بھارت کی معیشت کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لئے گزشتہ ایک دہائی میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی سمت میں وسیع اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے روایتی دفتری پیچیدگیوں، غیر ضروری ضابطوں اور طویل منظوریوں کے نظام کو بتدریج کم کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی ہے جہاں کاروبار شروع کرنا، چلانا اور وسعت دینا نسبتاً آسان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے عالمی سطح پر "Ease of Doing Business” کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری درج کی ہے۔
ڈیجیٹل گورننس ان اصلاحات کا بنیادی ستون بن کر ابھری ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا، اسپائس پلس، ایم سی اے 21، ادیَم رجسٹریشن اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز نے کاروبار کے آغاز کو زیادہ تیز، شفاف اور کاغذی کارروائی سے تقریباً پاک بنا دیا ہے۔ اسی طرح زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، سنگل ونڈو کلیئرنس اور آن لائن منظوریوں نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لئے متعدد رکاوٹیں کم کی ہیں۔
مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے جی ای ایم، او این ڈی سی، پی ایم گتی شکتی اور لاجسٹکس اصلاحات نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ قرضوں تک آسان رسائی، مدرا یوجنا، کریڈٹ گارنٹی اسکیموں اور ڈیجیٹل کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈلز نے کاروباری سرگرمیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ اسی طرح جی ایس ٹی، فیس لیس اسیسمنٹ اور ای فائلنگ جیسے اقدامات نے ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور کاروبار دوست بنایا ہے۔
تاہم کامیابی کا اصل پیمانہ صرف عالمی درجہ بندیوں میں بہتری نہیں بلکہ ان اصلاحات کے زمینی اثرات ہیں۔ اگرچہ ضابطوں میں نرمی اور ڈیجیٹل نظام نے کاروبار کے لئے نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، لیکن چھوٹے کاروباروں، دیہی صنعتوں اور دور دراز علاقوں میں ان اصلاحات کے مکمل فوائد پہنچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت نے کاروباری ماحول کو جدید اور سہل بنانے کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اصلاحات کا یہ سلسلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہ رہے بلکہ ملک کے ہر کاروباری فرد، اسٹارٹ اپ اور چھوٹے صنعت کار تک اس کے ثمرات یکساں طور پر پہنچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے وسیع مواقع کی ضمانت بن سکتا ہے۔
آسان کاروبار، مضبوط معیشت
آسان کاروبار، مضبوط معیشت
بھارت کی معیشت کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لئے گزشتہ ایک دہائی میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی سمت میں وسیع اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے روایتی دفتری پیچیدگیوں، غیر ضروری ضابطوں اور طویل منظوریوں کے نظام کو بتدریج کم کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول تشکیل دینے کی کوشش کی ہے جہاں کاروبار شروع کرنا، چلانا اور وسعت دینا نسبتاً آسان ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے عالمی سطح پر "Ease of Doing Business” کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری درج کی ہے۔
ڈیجیٹل گورننس ان اصلاحات کا بنیادی ستون بن کر ابھری ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا، اسپائس پلس، ایم سی اے 21، ادیَم رجسٹریشن اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز نے کاروبار کے آغاز کو زیادہ تیز، شفاف اور کاغذی کارروائی سے تقریباً پاک بنا دیا ہے۔ اسی طرح زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، سنگل ونڈو کلیئرنس اور آن لائن منظوریوں نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لئے متعدد رکاوٹیں کم کی ہیں۔
مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے جی ای ایم، او این ڈی سی، پی ایم گتی شکتی اور لاجسٹکس اصلاحات نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ قرضوں تک آسان رسائی، مدرا یوجنا، کریڈٹ گارنٹی اسکیموں اور ڈیجیٹل کریڈٹ اسیسمنٹ ماڈلز نے کاروباری سرگرمیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ اسی طرح جی ایس ٹی، فیس لیس اسیسمنٹ اور ای فائلنگ جیسے اقدامات نے ٹیکس نظام کو زیادہ شفاف اور کاروبار دوست بنایا ہے۔
تاہم کامیابی کا اصل پیمانہ صرف عالمی درجہ بندیوں میں بہتری نہیں بلکہ ان اصلاحات کے زمینی اثرات ہیں۔ اگرچہ ضابطوں میں نرمی اور ڈیجیٹل نظام نے کاروبار کے لئے نئی سہولتیں پیدا کی ہیں، لیکن چھوٹے کاروباروں، دیہی صنعتوں اور دور دراز علاقوں میں ان اصلاحات کے مکمل فوائد پہنچانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت نے کاروباری ماحول کو جدید اور سہل بنانے کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اصلاحات کا یہ سلسلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہ رہے بلکہ ملک کے ہر کاروباری فرد، اسٹارٹ اپ اور چھوٹے صنعت کار تک اس کے ثمرات یکساں طور پر پہنچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پائیدار اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے وسیع مواقع کی ضمانت بن سکتا ہے۔


