قیصر محمود عراقی
اچھی کتاب انسان کی بہترین دوست ہے ، یہ ایک آز مو دہ قول ہے جس کی سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی انسان کو کتابوں سے سابقہ پڑتا ہے اور یہی کتابیں ہمیں زندگی کے نشیب و فراز ، طرز ، بودوباش ، رہن سہن کے آداب سکھاتی ہیں اور بصنہ یا بہ مصنفین کے خیا لات اور حکیمانہ باتیں ہم تک پہنچاتی ہیں ۔ کتابیں تادم حیات زندگی کی راہوں میں ہماری بہترین رفیق ، معلم اور راہنما ثابت ہوتی ہیں ، ہمیں منزل مصقو د تک پہنچنے میں مدد کرتی ہیں ۔ انسان جب کبھی تنہا ہوتا ہے تو اپنے وقت میں اچھی کتابیں ہی انسان کا دل بہلا تی ہیں ،یہ نہ صرف بہترین دوست اور ساتھی ہوتی ہیں بلکہ معلومات کا ایک خزانہ ہوتی ہیں ، جو امیر اور غریب دونوں کو یکساں میسر ہو سکتی ہیں ۔ اگر کتاب خریدنے کے پیسے نہ بھی ہوں تو یہ آپ کو اپنے کسی دوست سے ادھار مل سکتی ہے یا کسی بھی لا ئبریری سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
کتابیں ہماری تنہائی کی بہترین ساتھی ہیں کیونکہ ان میں بزرگوں کے تجربات ،مثابدات اور مسائل حیات پر ان کے افکار کا جو ذخیرہ ملتا ہے ان سے مستفید ہو کر ہم بہترین زندگی گزار سکتے ہیں ۔ آج کل تنہائی ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکی ہے کیو نکہ ہم لوگ اب خاندان کے ساتھ مل کر کم ہی رہتے ہیں ، ایسے میں کتاب ایک ماہر نفسیات کا کردار ادا کرتی ہے جو تنہائی کا بہترین دوست بھی ہے۔ مطالعہ کتب سے نہ صرف ہماری ذہنی نشو ونما ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور تناؤ کے عالم میں یہ ہماری دلچسپی کا ذریعہ بنتی ہے۔ بعض اوقات یہ ڈیپریثن کو دور کرنے کے مفید طریقے بھی بتاتی ہے ۔ کتب بینی ہماری ناصح ،شفیق راہنما اور بہترین استاد ہے ۔ یہ ہمیں دنیا کے نشیب و فراز سے واقف کراتی ہے ، حظرات سے آگاہ کرتی ہے ، زندگی کی دشوار گزار راہوں میں ہماری راہنمائی کرتی ہے اور منزل کی جانب راستے کو آسان بناتی ہے ۔ نفسیاتی طور پہ انسان کو اپنے مسائل کا حل تلاش کر نے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔ کتاب وہ خزانہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان بزرگوں سے ملتے ہیں جوہمارے لئے علم کی لاتعداد دولت محفوظ کرگئے ،وہ بزرگ جنھوں نے دنیا کو دیکھا اور آزما یا ہے ، دنیا کی تلخیوں کے زہر آلود گھونٹ پئے ہیں ، جنھوں نے ملک ملک کی خاک چھانی ،گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ، قوانین قدرت کا مطالعہ کیا اور بر سوں کے غور و خوض کے بعد اپنی تجربات کا نچوڑ پیش کیا ۔ کتاب میںجو علم کا خزانہ موجود ہے وہ لازوال ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا ۔
کتاب کسی سے بے وقائی نہیں کرتی ، ایک اچھی کتاب ایک بہترین غذا ہے، روح کو جو سکون ایک اچھی کتاب پڑھ کے آتا ہے وہ کسی فلم یا ڈرامے کو دیکھ کر نہیں آتا ، یہ طلب گاروں اور شید ائیوں کی تشنگی دور کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہے ، زندگی کے شب وروز میں بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب و ملت ہر انسان کے ساتھ رہتی ہے ۔ دنیا کی دولت چرائی جا سکتی ہے مگر کتب بینی سے حاصل کیا ہوا علم کوئی نہیںچرا سکتا، وہ آپ کے ذہن کے اندر محفوظ ہو جاتا ہے جسے آپ بھی وقت ضرورت استعمال میں لاسکتے ہیں ۔ کتب بینی سے انسان کے اخلاق و کردار پر گہرا اثر پڑتا ہے، انسان کی گفتگو میں یہ کتاب اعتماد پیدا کرتی ہے کیونکہ اس کے پاس مثالیں اور دلائل موجود ہوتے ہیں ، یہ کسی بھی موضوع پہ لب کشائی کر سکتا ہے ۔ آج ہندوستان میں کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی ، کم قوت خرید ، حصول معلومات صارفین کے لئے موبائل انٹر نیٹ ، الیکڑانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ، لائبریری کی دسترس سے دوری اور بے شمارشرائط جن کی وجہ سے سب کو آسانی سے کتاب ایشو نہیں کی جاتی ۔ سب سے بڑی وجہہ موبائل فون انٹرنیٹ ، گوگل سرچ انجن ،سوشل میڈیا اور الیکڑ انک میڈیا کا بڑھنتا ہوا استعمال ، اچھی کتابوں کا کم ہوتا رجحان ، حکومتی عدم پرستی اور لائبریری میں مناسب سہولیات کی عدم دستیابی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا شامل ہے ۔
قارئین حضرات! آج سے چند سال پہلے لوگ کتاب پڑھنے کے لئے ایک دن مقرر کرلیتے تھے اور اس دن سب مل بیٹھ جاتے تھے ، کوئی ایک شخص کتاب پڑھتا اور باقی سب سنتے تھے۔ اس طرح طالب علم جو کہ اسکولوں میں پڑھتے تھے وہ بھی ایک دن اور وقت مقرر کرلیتے تھے اور اس دن اکھٹے مل کر پڑھتے ۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ رواج بھی ماندپڑتا گیا ، گھر کے بڑے جب فارغ ہوتے اخبار اور کتابوں میں ہی اپنا وقت گزار تے تھے ، جن سے بچوں کو ذہنی اور دنیاوی معلومات بھی ملتی اور وہ منفی کاموں سے بھی دور رہتے تھے ، وہ برے دوستوں کی محفل اور بری عادات سے بھی بچے رہتے تھے ۔ مگر کچھ عرصہ پہلے تبدیلی کی ایسی لہرآئی کہ جس نے سب کچھ بدل کے رکھدیا ، لوگ کتاب سے دور ہوتے گئے ۔ جس کی سب سے بڑی وجہ سوشل اور الیکڑانک میڈیا ہے ، نت نئے جدید طریقے معلومات حاصل کرنے کے لئے سامنے آتے گئے ۔ جن میں سب سے پہلے ریڈیو منظر عام پہ آیا، لوگ بڑی جلدی اپنی پسند بدل لیتے ہیں۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ تبدیلی چاہتا ہے ۔ یہی وجہہ ہے کہ جب ٹی وی آیا تو لوگ ریڈیو سے بھی دور ہوتے گئے او اب سوثل میڈیا کا دور چل رہا ہے ، لوگ ٹی وی بھی کم دیکھتے ہیں مگر کتاب کی اہمیت اپنی جگہ ہے ، آج بھی کتاب کسی موسم ، نیٹ یا بجلی کی مرہون منت نہیں ہے ، سفر میں آپ کا بہترین ساتھی اور ہم سفر ہے جس کو بجلی یا نیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اصل میں اچھی کتاب اور اچھے لوگ جلدی کبھی نہیں آتے اس کے لئے ان کو پرھنا ہی کافی نہیں سمجھنا بھی ضروری ہے، جس کے لئے آج ہمارے پاس وقت نہیں ہے مگر ہمیں وقت نکالنا ہی پڑے گا کیونکہ کتاب کھول کے پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے ، ہاں کتاب پڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ کتاب اچھی بھی ہو تبھی مطالعہ کی پیاس بجھتی ہے ۔ کتاب کس نے لکھی ہے اور کیوں لکھی ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمارے کردار کی تعمیر میں مدد ملتی ہے ۔ الغرض کتاب انسان کی بہترین دوست ہے تو آئیں ہم آج سے عہد کریں اور اچھی سے اچھی کتابوں سے دوستی کریں اور اس کتاب کی چناؤ بھی سوچ سمجھ کر کریں ۔ انشاء اللہ اچھی کتابیں ہماری راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔


