کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
کربلا کے بعد اصل معرکہ تلوار کا نہیں بلکہ پیغام، فکر اور حق گوئی کا تھا۔ دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ شہادتِ حسین علیہ السلام کے بعد یہ تحریک دم توڑ دے گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو اس مشن کی ایسی ترجمان بنایا کہ کربلا کا پیغام رہتی دنیا تک زندہ ہو گیا۔
جب اسیرانِ اہلِ بیت کو کوفہ لایا گیا تو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اہلِ کوفہ کے سامنے ایسا مؤثر اور تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس نے لوگوں کے ضمیر جھنجھوڑ دیے۔ آپ نے انہیں ان کی بے وفائی، عہد شکنی اور دنیا پرستی کا آئینہ دکھایا اور واضح فرمایا کہ انہوں نے کس عظیم ہستی کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ارتکاب کیا ہے۔
اس کے بعد جب قافلۂ اہلِ بیت دمشق پہنچا اور دربارِ یزید میں پیش کیا گیا تو وہاں بھی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جرأت و حق گوئی کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے باطل کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ یزید اپنی ظاہری کامیابی پر نازاں تھا مگر آپ کے خطبۂ حق نے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آپ نے واضح فرما دیا کہ اقتدار، قوت اور دنیاوی غلبہ عارضی چیزیں ہیں جبکہ حق، صداقت اور رضائے الٰہی ہی اصل کامیابی کا معیار ہیں۔
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا وہ تاریخی جملہ آج بھی صبر، یقین اور معرفت کی معراج سمجھا جاتا ہے:مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا۔
’’میں نے تو اس سارے واقعے میں حسن ہی حسن دیکھا ہے۔‘‘
یہ جملہ درحقیقت اس کامل ایمان اور غیر متزلزل یقین کا مظہر ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے والوں کے حصے میں آتا ہے۔ آپ نے دنیا کو یہ درس دیا کہ اللہ کی راہ میں دی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور شہادت شکست نہیں بلکہ حیاتِ جاوداں کا عنوان ہے۔
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی امتِ مسلمہ کی خواتین کے لیے بے شمار عملی پیغامات رکھتی ہے۔ سب سے پہلا پیغام ایمانِ کامل اور اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل بھروسے کا ہے۔ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مومنہ عورت اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھتی ہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیتی۔
دوسرا پیغام حیا، عفت اور پاکیزگی کا ہے۔ حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے شدید ترین مصائب اور آزمائشوں کے باوجود اسلامی وقار، عفت اور حیا کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آج کی مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ عالمِ انسانیت کی تمام خواتین کے لیے آپ کی زندگی ایک روشن نمونہ ہے کہ وہ جدید زندگی کے تمام تقاضوں کے باوجود اپنے اخلاقی تشخص اور اعلیٰ اقدار کی حفاظت کریں۔
خصوصاً ایسے دور میں جبکہ آئے روز خواتین ظلم، استحصال، بدامنی اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہو رہی ہیں، حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا کردار انہیں عزت، وقار، جرأت اور استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
تیسرا پیغام علم و شعور کا ہے۔ حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا علم، فہم، حکمت اور بصیرت میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ آپ کے خطبات اس حقیقت کا بین ثبوت ہیں کہ ایک مسلمان خاتون علمِ دین اور فہمِ شریعت کے ذریعے معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
چوتھا پیغام جرأتِ اظہار اور حق گوئی کا ہے۔ آپ نے ظالم حکمران کے دربار میں بھی حق بات کہنے میں کوئی تردد نہیں فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورت محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ وہ علم، کردار اور حکمت کے ساتھ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور دینی رہنمائی بھی کر سکتی ہے۔
پانچواں پیغام صبر و استقامت کا ہے۔ زندگی میں آزمائشیں ہر شخص پر آتی ہیں، لیکن کامیاب وہی ہوتا ہے جو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی طرح صبر، حوصلے اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کے ساتھ ان کا سامنا کرے۔
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو ثابت قدمی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ۔
’’پس آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘
اور ارشادِ ربانی ہے:وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔
’’کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔‘‘
حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی ان قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر ہے۔ آپ نے مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود نہ صبر کا دامن چھوڑا، نہ حق گوئی سے کنارہ کشی اختیار کی اور نہ ہی ظلم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اپنے مقدس خون سے حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل قائم کی تو حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، حکمت، خطابت اور جرأت کے ذریعے اس پیغام کو عالمِ انسانیت تک پہنچایا۔ کربلا کی قربانی کو دوام بخشنے اور اس کے پیغام کو زندہ رکھنے میں آپ کا کردار بنیادی، فیصلہ کن اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا میں حسینی قربانی کا ظہور ہوا اور اس کی حفاظت و اشاعت کا عظیم فریضہ زینبی کردار نے انجام دیا۔
آج امتِ مسلمہ کی خواتین اگر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی سیرتِ مبارکہ سے ایمان، حیا، علم، صبر، جرأت اور استقامت کا سبق حاصل کر لیں تو وہ نہ صرف اپنی ذات کی تعمیر کر سکتی ہیں بلکہ ایک صالح خاندان، باکردار نسل اور مضبوط اسلامی معاشرے کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
الغرض، واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق، عدل، حریت، صبر، وفا اور قربانی کا ایک ابدی منشور ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے مقدس خون سے یہ ثابت فرمایا کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی ایک صدا اس کی بنیادوں کو متزلزل کر سکتی ہے، جبکہ حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، حکمت، بصیرت اور بے مثال خطابت کے ذریعے اس پیغام کو رہتی دنیا تک زندہ کر دیا۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ۔
’’اور اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔‘‘
کربلا اسی وعدۂ الٰہی کی ایک روشن تعبیر ہے۔ آج عالمِ انسانیت بالعموم اور امتِ مسلمہ بالخصوص کو ضرورت ہے کہ وہ پیغامِ کربلا کو محض ایک تاریخی یادگار کے طور پر نہ پڑھے بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔ جب تک اخلاصِ حسینی، وفائے عباسی، شجاعتِ علوی اور استقامتِ زینبی ہمارے کردار میں جلوہ گر نہیں ہوتی، اس وقت تک کربلا کا حقیقی پیغام ہماری زندگیوں میں پوری طرح نمایاں نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے، حق و صداقت کا عَلَم بلند رکھنے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں