ایک عہد کا اختتام یا نئی سیاست کا آغاز؟

مغربی بنگال کی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالیہ کامیابی محض ایک انتخابی فتح نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا اعلان ہے۔ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی، مسلسل تنظیمی محنت اور مرکزی اقتدار کے تمام ممکنہ وسائل کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس، جو مسلسل تین ادوار تک اقتدار میں رہی، وقت کے ساتھ اپنی سیاسی و اخلاقی طاقت کھوتی چلی گئی۔
بی جے پی نے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں حاصل کرکے نہ صرف ایک تاریخی کامیابی درج کی بلکہ ریاست کی سیاسی سمت بھی بدل دی۔ 2021 کے انتخابات میں یہی جماعت محض 77 نشستوں تک محدود تھی۔ اس بار اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری نہ صرف وزیراعلیٰ بننے جا رہے ہیں بلکہ انہوں نے ممتا بنرجی کو ان کے اپنے حلقہ بھوانی پور میں شکست دے کر ایک علامتی سیاسی پیغام بھی دیا ہے۔ نندی گرام کے بعد یہ دوسری مرتبہ ہے جب ممتا بنرجی ان کے سامنے ناکام ثابت ہوئیں۔
ترنمول کانگریس کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی کہ اس نے عوامی ناراضگی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ روزگار کے بحران، بدعنوانی، کمزور نظم و نسق اور قانون و انتظام کی بگڑتی صورتحال نے عوام کو مایوس کیا۔ مغربی بنگال ٹیچر بھرتی گھوٹالے نے حکومت کی شفافیت پر سوال کھڑے کیے جبکہ آر جی کار ریپ اور قتل کیس نے ریاستی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان واقعات نے یہ احساس پیدا کیا کہ حکومت نہ صرف انتظامی گرفت کھو چکی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ممتا بنرجی نے 2021 میں بنگالی شناخت کے تحفظ کو سیاسی ہتھیار بنایا تھا اور بی جے پی کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کیا تھا جو ہندی بیلٹ کی سیاست کو بنگال پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس حکمت عملی نے اس وقت فائدہ دیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی علاقائی سیاست کمزور پڑ گئی کیونکہ اس کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت خود انتشار، بدعنوانی اور سیاسی جبر کی علامت بنتی گئی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی کی کامیابی صرف ترنمول کی ناکامی کا نتیجہ نہیں۔ پارٹی نے گاؤں گاؤں اور بوتھ بوتھ اپنی تنظیم کو مضبوط کیا، نئے سماجی طبقات تک رسائی حاصل کی اور خود کو ایک متبادل طاقت کے طور پر پیش کیا۔ مرکز میں اقتدار ہونے کی وجہ سے اسے سیاسی، مالی اور انتظامی برتری بھی حاصل رہی۔
تاہم اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا بی جے پی بنگال کو وہ سیاسی استحکام، شفاف حکمرانی اور ترقی دے سکے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے؟ اقتدار حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر عوامی توقعات پر پورا اترنا زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔ بنگال ایک حساس تہذیبی، لسانی اور سیاسی شناخت رکھنے والی ریاست ہے۔ یہاں طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی کی ضرورت ہوگی۔
مغربی بنگال کے نتائج یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر طویل اقتدار کے نشے میں عوامی مسائل سے بے پروا ہو جائے، بدعنوانی کو نظر انداز کرے اور جمہوری تنقید کو دبانے لگے تو بالآخر عوام اس کے خلاف فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، اور جب عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے تو مضبوط ترین سیاسی قلعے بھی زمین بوس ہو جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

ایک عہد کا اختتام یا نئی سیاست کا آغاز؟

مغربی بنگال کی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالیہ کامیابی محض ایک انتخابی فتح نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا اعلان ہے۔ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی، مسلسل تنظیمی محنت اور مرکزی اقتدار کے تمام ممکنہ وسائل کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس، جو مسلسل تین ادوار تک اقتدار میں رہی، وقت کے ساتھ اپنی سیاسی و اخلاقی طاقت کھوتی چلی گئی۔
بی جے پی نے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں حاصل کرکے نہ صرف ایک تاریخی کامیابی درج کی بلکہ ریاست کی سیاسی سمت بھی بدل دی۔ 2021 کے انتخابات میں یہی جماعت محض 77 نشستوں تک محدود تھی۔ اس بار اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری نہ صرف وزیراعلیٰ بننے جا رہے ہیں بلکہ انہوں نے ممتا بنرجی کو ان کے اپنے حلقہ بھوانی پور میں شکست دے کر ایک علامتی سیاسی پیغام بھی دیا ہے۔ نندی گرام کے بعد یہ دوسری مرتبہ ہے جب ممتا بنرجی ان کے سامنے ناکام ثابت ہوئیں۔
ترنمول کانگریس کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی کہ اس نے عوامی ناراضگی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ روزگار کے بحران، بدعنوانی، کمزور نظم و نسق اور قانون و انتظام کی بگڑتی صورتحال نے عوام کو مایوس کیا۔ مغربی بنگال ٹیچر بھرتی گھوٹالے نے حکومت کی شفافیت پر سوال کھڑے کیے جبکہ آر جی کار ریپ اور قتل کیس نے ریاستی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان واقعات نے یہ احساس پیدا کیا کہ حکومت نہ صرف انتظامی گرفت کھو چکی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ممتا بنرجی نے 2021 میں بنگالی شناخت کے تحفظ کو سیاسی ہتھیار بنایا تھا اور بی جے پی کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کیا تھا جو ہندی بیلٹ کی سیاست کو بنگال پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس حکمت عملی نے اس وقت فائدہ دیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی علاقائی سیاست کمزور پڑ گئی کیونکہ اس کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت خود انتشار، بدعنوانی اور سیاسی جبر کی علامت بنتی گئی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی کی کامیابی صرف ترنمول کی ناکامی کا نتیجہ نہیں۔ پارٹی نے گاؤں گاؤں اور بوتھ بوتھ اپنی تنظیم کو مضبوط کیا، نئے سماجی طبقات تک رسائی حاصل کی اور خود کو ایک متبادل طاقت کے طور پر پیش کیا۔ مرکز میں اقتدار ہونے کی وجہ سے اسے سیاسی، مالی اور انتظامی برتری بھی حاصل رہی۔
تاہم اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا بی جے پی بنگال کو وہ سیاسی استحکام، شفاف حکمرانی اور ترقی دے سکے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے؟ اقتدار حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر عوامی توقعات پر پورا اترنا زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔ بنگال ایک حساس تہذیبی، لسانی اور سیاسی شناخت رکھنے والی ریاست ہے۔ یہاں طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی کی ضرورت ہوگی۔
مغربی بنگال کے نتائج یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر طویل اقتدار کے نشے میں عوامی مسائل سے بے پروا ہو جائے، بدعنوانی کو نظر انداز کرے اور جمہوری تنقید کو دبانے لگے تو بالآخر عوام اس کے خلاف فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، اور جب عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے تو مضبوط ترین سیاسی قلعے بھی زمین بوس ہو جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں