NEETامتحانات منسوج، دوبارہ امتحانات کرانے کا اعلان

جنگ نیوز ڈیسک 

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے مبینہ پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کر دیا ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ راجستھان اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے اس سلسلے میں 45 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 3 مئی کو منعقد ہونے والے میڈیکل انٹری امتحان کے سوالیہ پرچے کے مختلف ریاستوں میں لیک ہونے کے شواہد سامنے آئے، جس کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے امتحان دوبارہ کرانے کا فیصلہ کیا۔ این ٹی اے کے مطابق نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پرچہ لیک کا نیٹ ورک راجستھان کے شہر ناسک سے جڑا ہوا تھا، جہاں سے سوالیہ پرچہ مبینہ طور پر جموں و کشمیر، بہار، کیرالہ اور اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں تک پہنچایا گیا۔ سی بی آئی نے راجستھان ایس او جی سے کیس کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تحقیقات کے دوران کئی اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ راجستھان کے سِیکر ضلع سے تعلق رکھنے والے راکیش کمار منڈاوریا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جبکہ مانیش یادو پر بھی سوالیہ پرچہ لیک کرنے اور اسے امیدواروں تک پہنچانے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے بھاری رقم کے عوض امیدواروں کو سوالیہ پرچے فراہم کیے۔
این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل پردیپ سنگھ کھروولا نے پریس بیان میں کہا کہ ادارہ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور دوبارہ امتحان شفاف اور محفوظ طریقے سے منعقد کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نئے امتحانی عمل کو مزید سخت اور محفوظ بنایا جائے گا تاکہ طلبہ کا اعتماد بحال ہو سکے۔

معاملے کی تحقیقات CBIکے سپردکی گئی، درجنوں گرفتار
نیٹ یو جی 2026 پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات اب سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ مرکزی ایجنسی نے راجستھان اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) سے کیس کی تفصیلات اور ابتدائی شواہد حاصل کرنے کے بعد مختلف ریاستوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 45 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ کئی مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سوالیہ پرچہ راجستھان کے ناسک سے لیک ہوا اور بعد میں مختلف ریاستوں تک پہنچایا گیا۔
سی بی آئی ذرائع کے مطابق تحقیقات میں مالی لین دین، موبائل رابطوں اور ڈیجیٹل شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایجنسی اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا پرچہ لیک ایک منظم بین الریاستی نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیا گیا۔
راجستھان کے سِیکر ضلع سے تعلق رکھنے والے چند اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں جن پر امیدواروں تک سوالیہ پرچہ پہنچانے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

NEETامتحانات منسوج، دوبارہ امتحانات کرانے کا اعلان

جنگ نیوز ڈیسک 

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے مبینہ پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کر دیا ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ راجستھان اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے اس سلسلے میں 45 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 3 مئی کو منعقد ہونے والے میڈیکل انٹری امتحان کے سوالیہ پرچے کے مختلف ریاستوں میں لیک ہونے کے شواہد سامنے آئے، جس کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے امتحان دوبارہ کرانے کا فیصلہ کیا۔ این ٹی اے کے مطابق نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پرچہ لیک کا نیٹ ورک راجستھان کے شہر ناسک سے جڑا ہوا تھا، جہاں سے سوالیہ پرچہ مبینہ طور پر جموں و کشمیر، بہار، کیرالہ اور اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں تک پہنچایا گیا۔ سی بی آئی نے راجستھان ایس او جی سے کیس کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تحقیقات کے دوران کئی اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ راجستھان کے سِیکر ضلع سے تعلق رکھنے والے راکیش کمار منڈاوریا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جبکہ مانیش یادو پر بھی سوالیہ پرچہ لیک کرنے اور اسے امیدواروں تک پہنچانے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے بھاری رقم کے عوض امیدواروں کو سوالیہ پرچے فراہم کیے۔
این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل پردیپ سنگھ کھروولا نے پریس بیان میں کہا کہ ادارہ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور دوبارہ امتحان شفاف اور محفوظ طریقے سے منعقد کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نئے امتحانی عمل کو مزید سخت اور محفوظ بنایا جائے گا تاکہ طلبہ کا اعتماد بحال ہو سکے۔

معاملے کی تحقیقات CBIکے سپردکی گئی، درجنوں گرفتار
نیٹ یو جی 2026 پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات اب سی بی آئی نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ مرکزی ایجنسی نے راجستھان اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) سے کیس کی تفصیلات اور ابتدائی شواہد حاصل کرنے کے بعد مختلف ریاستوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 45 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ کئی مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سوالیہ پرچہ راجستھان کے ناسک سے لیک ہوا اور بعد میں مختلف ریاستوں تک پہنچایا گیا۔
سی بی آئی ذرائع کے مطابق تحقیقات میں مالی لین دین، موبائل رابطوں اور ڈیجیٹل شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایجنسی اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا پرچہ لیک ایک منظم بین الریاستی نیٹ ورک کے ذریعے انجام دیا گیا۔
راجستھان کے سِیکر ضلع سے تعلق رکھنے والے چند اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں جن پر امیدواروں تک سوالیہ پرچہ پہنچانے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں