سورج کی روشنی، اندھیرے کی حقیقت

بھارت نے 25 اپریل کو256 گیگاواٹ کی ریکارڈ بجلی طلب کو عبور کیا، جہاں دوپہر کے وقت شمسی توانائی نے22 فیصد حصہ ڈال کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ لمحہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سورج کی روشنی کے عروج پر ملک کا شمسی نظام حقیقی معنوں میں توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اسی دن کے مکمل چوبیس گھنٹوں کا جائزہ ایک مختلف اور قدرے تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
پورے دن کے حساب میں شمسی توانائی کا حصہ محض11فیصد رہا، جبکہ غروبِ آفتاب کے بعد یہ حصہ تقریباً صفر یعنی1.0فیصد تک سکڑ گیا۔ یہ تضاد محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ توانائی کے ڈھانچے میں موجود ایک بنیادی خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ 2022 سے 2026 تک شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت تقریباً 15 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد تک جا پہنچی ہے، مگر پیداوار میں اس کا حصہ اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکا۔ 2022 کے یومِ عروج پر یہ حصہ 6.5فیصد تھا جو اب بڑھ کر صرف 8.10فیصد تک پہنچا ہے۔ یہ فرق اس وسیع خلا کی عکاسی کرتا ہے جو امکانات اور عملی حقیقت کے درمیان حائل ہے۔
اصل رکاوٹ نہ تو شمسی پینلز کی کمی ہے، نہ زمین کی، اور نہ ہی حکومتی عزائم کی۔ مسئلہ دراصل اس توانائی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کا ہے جو دن کے وقت وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے۔ بیٹری اسٹوریج کی شدید کمی اس نظام کی سب سے کمزور کڑی بن چکی ہے۔ نتیجتاً، وہ ریاستیں جو شمسی توانائی کی پیداوار میں آگے ہیں، بعض اوقات اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہوتی ہیں تاکہ بجلی کے قومی گرڈ کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 2025 میں مئی کے آخر سے دسمبر تک بھارت کو 2.3 ٹیراواٹ گھنٹے شمسی توانائی ضائع کرنا پڑی، جو کہ اوسط ماہانہ پیداوار کا تقریباً 18 فیصد بنتا ہے۔ صرف اکتوبر میں ہی9.0ٹیراواٹ گھنٹے توانائی ضائع ہوئی۔ یہ محض توانائی کا ضیاع نہیں بلکہ قومی خزانے پر ایک اضافی بوجھ بھی ہے، کیونکہ پیدا کرنے والوں کو اس بجلی کا معاوضہ دینا پڑتا ہے جو درحقیقت استعمال ہی نہیں ہوئی۔
اس تناظر میں محکمہ موسمیات کی جانب سے معمول سے کم بارشوں کی پیش گوئی، جو طویل مدتی اوسط کا صرف 92 فیصد ہے اور گزشتہ 11 برسوں میں پہلی ایسی وارننگ ہے، صورتحال کو مزید نازک بنا دیتی ہے۔ ایک گرم اور خشک موسم گرما دن کے وقت بجلی کی طلب میں اضافہ کرے گا—وہی وقت جب شمسی توانائی کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ صورت حال ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے: توانائی کی پالیسی محض پیداوار بڑھانے کا نام نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال اور ذخیرے کی حکمت عملی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر بھارت واقعی اپنے شمسی خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے تو اسے بیٹری اسٹوریج، گرڈ کی جدید کاری، اور توانائی کے متوازن نظام میں فوری سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ بصورت دیگر، سورج کی یہ چمکتی روشنی ہر شام اندھیرے میں گم ہوتی رہے گی، اور امکانات کا یہ سنہرا موقع محض ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

سورج کی روشنی، اندھیرے کی حقیقت

بھارت نے 25 اپریل کو256 گیگاواٹ کی ریکارڈ بجلی طلب کو عبور کیا، جہاں دوپہر کے وقت شمسی توانائی نے22 فیصد حصہ ڈال کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ لمحہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت تھا کہ سورج کی روشنی کے عروج پر ملک کا شمسی نظام حقیقی معنوں میں توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اسی دن کے مکمل چوبیس گھنٹوں کا جائزہ ایک مختلف اور قدرے تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
پورے دن کے حساب میں شمسی توانائی کا حصہ محض11فیصد رہا، جبکہ غروبِ آفتاب کے بعد یہ حصہ تقریباً صفر یعنی1.0فیصد تک سکڑ گیا۔ یہ تضاد محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ توانائی کے ڈھانچے میں موجود ایک بنیادی خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ 2022 سے 2026 تک شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت تقریباً 15 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد تک جا پہنچی ہے، مگر پیداوار میں اس کا حصہ اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکا۔ 2022 کے یومِ عروج پر یہ حصہ 6.5فیصد تھا جو اب بڑھ کر صرف 8.10فیصد تک پہنچا ہے۔ یہ فرق اس وسیع خلا کی عکاسی کرتا ہے جو امکانات اور عملی حقیقت کے درمیان حائل ہے۔
اصل رکاوٹ نہ تو شمسی پینلز کی کمی ہے، نہ زمین کی، اور نہ ہی حکومتی عزائم کی۔ مسئلہ دراصل اس توانائی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کا ہے جو دن کے وقت وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے۔ بیٹری اسٹوریج کی شدید کمی اس نظام کی سب سے کمزور کڑی بن چکی ہے۔ نتیجتاً، وہ ریاستیں جو شمسی توانائی کی پیداوار میں آگے ہیں، بعض اوقات اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہوتی ہیں تاکہ بجلی کے قومی گرڈ کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 2025 میں مئی کے آخر سے دسمبر تک بھارت کو 2.3 ٹیراواٹ گھنٹے شمسی توانائی ضائع کرنا پڑی، جو کہ اوسط ماہانہ پیداوار کا تقریباً 18 فیصد بنتا ہے۔ صرف اکتوبر میں ہی9.0ٹیراواٹ گھنٹے توانائی ضائع ہوئی۔ یہ محض توانائی کا ضیاع نہیں بلکہ قومی خزانے پر ایک اضافی بوجھ بھی ہے، کیونکہ پیدا کرنے والوں کو اس بجلی کا معاوضہ دینا پڑتا ہے جو درحقیقت استعمال ہی نہیں ہوئی۔
اس تناظر میں محکمہ موسمیات کی جانب سے معمول سے کم بارشوں کی پیش گوئی، جو طویل مدتی اوسط کا صرف 92 فیصد ہے اور گزشتہ 11 برسوں میں پہلی ایسی وارننگ ہے، صورتحال کو مزید نازک بنا دیتی ہے۔ ایک گرم اور خشک موسم گرما دن کے وقت بجلی کی طلب میں اضافہ کرے گا—وہی وقت جب شمسی توانائی کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ صورت حال ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے: توانائی کی پالیسی محض پیداوار بڑھانے کا نام نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال اور ذخیرے کی حکمت عملی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر بھارت واقعی اپنے شمسی خواب کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے تو اسے بیٹری اسٹوریج، گرڈ کی جدید کاری، اور توانائی کے متوازن نظام میں فوری سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ بصورت دیگر، سورج کی یہ چمکتی روشنی ہر شام اندھیرے میں گم ہوتی رہے گی، اور امکانات کا یہ سنہرا موقع محض ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں