جنگ نیوز
حیدرآباد/ وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی ایندھن بحران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ملک کے عوام اور اداروں سے ایک بار پھر “ورک فرام ہوم”، آن لائن میٹنگز اور ورچوئل کانفرنسوں کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے اور معیشت پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
حیدرآباد میں تلنگانہ کے لئے تقریباً 9400 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے کے بعد ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا دور میں ملک نے ورک فرام ہوم، ویڈیو کانفرنسنگ اور آن لائن نظامِ کار کو کامیابی سے اپنایا تھا، اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ قومی مفاد میں ان طریقوں کو دوبارہ رائج کیا جائے۔
نریندر مودی نے کہا، “کورونا کے دوران ہم نے گھر سے کام، آن لائن میٹنگز اور ویڈیو کانفرنسنگ جیسے کئی نظام تیار کیے تھے اور ہم ان کے عادی بھی ہو گئے تھے۔ آج حالات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ اگر ہم ان نظاموں کو دوبارہ اختیار کریں تو یہ قومی مفاد میں ہوگا۔”
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جہاں ممکن ہو ورک فرام ہوم کو ترجیح دی جائے تاکہ روزانہ سفر اور ایندھن کے استعمال میں کمی آئے۔ انہوں نے کم از کم ایک سال تک غیر ضروری بیرونِ ملک سفر سے گریز، سونے کی غیر ضروری خریداری مؤخر کرنے، میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال، کار پولنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے پر بھی زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مقامی سیاحت اور دیسی مصنوعات کی حوصلہ افزائی کی اپیل بھی کی۔
وزیر اعظم کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا خصوصاً ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو ذاتی سہولت پر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی عملی مثال قرار دیا۔
وزیر اعظم کے بیان کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف شعبوں میں وسیع بحث شروع ہو گئی ہے۔ کئی ٹیکنالوجی ماہرین اور شہریوں نے اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، فضائی آلودگی میں کمی آئے گی اور ذہنی تناؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ تاہم بعض نجی کمپنیوں کی جانب سے دفاتر میں حاضری سخت کیے جانے کے باعث اس معاملے پر ملے جلے ردِ عمل بھی سامنے آئے ہیں۔
فی الحال حکومت کی جانب سے ورک فرام ہوم کے حوالے سے کوئی لازمی ہدایت جاری نہیں کی گئی، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم کے بیان کے بعد کئی کمپنیاں اور ادارے رضاکارانہ طور پر ہائبرڈ ماڈل اپنانے پر غور کر سکتے ہیں۔ حکومت عالمی صورتحال اور ایندھن کی دستیابی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔


