
ہردیپ سنگھ پوری
مرکزی وزیر
پیٹرولیم اور قدرتی گیس
وزیرِاعظم نریندر مودی 10 جون کو ہماری تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک مسلسل منتخب رہنے والے وزیرِاعظم بن گئے۔ میں نے اس دوران مادرِوطن کی خدمت کے مختلف مراحل میں حصہ لیا ہے، اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اصل کامیابی صرف مدتِ اقتدار نہیں ہے۔ اصل اہم بات یہ ہے کہ اس منصب کو کس طرح استعمال کیا گیا اور اس کے ذریعے کیا کچھ حاصل کیا گیا ہے۔
مودی جی 10 جون 2026 کو اپنے عہدے پر مسلسل 4,399 دن مکمل کرلئے جو پنڈت جواہر لعل نہرو کے اُس عرصے سے ایک دن زیادہ ہے جو انہوں نے 1952 میں پہلی منتخب حکومت کے قیام سے لے کر 1964 میں اپنی وفات تک وزیرِاعظم کے طور پر گزارا۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر 1947 سے شمار کیا جائے تو پنڈت نہرو اب بھی سب سے طویل بلا تعطل مدتِ اقتدار رکھنے والے رہنما ہیں۔ جو ریکارڈ مودی جی نے توڑا ہے وہ جمہوریۂ ہند کی تاریخ میں کسی منتخب سربراہِ حکومت کی سب سے طویل مسلسل مدتِ اقتدار کا ہے۔ میں نے اپنی عملی زندگی اسی ریاستی نظام کے اندر گزاری ہے جو ان دونوں ادوار کے درمیان پھیلا ہوا ہے، اس لئے میرے نزدیک یہ سنگِ میل محض عددی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک معیارِ پیمائش فراہم کرتا ہے۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے کا کہنا تھا کہ کسی حکومت کا حقیقی معیار یہ ہے کہ اس کے ثمرات آخری صف میں کھڑے شخص تک پہنچتے ہیں، جسے “انتیودیا” کہا جاتا ہے۔ پنڈت نہرو کے بھارت سے مودی جی کے بھارت تک کا فاصلہ دراصل اسی سفر کا فاصلہ ہے جو آخری فرد نے طے کیا ہے۔
ایک منصفانہ بیان کی ابتدا اس حقیقت سے ہونی چاہیے کہ پنڈت نہرو کو کیسا ملک ورثے میں ملا۔ انہیں ایک ایسا تقسیم شدہ برصغیر ملا جو تاریخ کی سب سے بڑی جبری ہجرت کے زخموں سے چور تھا، ایک ایسی معیشت جو دو صدیوں کی نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ سے نڈھال تھی، ایک ایسی آبادی جس میں سے پانچ میں سے ایک سے بھی کم افراد پڑھنا لکھنا جانتے تھے، اور ایک ایسی اوسط عمرِ حیات جو تیس کی دہائی کے اوائل میں تھی۔ اس ورثے سے انہوں نے ایک آئینی جمہوریت کی بنیاد رکھی جو قائم رہی، جب کہ دنیا کے کئی نئے آزاد ممالک ایک کے بعد ایک فوجی جرنیلوں یا آمرانہ حکمرانوں کے ہاتھ لگتے چلے گئے۔ پلاننگ کمیشن نے سمت متعین کی، سرکاری شعبے نے معیشت کی قیادت سنبھالی، اور لائسنسوں پر مبنی ایک نظام نے یہ طے کیا کہ کون کیا پیدا کر سکتا ہے۔ یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے، جوہری اور خلائی پروگرام، اور اسٹیل ٹاؤنیہ سب آزاد ہندوستان کی ادارہ جاتی ریڑھ کی ہڈی اسی دور میں استوار ہوئی۔ میں 1974 میں فارن سروس میں شامل ہوا، اور جس ہندوستان کی میں نمائندگی کرتا تھا وہ ایک سنجیدہ ملک تھا، جس نے قلت کو ایسے نظم و ضبط کے ساتھ سنبھالنے کا انتخاب کیا تھا جس حد تک اس کا انتظامی ڈھانچہ اجازت دیتا تھا۔
اس نظام کی قدرو قیمت اس وقت مجھ پر واضح ہونے لگی جب میں اپنے کیریئر کے درمیانی دور میں تھا۔ ریاست نے وسائل مختص کرنے اور منصوبے بنانے کا ہنر تو حاصل کر لیا تھا، لیکن ان منصوبوں کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانا اس کے بس میں نہ رہا۔ دہلی میں اعلان کی جانے والی کسی اسکیم اور دیہات میں اس کے حقیقی ثمرات کے پہنچنے کے درمیان جو فاصلہ تھا، وہیں اکثر وسائل جذب ہو جاتے تھے۔ ایک سابق وزیرِاعظم کا یہ اعتراف کہ ہر ایک روپے میں سے محض پندرہ پیسے غریب تک پہنچتے ہیں، دراصل اسی نظامی خامی پر ایک واضح فردِ جرم تھا۔ حکومت منصوبہ بندی تو کر سکتی تھی، مگر عوام تک رسائی اور مؤثر ترسیل کی صلاحیت پیدا نہیں کر سکتی۔
مودی جی کو 2014 میں جو وراثت ملی، وہ بھی ایک دیانت دارانہ تجزیے کی مستحق ہے۔ انہوں نے ایک ایسی معیشت کی باگ ڈور سنبھالی جسے عالمی منڈیوں نے “پانچ کمزور” میں شمار کیا تھا۔ یہ معیشت سست روی کا شکار منصوبہ بندی، ماضی میں یاد رہ جانے والی دو ہندسوں کی مہنگائی، اور اس بدعنوانی کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی جس نے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو شدید طور پر مجروح کر دیا تھا۔ ان کا جواب ایک بالکل مختلف نظام تھا۔ منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ آیا، جو ریاستوں کو حکم دینے کے بجائے انہیں مشاورت کے لئے اکٹھا کرتا ہے۔ شناخت، بینک اکاؤنٹ اور موبائل فون کو ایک ہی پرت میں جوڑ دیا گیا، اور حکومت نے شہریوں کو براہِ راست ادائیگی کرنا شروع کی بجائے اس کے کہ وہ درمیانی افراد کے ذریعے رقم پہنچے، جو چار دہائیوں سے اس میں اپنا حصہ کاٹ رہے تھے۔ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر ایک سادہ اصطلاح ہے مگر یہ ایک فیصلہ کن آلہ ہے۔ اس نے حکمرانی کے معیار کو نیت سے بدل کر حصول کی حقیقت پر منتقل کر دیا۔
اس کے بعد حکومتی نظام کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر ازسرِنو تشکیل دیا گیا۔ بھارت نے ایسی عوامی ڈیجیٹل بنیادیں قائم کیں جن میں شناخت کا ایک ایسا نظام شامل ہے جو براعظم کی سطح پر کام کرتا ہے، اور ایک ایسا ادائیگیوں کا نیٹ ورک جو آج دنیا بھر میں زیرِ مطالعہ ہے۔ پچاس کروڑ سے زیادہ جن دھن اکاؤنٹس کے ذریعے اُن خاندانوں تک باقاعدہ بینکاری رسائی ممکن ہوئی جو پہلے اس نظام سے مکمل طور پر باہر تھے۔ اسی دہائی میں، نیتی آیوگ کے اندازوں کے مطابق، تقریباً پچیس کروڑ افراد کثیر جہتی غربت سے باہر نکلے، اور وہ معیشت جسے عالمی منڈیوں نے کمزور سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا، اب بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن چکی ہے۔وہ حکومت جو کبھی شہری اور اس کی ضرورت کے درمیان ایک رکاوٹ بن جاتی تھی، اب وہ راستہ اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے اور پھر ایک حد تک پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ یہی”بھارت”کے مفہوم کی اصل روح ہے۔
میں اس کا ذکر اس دفتر کے ایک گوشے سے کر سکتا ہوں جو میرے پاس ہے۔ 2014 میں پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کی شرح 1.53فیصد تھی۔ اس سال ہم بیس فیصد تک پہنچ چکے ہیںایک ایسا ہدف جو پہلے 2030 کے لئے مقرر تھا اور نصف دہائی پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جو سرمایہ پہلے خام تیل خریدنے کے لئے ملک سے باہر جاتا تھا، وہ اب کسان تک پہنچ رہا ہے، جو اب صرف اناج پیدا کرنے والا (انّ داتا) نہیں بلکہ توانائی فراہم کرنے والا (اُرجاداتا) بھی بن گیا ہے۔ اسی عرصے میں، اُجولا یوجنا کے ذریعے دس کروڑ سے زیادہ غریب گھرانوں تک پہلی مرتبہ کھانا پکانے والی گیس پہنچی، اور سبسڈی براہِ راست مستفیدین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی، بغیر کسی درمیانی شخص کی مداخلت کے۔ یہ “انتیودیا” کا عملی اظہار ہے، جو لیٹرز اور سلنڈروں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اب آخری فرد وہ نہیں جسے اسکیم نظر انداز کر دے؛ بلکہ وہی اس کے مرکز میں ہے، جس کے گرد یہ پوری اسکیم تشکیل دی گئی ہے۔
اسی حساب کتاب کی جھلک اینٹ اور فولاد میں بھی نظر آتی ہے۔ آواس یوجنا کے تحت تقریباً چار کروڑ پکے مکان اُن خاندانوں کو فراہم کیے گئے ہیں جن کے پاس کبھی اپنی چھت نہیں تھی۔سال 2014 میں جہاں میٹرو صرف پانچ شہروں تک محدود تھی، آج یہ بیس سے زائد شہروں میں چل رہی ہے۔ ہوائی اڈوں کی تعداد تقریباً دگنی ہو چکی ہے، اور اُڑان اسکیم نے ان قصبوں تک فضائی سفر ممکن بنا دیا ہے جہاں لوگ صرف آسمان سے گزرتے ہوئے جہاز دیکھتے تھے ۔ ریلوے نظام تقریباً مکمل طور پر برقی بنایا جا چکا ہے اور اب اس میں پہلی مقامی طور پر تیار کردہ نیم تیز رفتار ٹرینیں بھی چل رہی ہیں۔ یہ سب محض اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ہر اندراج کے پیچھے ایک ایسی قطار ہے جو اب نہیں لگتی، ایک ایسا سفر ہے جو پورا دن نہیں کھا جاتا، اور ایک ایسی چھت ہے جو اب ٹپکتی نہیں۔
مالیاتی ڈھانچہ بھی اسی تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھا۔ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، اپنی ابتدائی مشکلات کے باوجود، ملک کو ایک واحد قومی منڈی فراہم کرنے میں کامیاب ہواوہ ہدف جسے حاصل کرنے کی کوشش دو دہائیوں تک ہر حکومت کرتی رہی مگر ناکام رہی۔ اب مرکز اور ریاستیں وسائل کی تقسیم کے بجائے کاروبار کرنے کی آسانی اور خدمات کی فراہمی کے معیار میں مقابلہ کرتی ہیں، جو ماضی کے اس مقابلے سے کہیں زیادہ صحت مند صورتِ حال ہے جس میں توجہ محض الاٹمنٹس اور تقسیم پر مرکوز رہتی تھی۔
اسی خود اعتمادی نے بیرون ملک میں ہندوستان کو نئی شبیہ کو مثبت تبدیلی سے ہمکنار کیا ہے ، اور ملک کی نمائندگی کرنے کے اپنے برسوں کے تجربات کی بنیاد پر میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ۔ پنڈت نہرو کی کسی بھی فریق کے ساتھ ہم آہنگی نہ کرنے کی پالیسی ایک غریب اور نئی ریاست کا دانشمندانہ موقف تھا جو کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کی متحمل نہیں تھی۔ کثیر الائنمنٹ کا موجودہ نظریہ ایک ایسے ملک کا موقف ہے جو ہر طرف سے تعاون کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان نے اپنے گروپ آف ٹوئنٹی کی صدارت کو دارالحکومت تک محدود رکھنے کے بجائے یونین کی ہر ریاست تک پہنچایا، اور ہندوستان کو گلوبل ساؤتھ کی آواز کے طور پر تشکیل دینے نے ایک پرانی ترقیاتی کمزوری کو قیادت کے دعوے میں بدل دیا۔ گھر پر اپنی ڈیلیوری پر یقین رکھنے والی ریاست دنیا میں مختلف انداز میں بولتی ہے۔
اس پیمانے کا ریکارڈ لازماً تنقید اور جانچ پڑتال کو دعوت دیتا ہے، اور ہماری جمہوریت جیسی بحث طلب جمہوریت اس کا پورا اہتمام بھی کرتی ہے۔ تاہم اب وہ سوال جس کا سامنا اس منصب کو کرنا پڑتا ہے، واضح طور پر بدل چکا ہے، اور یہی اس طے شدہ فاصلے کی اصل پیمائش ہے۔ پنڈت نہرو کا انڈیا یہ سوال کرتا تھا کہ ریاست کیا فراہم کر سکتی ہے۔ مودی جی کا بھارت یہ سوال کرتا ہے کہ ریاست کیا فراہم کر سکتی ہے، اور ساتھ ہی اس کی باقاعدہ وصولی (رسید) بھی دکھانے پر اصرار کرتا ہے۔
اسی لئے 10 جون کو یاد رکھنا اہم ہے، اور اس میں دنوں کی گنتی سب سے کم اہم بات ہے۔ پنڈت نہرو نے ہندوستانی ریاست کی بنیاد رکھی، جبکہ مودی جی نے اس نظام کو اس طرح ازسرِنو ترتیب دیا کہ وہ براہِ راست اُس شہری تک پہنچ سکے جس کے نام پر یہ ریاست قائم کی گئی تھی۔ میں نے ملک کی خدمت اس کی دونوں صورتوں میں کی ہے، اور میں جانتا ہوں کہ قطار کے آخری فرد کے لئے اصل یادداشت کس تبدیلی کی ہوگی۔ جو وعدہ پہلے کہیں اوپر کے مراحل میں محض اعتماد پر قبول کرنا پڑتا تھا، وہ اب براہِ راست، قابلِ سراغ صورت میں، اسی کے اپنے ہاتھوں میں پہنچتا ہے۔ یہی وہ “وِکست بھارت” ہے جس کی تکمیل ہمیں 2047 تک کرنی ہے، اور اس کا آغازجیسا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے نے کہا تھااسی سے ہوتا ہے۔


