
اجے سنگھ
مضمون نگار ہندوستان کے سابق صدر کے پریس سکریٹری رہ چکے ہیں اور ’’دی آرکیٹیکٹ آف دی نیو بی جے پی: ہاؤ نریندر مودی ٹرانسفارمڈ دی پارٹی‘‘ کے مصنف ہیں ۔
تبدیلی کے کسی عہد کو محض سنگِ میلوں یا گزرے ہوئے وقت کی پیمائش سے نہیں جانچا جا سکتا۔ یہ تو صرف اعداد و شمار ہوتے ہیں۔
جب نریندر مودی ملک کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو یہ محض ایک سنگِ میل عبور کرنے یا طویل مدتِ اقتدار کا ریکارڈ قائم کرنے کا معاملہ نہیں رہتا۔ زمانے کی روح کو صرف اعداد و شمار میں قید نہیں کیا جا سکتا اور اسی تناظر میں مودی بھارت کی تخلیقی قوت، صلاحیت اور مزاج کی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔
ان کی عوامی زندگی کا سفر معمولی سے غیر معمولی تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا سیاسی سفر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک عام کارکن کے طور پر شروع ہوا، جس نے سنگھ پریوار سے فکری اور نظریاتی تحریک حاصل کی۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں وہ ایک ایسے نظریے کے علم بردار تھے جو ان کی آبائی ریاست گجرات میں اس وقت زیادہ مقبول یا رائج نہیں تھا۔
اپنے دور کے روایتی سیاست دانوں کے برعکس، ان کے پاس نہ کوئی سیاسی خاندانی وراثت تھی اور نہ ہی اشرافی پس منظر جس پر وہ فخر کرسکتے۔ اس زمانے میں ہیرو، آکسفورڈ، کولمبیا اور ہارورڈ جیسے اداروں سے تعلیم یافتہ افراد کے مخصوص حلقوں کو دنیا بھر میں غیر معمولی وقعت حاصل تھی۔ سر ونسٹن چرچل اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ’’ہیرو بوائز‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ ایک ہی طرزِ فکر اور زبان کے حامل تھے اور عالمی سطح پر اشرافیہ کے اس مشترکہ حلقے کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ مودی ان تمام روایتی سانچوں اور تعریفوں سے یکسر مختلف شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
ملک بھر کے عام لوگوں سے براہِ راست رابطے اور زمینی سطح کے تجربات نے انہیں ہندوستانی معاشرے کی نبض کو سمجھنے کی غیر معمولی بصیرت عطا کی۔ وہ عوام کی پریشانیوں، خدشات اور امیدوں سے بخوبی واقف ہوئے۔ انہوں نے سیاست کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور اسے اپنے نظریاتی نصب العین کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کے مشن کو کامیاب بنانے میں دو نمایاں اوصاف یعنی ذاتی زندگی میں سادگی اور عوامی زندگی میں حقیقت پسندی، میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ بظاہر متضاد حالات اور نظریات میں بھی غیر معمولی توازن قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے ترقی کا ایسا ماڈل پیش کیا جو سبسڈی پر منحصر نہیں تھا۔ لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد، کورونا کی وبا کے دوران انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے غذائی تحفظ کے پروگرام کا آغاز کیا، تاکہ ملک میں کوئی شخص بھوک کا شکار نہ ہو۔ اسی طرح، ان کی سماجی رہائش (ہاؤسنگ) اسکیم اور آیوشمان بھارت جیسی صحت بیمہ اسکیمیں معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو تحفظ فراہم کرتی ہیں اور عوام کی بنیادی ضروریات یعنی روٹی، کپڑا، مکان اور صحت کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ وہی مسائل تھے جنھیں 1960 کی دہائی سے سوشلسٹ رہنما سیاسی نعروں کے طور پر پیش کرتے رہے تھے۔ لیکن آج کے ہندوستان میں، ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی مختلف سرکاری کوششوں کے باعث ایسے نعرے بڑی حد تک اپنی سابقہ سیاسی معنویت کھوچکے ہیں۔
درحقیقت، نریندر مودی نے ملک کی سیاست کو ایک نہایت گہرے اور بنیادی انداز میں ازسرِنو تشکیل دیا ہے۔ وہ مسائل جو کئی دہائیوں تک ملک کی سیاست اور عوامی زندگی پر چھائے رہے، آج تاریخ کی کتابوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اجتماعی قومی شعور میں ایودھیا اب مندر-مسجد تنازعے کی علامت نہیں رہی، بلکہ ایک عظیم الشان مندر کی صورت میں ذہنوں میں ابھرتی ہے۔ ملک بھر میں قدیم ہندو مندروں کی بحالی اور ان کی سابقہ عظمت کی واپسی ثقافتی یکجہتی اور تہذیبی اعتماد کا ایک مضبوط پیغام دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خواب کو سب سے پہلے مہاتما گاندھی نے دیکھا تھا، جب وہ جنوبی افریقہ سے واپسی کے بعد ملک کے مختلف علاقوں کے دورے کر رہے تھے۔ تاہم کانگریس میں ان کے جانشین اس خواب کو عملی جامہ نہ پہنا سکے، جبکہ مودی نے اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔
جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ملک کی آزادی کے بعد سے ایک پیچیدہ اور دیرینہ مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ سیاسی تذبذب اور مبہم رویّے نے مسلم اکثریتی وادی میں علیحدگی پسندی اور عسکریت پسندی کو تقویت دی۔ 2014 سے پہلے جموں و کشمیر اسمبلی میں متعدد ایسی قراردادیں منظور کی گئیں جن میں ریاست کو 1953 سے پہلے والی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو عملاً ہندوستانی آئین کے دائرۂ کار سے باہر سمجھی جاتی تھی۔ ایک فیصلہ کن اقدام کے ذریعے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا اور یوں دفعہ 370 ماضی کی ایک غیر مؤثر یادگار بن کر رہ گئی۔ علیحدگی پسندی کا سایہ اب دریائے جہلم کی تہہ میں جمی ہوئی مٹی کی مانند دفن ہوچکا ہے۔ خطے کے عوام میں ملک کے باقی حصوں کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط انضمام کی خواہش پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ کم و بیش یہی صورت حال شمال مشرقی ریاستوں کی بھی ہے، جو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ شورش، عسکریت پسندی اور تشدد کے مسائل سے دوچار تھیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی نے غیر شعوری طور پر ریاضی کے ایک بنیادی اصول یعنی جس ذہنیت نے کسی مسئلے کو جنم دیا ہو، اسی ذہنیت کے ساتھ اسے حل نہیں کیا جا سکتا، کو اپنا لیا ہے۔ انہوں نے ملک کی سیاسی سوچ اور طرزِ عمل کو یکسر تبدیل کر دیا اور اسے ایک ایسے راستے پر گامزن کر دیا جس سے واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ عوامی زندگی اور سیاست میں اس نوعیت کی بنیادی تبدیلی فطری طور پر شدید ردِّعمل کو جنم دیتی ہے۔ اسی وجہ سے مودی کو اکثر تعریف و تحسین سے زیادہ تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم وہ اپنے عزم، پالیسیوں اور وعدوں پر ثابت قدم رہتے ہیں اور کسی مخالفت سے مرعوب نظر نہیں آتے۔
اقتدار و حکمرانی کے 24 برسوں پر محیط اپنے دور میں(پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ اور بعد ازاں ہندوستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے )مودی کو قدرتی اور سیاسی، دونوں نوعیت کے بے شمار غیر معمولی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے 13 سالہ دورِ حکومت کے دوران ایک دہائی تک (2014-2004) مرکز میں برسر اقتدار یو پی اے حکومت کا رویہ ریاست کے ساتھ خاصا مخاصمانہ رہا اور گجرات کو گویا ایک حریف کی نظر سے دیکھا گیا۔ اس عرصے میں ان کے خلاف مبینہ طور پر متعدد من گھڑت فوجداری مقدمات قائم کرنے اور انہیں قانونی پیچیدگیوں میں الجھانے کی منظم کوششیں بھی کی گئیں۔
اسی طرح وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے موجودہ دورِ اقتدار کو بھی انسانی تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک، یعنی کورونا کی وبا کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی جنگوں نے عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے، جن کے نتیجے میں ہندوستان کو بھی متعدد چیلنجز درپیش ہوئے۔ ان حالات میں نہایت محتاط، متوازن اور مؤثر سفارتی حکمت عملی کی ضرورت تھی۔ دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے پاکستان کو باز رکھنے کے مقصد سے سرجیکل اسٹرائیکس، بالاکوٹ فضائی کارروائی اور آپریشن سندور جیسے سخت اقدامات کیے گئے، لیکن اس تمام عرصے میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے مراحل پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا گیا اور صورت حال کو کبھی بھی ایک ہمہ گیر جنگ کی شکل اختیار کرنے نہیں دی گئی۔
ان کے سیاسی مخالفین یقیناً ان سے منسوب متعدد خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کریں گے اور ایک متحرک اور مضبوط جمہوریت جیسے ہندوستان میں مودی جیسی بااثر شخصیت کا مختلف زاویوں سے تجزیہ اور جائزہ لیا جانا فطری امر ہے۔ ہندوستان کے منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کا طویل ترین دورِ اقتدار کئی اہم واقعات، کامیابیوں، چیلنجوں اور تنازعات سے عبارت رہا ہے اور اس عرصے میں ان کی کارکردگی مسلسل عوامی نگاہوں، سیاسی مباحث اور تنقیدی جائزوں کے دائرے میں رہی ہے۔
یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ تاریخ جذبات اور تعصبات سے بالاتر ہوکر فیصلے کرتی ہے۔ مہاتما گاندھی کو بھی اپنے زمانے میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بے پناہ ستائش بھی حاصل ہوئی۔ لیکن ان کے بارے میں سب سے مؤثر تاریخی تبصرہ عظیم سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن نے کیا تھا، جب انہوں نے لکھا کہ ’’آنے والی نسلیں شاید ہی یقین کر سکیں گی کہ ایسا کوئی انسان، گوشت پوست کے جسم کے ساتھ، کبھی اس زمین پر چلتا پھرتا تھا۔‘‘ تاریخ کے فیصلوں کو اس قدر درست انداز میں پیش گوئی کرنے کے لیے آئن اسٹائن جیسی بصیرت درکار ہوتی ہے۔ تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنے والی نسلوں کی نظر میں نریندر مودی کا تاریخی جائزہ بھی غیر معمولی اہمیت اور دور رس اثرات کا حامل ہوگا۔
ززز


