
امین اللہ
رنگوں کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے ۔ کائنات کا حسن مختلف رنگوں سے منسوب ہے۔ نیل گوں آسمان کی خوبصورتی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے ۔ بارش کے دنوں جب غروب آفتاب کے وقت قوس قزح کے رنگ بکھرتے ہیں تو دلکش نظر آتے ہیں ۔ ہرکس و ناکس اسے دیکھنے پر مائل ہو جاتا ہے۔ یوں تو سرخ، سیاہ ، نیلا اور پیلا چار بنیادی رنگ ہیں ۔ باقی تمام رنگ انہیں رنگوں کے امتزاج سے ہی بنتا ہے ۔ ہر آدمی رنگوں کے معاملے میں الگ الگ پسند رکھتاہے ۔ مرد و عورت کے پسند الگ الگ ہوتے ہیں ۔ عورتیں زیادہ تر شوخ رنگ پسند کرتی ہیں ۔ مرد زیادہ تر سادگی پسند ہوتے ہیں ۔ رنگوں کا تعلق لوگوں کے گھروں ، لباس اور گھروں کے باغیچے میں لگائے گئے پھولوں کے اقسام سے ہوتا ہے۔ پہلے زمانے کے با بصیرت بزرگ حضرات لوگوں کے لباس کے رنگوں کے امتزاج سے اس کی شخصیت اور مزاج کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے ۔ آج بھی ماہرین نفسیات لباس کے رنگوں سے شخصیت اور مزاج کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔ یوں تو دور جدید میں رنگ سازی کی ٹکنالوجی کافی ترقی کر چکی ہے اور رنگ ساز کارکن بڑی بڑی گارمنٹس فیکٹریوں میں بڑی تنخواہوں پر معمور ہیں ۔ کپڑے کی صنعت مختلف ڈیزائن اور مرکب رنگوں کے کپڑوں سے خریداروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں ۔ اب مختلف رنگوں کے امتزاج اور اثرات کا جائزہ لیتے ہیں ۔
سرخ ( لال) رنگ۔ یہ روشنی ک تین بنیادی رنگوں میں سے ایک ہے۔ اس رنگ کو تازگی ، صحت ، توانائی کے علاوہ جنسیت اور پُرکشش شخصیت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔
سرخ شاید سب سے زیادہ متاثر کرنے والا رنگ ہے جو دفتر میں آپ کے کام سے لے کر ذاتی تعلقات تک کو متاثر کرتا ہے۔
ملکۂ برطانیہ کے تاج میں جڑے لال رنگ سے لے کر ایمسٹرڈم کے ریڈ لائٹ ایریا تک آج سرخ کے مختلف شیڈز کو اقتدار، جارحیت اور جنس کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
’رنگوں کی نفسیات‘ کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ سرخ رنگ کا ہمارے موڈ، خیالات اور کام پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
سرخ رنگ زیب تن کرنے سے آپ کی فیزیا لوجی یا حرکات و سکنات اور ہارمون کے توازن پر تو اثر ہوتا ہی ہے کھیل کے میدان میں کارکردگی پر بھی اس کا اثر دیکھا گیا ہے۔ (BBC)سے اخذ کیا گیا مواد ۔
دنیا بھر کی تمام عورتیں بلا امتیاز رنگ و نسل اپنے ہونٹوں پر لال لپسٹک کا استعمال کرتی ہیں اس کے وجوہات کو بھی ماہرین نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے ۔ خود جاذب نظر بنانے اور
نمایاں کرنے اور دلکشی میں اضافے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ یہ رنگ دلیری، نوجوانی اور توجہ حاصل کرنے کی علامت مانا جاتا ہے، جس سے چہرے کی خوبصورتی کھل کر سامنے آتی ہے۔خواتین کی جانب سے اس کے انتخاب کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:اعتماد اور دلیری: لال رنگ خود اعتمادی اور ہمت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ لگانے والی خاتون کو ایک الگ اور نمایاں شخصیت عطا کرتا ہے۔پرکشش تاثر: سائنسی اور نفسیاتی مطالعات کے مطابق، لال رنگ قدرتی طور پر توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسے جوانی اور تندرستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔چہرے کی تازگی: یہ رنگ چہرے کی رنگت کو نکھارتا ہے اور ہونٹوں کو نمایاں کر کے چہرے کی ساخت کو تروتازہ اور پُرجوش بناتا ہے۔تاریخی اور ثقافتی اہمیت: قدیم زمانوں سے ہی لال رنگ طاقت، وقار اور رعب کا نشان رہا ہے۔ آج بھی میک اپ میں اسے کلاسک (Classic) اور لازوال حیثیت حاصل ہے۔موڈ اور انداز: لال لپسٹک لگانے سے اکثر خواتین میں خوشی اور توانائی کا احساس پیدا ہوتا ہے، جس سے ان کا دن بھر کا مزاج بہتر رہتا ہے۔ فراعنہ مصر کی مشہور زمانہ ملکہ کلو پیٹرا بھی سرخ رنگ کے تیار کردہ کیمائی پاؤڈر سے اپنے ہونٹوں کو رنگا کرتی تھی ۔
مشرقی ممالک کے علاؤہ دنیا کے بیشتر ممالک میں دلہنوں کے جوڑے لال سرخ رنگ کے ہی بنائے جاتے ہیں ۔ یہ رنگ خون کے سرخی کو ظاہر کرتا ہے ۔ لال بیگ cockroach کے علاؤہ تمام جانداروں کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے
شہدا کا سرخ لہو قابلِ احترام ہے ۔ بالا کوٹ میں جب سید احمد کے مجاہدین اور سکھوں کے درمیان جنگ ہو رہی تھی تو اک گاؤں کے تمام مسلمان شہید ہو گئے ان شہداء میں اک شہید کی نو بیاہتا اک دلہن بھی تھی اس کو اس کے شہید شوہر کی خون آلود سرخ چادر دی گئی اس دن سے آج تک اس گاؤں کی دلہنوں کو سرخ چادر دی جاتی ہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ کو بھی شہداء کا سرخ تازہ تازہ لہو پسند ہے ۔
دیکھیئے رنگیں قبائ میں ہے کتنا بانکپن ۔
جب کبھی اپنے لہو میں تر بتر ہو جائیے ۔
دشمنوں سے مانگیئے کیوں عمر بھر جینے کی بھیک ۔
سر کٹا کر اس سے بہتر ہے امر ہو جائیے ۔ ( کیانی)
نیلا رنگ اور اس کے اثرات ۔
آسمان سات رنگوں پر مشتمل ہے مگر جو آسمان ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے اس کا نیلا رنگ ہی راحت اور سکون کا باعث ہے ۔
مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ رنگ سکون، اعتماد، اور ذہنی وضاحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔نیلے رنگ کے نمایاں اثرات درج ذیل ہیں:ذہنی سکون اور تناؤ میں کمی: یہ اعصاب کو پرسکون کرتا ہے، غصے پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔بہتر نیند: گہرا نیلا رنگ اندرا (insomnia) کی شکایت میں مفید ہے اور پرسکون نیند لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اعتماد اور پیشہ ورانہ صلاحیت: یہ رنگ دیانت داری، ذہانت اور اختیار کا اظہار کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے کارپوریٹ برانڈز اور بینک اسے استعمال کرتے ہیں۔توجہ کا مرکوز ہونا: ہلکا نیلا رنگ دماغی خلیوں کو متحرک کرتا ہے، جس سے فیصلہ سازی کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور پڑھنے یا کام کرنے میں توجہ مرکوز رہتی ہے۔جسمانی اثرات: اس کا تعلق گلے اور مواصلات (Communication) سے بھی ہے، اور یہ دل کی دھڑکن کو معمول پر لانے میں معاون ہے۔
تم کہہ رہے ہو نیلے خلا میں رنگو کا جال پھیلا ہے۔
میں پوچھتا ہوں رنگوں کے پار پانی کا رنگ کیسا ہے ۔
رئیس فراز
سیاہ رنگ میں بھی بڑی جاذبیت ہے اس سے مردانہ وجاہت اور جنگجویانہ طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ غمو کے اظہار کے لئے بھی زیب تن کیا جاتا ہے یا یو کہہ لیں کہ یہ ماتمی لباس ہے ۔ سیاہ رنگ غم وغصہ کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اکثر سیاسی پارٹیاں کسی مسلے پر احتجاج کے لئے یوم سیاہ مناتی ہیں اور سیاہ جھنڈے آویزاں کیئے جاتے ہیں ۔ شیعہ حضرات و خواتین محرم کے مہینے میں غم کے اظہار کے لئے سیاہ لباس ہی پہنتے ہیں ۔ آج کل سیاہ لباس پہننا فیشن میں شامل ہو چکا ہے ۔
سیاہ رنگ شخصیت اظہار
کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ اداسی، تنہائی اور خوف سے بھی جڑا ہوتا ہے۔اس کے نمایاں اثرات درج ذیل ہیں:مثبت اثرات:وقار اور سنجیدگی: یہ رنگ وقار، طاقت اور پیشہ ورانہ مہارت کا اظہار کرتا ہے۔تحفظ کا احساس: سیاہ رنگ اکثر خود کو بیرونی دنیا سے بچانے اور چھپانے (پردہ دار شخصیت) کے لئے استعمال ہوتا ہے۔خوبصورتی اور نفاست: فیشن اور ڈیزائن میں یہ نفاست اور سادگی کی اعلیٰ ترین علامت مانا جاتا ہےمنفی اثرات:اداسی اور مایوسی: ماہرین نفسیات کے مطابق، اس رنگ کا زیادہ استعمال یا ماحول میں اس کی کثرت انسان کو اداس اور غمگین بنا سکتی ہےتوانائی کی کمی: یہ رنگ بعض اوقات مزاج میں سستی لاتا ہے اور اعصاب پر دباؤ ڈال کر تھکن کا احساس بڑھا سکتا ہےجارحانہ پن: بعض افراد میں یہ رنگ تنہائی کے احساس کو بڑھا کر غصے یا چڑچڑاپن کا باعث بھی بن سکتا ہےموسمی و ماحولیاتی اثرات:حرارت کا جذب ہونا: سیاہ رنگ روشنی اور حرارت کو سب سے زیادہ جذب کرتا ہے، اس لئے گرمیوں میں یہ جسم کا درجہ حرارت بڑھا سکتا ہے۔خوف اور تاریکی: روایتی طور پر یہ رات، خوف اور پراسرار ماحول کی نمائندگی کرتا ہے العربیہ سے ماخوذ ۔
رنگوں میں پیلا رنگ بھی اپنی انفرادیت رکھتا ہے ۔ اس رنگ کا لباس اکثر خواتین حتیٰ کہ نوجوان بھی زیب تن کرتے ہیں جب کسی گھر میں مایو یا مہدی کی تقریب ہوتی ہے ۔
بسنت کا تہوار تو پیلے رنگ کے لباس اور پگڑیوں سے اپنی پہچان رکھتا ہے ۔ یہ تہوار اپریل کے مہینے میں منایا جاتا ہے جب کھیتوں میں سرسو کے پیلے پیلے پھول کھلتے ہیں ۔
پیلی پیلی سرسوں پھولی ۔
پیلی پیلی اڑی پتنگ ۔
پیلی پیلی اڑی چنریا پیلی پگڑی کے سنگ ۔
اس رنگ کو پسند کرنے والے مرد و خواتین کی اکثریت مزاجاً لا ابالی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ۔ اس رنگ کا لباس زیادہ تر خواتین ہی پہنتی ہیں ۔ صوفی ازم سے تعلق رکھنے والوں کا اک طبقہ اس رنگ کا لباس پہنتا ہے ۔ ہندو سادھوؤں کا گروہ پیلے اور گیروا رنگ کی چادروں والا لباس پہننا ہے۔
ماہرین نفسیات کی آراء کی روشنی میں اس رنگ کے بارے میں درج ذیل باتیں قابلِ ذکر ہیں ۔ پیلا رنگ
توانائی کی علامت ہے۔ یہ انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے اور مختلف حوالوں سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔1. نفسیاتی اثرات اور معنی:یہ رنگ خوشی، ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور امید کی نمائندگی کرتا ہے۔ روشن پیلا رنگ توجہ جلدی حاصل کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹریفک سگنلز اور اشتہارات میں اس کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، کچھ سیاق و سباق میں یہ خطرے یا احتیاط کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔2. صحت اور جسمانی علامات:صحت کے حوالے سے پیلے رنگ کا تعلق کئی عوامل سے ہے:پیشاب کی رنگت: پیشاب کا ہلکا پیلا ہونا نارمل ہے، لیکن اگر یہ گہرا پیلا ہو تو یہ پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کی نشاندہی کرتا ہے۔یرقان (Jaundice): اگر آنکھیں یا جلد پیلی ہونے لگیں، تو یہ جگر کے مسائل کی علامت ہو سکتی ہے۔3. فطرت اور ثقافت:قدرت میں پیلے رنگ کا تعلق سورج، پھولوں (جیسے سورج مکھی اور گیندے) اور موسمِ خزاں کے پتوں سے ہے۔ مشرقی اور مغربی ثقافتوں میں اسے زندگی اور روشنی کے استعارے کے طور پر بہت پسند کیا جاتا ہے۔ دانتوں کا پیلا پن بیماری بھی ہے اور محفل میں باعث شرمندگی بھی ہے ۔ جب خزاں کا موسم آتا ہے تو پتے زرد ہو کر جھڑنے لگتے ہیں ۔ خزاں میں پتے جب زرد ہوتے ہیں تو موسم اداس ہوتا ہے ۔
یہ وہ رنگوں کے امتزاج اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کا مختصراً اک کالم قارئین کے لئے ۔


