امریکہ کی عسکری ناکامی اور آبنائے ہرمز کا بحران

 

جب ڈونلڈ ٹرمپ نے “آپریشن پروجیکٹ فریڈم” کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو “محفوظ راستہ” فراہم کرے گا، تو اس اعلان کے ساتھ ہی ایک اور دھمکی بھی دی گئی کہ اگر ایران نے مزاحمت کی تو اسے “طاقتور جواب” دیا جائے گا۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ امریکی طاقت، عالمی بالادستی اور مشرق وسطیٰ میں اپنی مرضی مسلط کرنے کے پرانے خواب کی ایک نئی شکل تھی۔ مگر صرف پچاس گھنٹوں کے اندر یہ خواب حقیقت کی دیوار سے ٹکرا کر بکھر گیا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ چھیڑی تھی۔ اس جنگ کا مقصد صرف ایران کو عسکری طور پر کمزور کرنا نہیں تھا بلکہ اسے سیاسی طور پر جھکانا، اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور خلیجی خطے میں امریکی اسرائیلی اتحاد کی برتری قائم کرنا بھی تھا۔ لیکن چالیس دنوں پر محیط اس جنگ کے بعد اگر کوئی حقیقت سب سے نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ عسکری طاقت ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔
ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی تجارت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ امریکہ کو یقین تھا کہ اپنی بحری قوت، اتحادیوں اور جدید اسلحے کے ذریعے وہ چند دنوں میں اس راستے کو دوبارہ کھول دے گا۔ مگر ایران نے امریکی تباہ کن قوت کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی بحری بیڑوں پر حملے، عمان کے قریب متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر کو نشانہ بنانا اور خلیجی ریاستوں کو عدم تحفظ کا احساس دلانا اس بات کا ثبوت تھا کہ ایران اس جنگ کو صرف دفاعی زاویے سے نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹریٹجک معرکے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اس پورے بحران میں سب سے دلچسپ اور معنی خیز پہلو یہ ہے کہ خود امریکہ کے قریبی اتحادی بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ متحدہ عرب امارات، جو برسوں سے امریکی پالیسیوں کا اہم ستون رہا ہے، دو مرتبہ حملوں کی شکایت کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگیں صرف دشمنوں کو نہیں بلکہ اتحادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کی آگ میں دھکیل دیا ہے، مگر اس آگ پر قابو پانے کی صلاحیت اب اس کے ہاتھوں سے پھسلتی دکھائی دیتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ جنگ “جیت” رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ اگر واقعی امریکہ کامیاب ہوتا تو آبنائے ہرمز آج بھی بند نہ ہوتی، عالمی منڈیاں خوف کا شکار نہ ہوتیں اور واشنگٹن کو اپنی عسکری کارروائی اچانک روکنے کا اعلان نہ کرنا پڑتا۔ یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں کہ ٹرمپ نے آپریشن روکنے کا جواز “پاکستان کی درخواست” کو قرار دیا۔ یہ بیان دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ کو جنگی محاذ پر مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اسے سفارتی راستہ تلاش کرنا پڑا۔
یہ بحران ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو طاقت کے زور پر کنٹرول کرنے کی امریکی پالیسی مسلسل ناکامیوں کو جنم دے رہی ہے۔ عراق، افغانستان، شام اور اب ایران کے معاملے میں بھی امریکہ عسکری برتری کے باوجود سیاسی استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ واشنگٹن ہر جنگ کو اپنی طاقت کے اظہار کا ذریعہ سمجھتا ہے، مگر ہر نئی جنگ اس کی محدود ہوتی ہوئی طاقت اور کمزور ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو مزید بے نقاب کر دیتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سمجھتے ہیں کہ صرف جنگی جہاز اور میزائل خطے کے پیچیدہ سیاسی مسائل کا حل ہیں، تو وہ ایک بار پھر تاریخ سے کچھ نہیں سیکھ رہے۔ طاقت وقتی خوف پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام صرف سیاسی بصیرت، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی پالیسیوں سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

امریکہ کی عسکری ناکامی اور آبنائے ہرمز کا بحران

 

جب ڈونلڈ ٹرمپ نے “آپریشن پروجیکٹ فریڈم” کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو “محفوظ راستہ” فراہم کرے گا، تو اس اعلان کے ساتھ ہی ایک اور دھمکی بھی دی گئی کہ اگر ایران نے مزاحمت کی تو اسے “طاقتور جواب” دیا جائے گا۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ امریکی طاقت، عالمی بالادستی اور مشرق وسطیٰ میں اپنی مرضی مسلط کرنے کے پرانے خواب کی ایک نئی شکل تھی۔ مگر صرف پچاس گھنٹوں کے اندر یہ خواب حقیقت کی دیوار سے ٹکرا کر بکھر گیا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ چھیڑی تھی۔ اس جنگ کا مقصد صرف ایران کو عسکری طور پر کمزور کرنا نہیں تھا بلکہ اسے سیاسی طور پر جھکانا، اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور خلیجی خطے میں امریکی اسرائیلی اتحاد کی برتری قائم کرنا بھی تھا۔ لیکن چالیس دنوں پر محیط اس جنگ کے بعد اگر کوئی حقیقت سب سے نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ عسکری طاقت ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔
ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی تجارت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ امریکہ کو یقین تھا کہ اپنی بحری قوت، اتحادیوں اور جدید اسلحے کے ذریعے وہ چند دنوں میں اس راستے کو دوبارہ کھول دے گا۔ مگر ایران نے امریکی تباہ کن قوت کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی بحری بیڑوں پر حملے، عمان کے قریب متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر کو نشانہ بنانا اور خلیجی ریاستوں کو عدم تحفظ کا احساس دلانا اس بات کا ثبوت تھا کہ ایران اس جنگ کو صرف دفاعی زاویے سے نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹریٹجک معرکے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اس پورے بحران میں سب سے دلچسپ اور معنی خیز پہلو یہ ہے کہ خود امریکہ کے قریبی اتحادی بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ متحدہ عرب امارات، جو برسوں سے امریکی پالیسیوں کا اہم ستون رہا ہے، دو مرتبہ حملوں کی شکایت کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگیں صرف دشمنوں کو نہیں بلکہ اتحادیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کی آگ میں دھکیل دیا ہے، مگر اس آگ پر قابو پانے کی صلاحیت اب اس کے ہاتھوں سے پھسلتی دکھائی دیتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ جنگ “جیت” رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ اگر واقعی امریکہ کامیاب ہوتا تو آبنائے ہرمز آج بھی بند نہ ہوتی، عالمی منڈیاں خوف کا شکار نہ ہوتیں اور واشنگٹن کو اپنی عسکری کارروائی اچانک روکنے کا اعلان نہ کرنا پڑتا۔ یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں کہ ٹرمپ نے آپریشن روکنے کا جواز “پاکستان کی درخواست” کو قرار دیا۔ یہ بیان دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ کو جنگی محاذ پر مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اسے سفارتی راستہ تلاش کرنا پڑا۔
یہ بحران ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو طاقت کے زور پر کنٹرول کرنے کی امریکی پالیسی مسلسل ناکامیوں کو جنم دے رہی ہے۔ عراق، افغانستان، شام اور اب ایران کے معاملے میں بھی امریکہ عسکری برتری کے باوجود سیاسی استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ واشنگٹن ہر جنگ کو اپنی طاقت کے اظہار کا ذریعہ سمجھتا ہے، مگر ہر نئی جنگ اس کی محدود ہوتی ہوئی طاقت اور کمزور ہوتی ہوئی عالمی ساکھ کو مزید بے نقاب کر دیتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سمجھتے ہیں کہ صرف جنگی جہاز اور میزائل خطے کے پیچیدہ سیاسی مسائل کا حل ہیں، تو وہ ایک بار پھر تاریخ سے کچھ نہیں سیکھ رہے۔ طاقت وقتی خوف پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار استحکام صرف سیاسی بصیرت، سفارت کاری اور انصاف پر مبنی پالیسیوں سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں