ٹرانسپورٹ بحران کا دو رُخی منظرنامہ

کشمیر میں ایک بار پھر عوامی نقل و حمل کا نظام بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسمارٹ سٹی بس منصوبے کے خلاف حالیہ “چکہ جام” کے چند ہی دن بعد نجی ٹرانسپورٹروں نے 12 مئی سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرکے پوری وادی میں عوامی آمد و رفت کو مفلوج بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بظاہر یہ تنازعہ اسمارٹ سٹی بسوں اور روایتی ٹرانسپورٹ نظام کے درمیان معاشی مفادات کا تصادم معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسئلہ برسوں سے چلے آرہے ایک غیر منظم، غیر جواب دہ اور عوام دشمن ٹرانسپورٹ ڈھانچے کی علامت بھی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نجی ٹرانسپورٹروں کے بعض تحفظات حقیقی ہوسکتے ہیں۔ اگر حکومت جدید ٹرانسپورٹ منصوبے متعارف کرارہی ہے تو اس کے ساتھ اُن ہزاروں افراد کے روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی مستقبل کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے جو دہائیوں سے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کا مقصد عوامی سہولت کے ساتھ معاشی توازن بھی ہونا چاہیے، نہ کہ ایک طبقے کو مکمل طور پر بے دخل کرکے دوسرے کو فوقیت دینا۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، شفاف پالیسی وضع کرے اور ایسے حل تلاش کرے جن میں جدیدیت بھی ہو اور روزگار کا تحفظ بھی۔
لیکن اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت سے صرفِ نظر بھی ممکن نہیں۔ کشمیر میں نجی ٹرانسپورٹ کا شعبہ طویل عرصے سے عوامی شکایات کی زد میں رہا ہے۔ حد سے زیادہ مسافروں کو گاڑیوں میں ٹھونسنا، معمولی فاصلوں کے باوجود غیر ضروری توقف، اوقات کار کی پابندی نہ کرنا، من مانی کرایہ وصولی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں اور مسافروں خصوصاً خواتین، طلبہ اور بزرگوں کو درپیش مشکلات اب روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس تاثر کا شکار ہے کہ ٹرانسپورٹ یونینیں اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر اترتی ہیں، لیکن عوامی سہولت، معیارِ خدمات اور احتساب کے سوالات پر خاموش رہتی ہیں۔
یہی وہ پہلو ہے جسے نظر انداز کرکے مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ٹرانسپورٹر اپنے حقوق اور معاشی تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں تو عوام کو بھی معیاری، محفوظ اور باوقار سفری سہولیات کا حق حاصل ہے۔ صرف ہڑتالوں، چکہ جام اور دباؤ کی سیاست کے ذریعے عوام کو یرغمال بنانا کسی بھی صورت مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اسپتالوں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور روزگار سے وابستہ لاکھوں افراد کی زندگی کو مفلوج بنا دینا احتجاج کا ایسا طریقہ ہے جس کی قیمت ہمیشہ عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے۔
حکومت کے لئے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ برسوں سے کشمیر کا ٹرانسپورٹ شعبہ ایک مربوط اصلاحاتی پالیسی کا منتظر ہے۔ جدید، ماحول دوست اور منظم پبلک ٹرانسپورٹ نظام وقت کی ناگزیر ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نجی آپریٹروں کے لئے بھی واضح ضابطے، تربیتی نظام، جواب دہی اور قانونی پابندیوں کا نفاذ ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک دوٹوک پیغام دے کہ عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اوور لوڈنگ، غیر ضروری قیام، من مانی اور سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے جیسے رجحانات کو ختم کرنے کے لئے سخت اور غیر جانب دارانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ مسئلہ محض اسمارٹ سٹی بسوں یا چند یونینوں کا نہیں، بلکہ کشمیر کے شہری نظم و نسق، عوامی حقوق اور جدید طرزِ حکمرانی کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر حکومت دانش مندی، توازن اور مضبوط سیاسی ارادے کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک بہتر، منظم اور عوام دوست ٹرانسپورٹ نظام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ہر چند ماہ بعد سڑکیں بند ہوں گی، عوام پریشان ہوں گے اور مسائل جوں کے توں باقی رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

ٹرانسپورٹ بحران کا دو رُخی منظرنامہ

کشمیر میں ایک بار پھر عوامی نقل و حمل کا نظام بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسمارٹ سٹی بس منصوبے کے خلاف حالیہ “چکہ جام” کے چند ہی دن بعد نجی ٹرانسپورٹروں نے 12 مئی سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کرکے پوری وادی میں عوامی آمد و رفت کو مفلوج بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بظاہر یہ تنازعہ اسمارٹ سٹی بسوں اور روایتی ٹرانسپورٹ نظام کے درمیان معاشی مفادات کا تصادم معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسئلہ برسوں سے چلے آرہے ایک غیر منظم، غیر جواب دہ اور عوام دشمن ٹرانسپورٹ ڈھانچے کی علامت بھی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نجی ٹرانسپورٹروں کے بعض تحفظات حقیقی ہوسکتے ہیں۔ اگر حکومت جدید ٹرانسپورٹ منصوبے متعارف کرارہی ہے تو اس کے ساتھ اُن ہزاروں افراد کے روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی مستقبل کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے جو دہائیوں سے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کا مقصد عوامی سہولت کے ساتھ معاشی توازن بھی ہونا چاہیے، نہ کہ ایک طبقے کو مکمل طور پر بے دخل کرکے دوسرے کو فوقیت دینا۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، شفاف پالیسی وضع کرے اور ایسے حل تلاش کرے جن میں جدیدیت بھی ہو اور روزگار کا تحفظ بھی۔
لیکن اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت سے صرفِ نظر بھی ممکن نہیں۔ کشمیر میں نجی ٹرانسپورٹ کا شعبہ طویل عرصے سے عوامی شکایات کی زد میں رہا ہے۔ حد سے زیادہ مسافروں کو گاڑیوں میں ٹھونسنا، معمولی فاصلوں کے باوجود غیر ضروری توقف، اوقات کار کی پابندی نہ کرنا، من مانی کرایہ وصولی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں اور مسافروں خصوصاً خواتین، طلبہ اور بزرگوں کو درپیش مشکلات اب روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس تاثر کا شکار ہے کہ ٹرانسپورٹ یونینیں اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر اترتی ہیں، لیکن عوامی سہولت، معیارِ خدمات اور احتساب کے سوالات پر خاموش رہتی ہیں۔
یہی وہ پہلو ہے جسے نظر انداز کرکے مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ٹرانسپورٹر اپنے حقوق اور معاشی تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں تو عوام کو بھی معیاری، محفوظ اور باوقار سفری سہولیات کا حق حاصل ہے۔ صرف ہڑتالوں، چکہ جام اور دباؤ کی سیاست کے ذریعے عوام کو یرغمال بنانا کسی بھی صورت مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اسپتالوں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور روزگار سے وابستہ لاکھوں افراد کی زندگی کو مفلوج بنا دینا احتجاج کا ایسا طریقہ ہے جس کی قیمت ہمیشہ عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے۔
حکومت کے لئے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ برسوں سے کشمیر کا ٹرانسپورٹ شعبہ ایک مربوط اصلاحاتی پالیسی کا منتظر ہے۔ جدید، ماحول دوست اور منظم پبلک ٹرانسپورٹ نظام وقت کی ناگزیر ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نجی آپریٹروں کے لئے بھی واضح ضابطے، تربیتی نظام، جواب دہی اور قانونی پابندیوں کا نفاذ ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک دوٹوک پیغام دے کہ عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اوور لوڈنگ، غیر ضروری قیام، من مانی اور سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے جیسے رجحانات کو ختم کرنے کے لئے سخت اور غیر جانب دارانہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ مسئلہ محض اسمارٹ سٹی بسوں یا چند یونینوں کا نہیں، بلکہ کشمیر کے شہری نظم و نسق، عوامی حقوق اور جدید طرزِ حکمرانی کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر حکومت دانش مندی، توازن اور مضبوط سیاسی ارادے کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک بہتر، منظم اور عوام دوست ٹرانسپورٹ نظام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ہر چند ماہ بعد سڑکیں بند ہوں گی، عوام پریشان ہوں گے اور مسائل جوں کے توں باقی رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں