مغربی ایشیا میں جنگ کی نئی آگ

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ پھر سے لاکھوں انسان ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے لئے ایک کڑا امتحان ہے، جس میں عالمی برادری ایک بار پھر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کے طاقتور ممالک، بین الاقوامی ادارے اور امن کے دعوے دار فورم مسلسل بیانات جاری کر رہے ہیں، اجلاس منعقد ہو رہے ہیں اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، مگر جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ناقابل دید بھی کہ دنیا ایک مؤثر جنگ بندی کرانے اور پائیدار امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی جنگ اپنے جغرافیائی دائرے تک محدود نہیں رہتی۔ آج جو ممالک اس آگ کو دور سے تماشا سمجھ کر خاموش بیٹھے ہیں، کل وہ خود اس کے اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ جنگ کی چنگاریاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ جو لوگ آج خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، بعید نہیں کہ کل انہیں بھی اسی بے یقینی، خوف اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے جس کا شکار آج مغربی ایشیا کے عوام ہیں۔
درحقیقت جنگ نے اپنا کاروبار شروع بھی کر دیا ہے۔ ابھی گولہ بارود کی گھن گرج جاری ہے اور دوسری طرف عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور رسد کے نظام میں خلل کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی ایک نئی لہر دنیا بھر کے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
جنگوں کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں چکائی جاتی بلکہ عام شہری بھی اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور غریب و متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یوں جنگ کا دائرہ محاذوں سے نکل کر ہر گھر کے باورچی خانے تک پہنچ جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا نے گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں، بے شمار علاقائی تنازعات اور لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ طاقت کے توازن، سیاسی مفادات اور جغرافیائی حکمت عملیوں کے نام پر انسانیت کو مسلسل قربان کیا جا رہا ہے۔ امن کے نعرے بلند ضرور کیے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات اکثر مفادات کی دیوار سے ٹکرا کر دم توڑ دیتے ہیں۔
انسانیت کے سامنے آج بھی انتخاب موجود ہے۔ یا تو دنیا نفرت، انتقام اور طاقت کی سیاست کے راستے پر چلتی رہے، یا پھر امن، مکالمے اور انصاف کو ترجیح دے۔ کیونکہ تاریخ کا ایک اٹل سبق ہے کہ جنگ کسی کی نہیں ہوتی، مگر اس کی قیمت سب کو چکانی پڑتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

مغربی ایشیا میں جنگ کی نئی آگ

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ پھر سے لاکھوں انسان ایک غیر یقینی مستقبل کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے لئے ایک کڑا امتحان ہے، جس میں عالمی برادری ایک بار پھر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کے طاقتور ممالک، بین الاقوامی ادارے اور امن کے دعوے دار فورم مسلسل بیانات جاری کر رہے ہیں، اجلاس منعقد ہو رہے ہیں اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، مگر جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ناقابل دید بھی کہ دنیا ایک مؤثر جنگ بندی کرانے اور پائیدار امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی جنگ اپنے جغرافیائی دائرے تک محدود نہیں رہتی۔ آج جو ممالک اس آگ کو دور سے تماشا سمجھ کر خاموش بیٹھے ہیں، کل وہ خود اس کے اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ جنگ کی چنگاریاں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔ جو لوگ آج خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، بعید نہیں کہ کل انہیں بھی اسی بے یقینی، خوف اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے جس کا شکار آج مغربی ایشیا کے عوام ہیں۔
درحقیقت جنگ نے اپنا کاروبار شروع بھی کر دیا ہے۔ ابھی گولہ بارود کی گھن گرج جاری ہے اور دوسری طرف عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں اور رسد کے نظام میں خلل کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی ایک نئی لہر دنیا بھر کے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
جنگوں کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں چکائی جاتی بلکہ عام شہری بھی اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور غریب و متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یوں جنگ کا دائرہ محاذوں سے نکل کر ہر گھر کے باورچی خانے تک پہنچ جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا نے گزشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں، بے شمار علاقائی تنازعات اور لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ طاقت کے توازن، سیاسی مفادات اور جغرافیائی حکمت عملیوں کے نام پر انسانیت کو مسلسل قربان کیا جا رہا ہے۔ امن کے نعرے بلند ضرور کیے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات اکثر مفادات کی دیوار سے ٹکرا کر دم توڑ دیتے ہیں۔
انسانیت کے سامنے آج بھی انتخاب موجود ہے۔ یا تو دنیا نفرت، انتقام اور طاقت کی سیاست کے راستے پر چلتی رہے، یا پھر امن، مکالمے اور انصاف کو ترجیح دے۔ کیونکہ تاریخ کا ایک اٹل سبق ہے کہ جنگ کسی کی نہیں ہوتی، مگر اس کی قیمت سب کو چکانی پڑتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں