اخلاقی صحافت کی جدوجہد کا وقت

ہر سال3 مئی کو عالمی یومِ صحافت ہمیں صرف صحافت کی اہمیت یاد نہیں دلاتا بلکہ ہمیں ایک سنجیدہ احتساب کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سچ، دیانت اور ذمہ داری پر مبنی صحافت جمہوری معاشروں کی بنیاد ہے۔ مگر آج اسی بنیاد کو سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا کے پھیلتے ہوئے فتنۂ معلومات سے لاحق ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو عام کیا، ہر فرد کو آواز دی، لیکن اسی کے ساتھ جھوٹ، افواہوں اور سنسنی خیزی کو بھی غیر معمولی رفتار بخشی۔ آج خبر اور افواہ کے درمیان حد فاصل دھندلا چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں ذمہ دار صحافت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔بدقسمتی سے خود صحافت کے شعبے میں بھی سنجیدگی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بہت سے افراد کےلئے یہ پیشہ اب ایک وقتی مشغلہ بن چکا ہے، جہاں تحقیق، تصدیق اور اصولوں کی جگہ جلدی شہرت اور ذاتی مفاد نے لے لی ہے۔ حالانکہ صحافت کوئی جز وقتی کام نہیں، بلکہ ایک مکمل ذمہ داری ہے جو مسلسل محنت، دیانت اور جوابدہی کا تقاضا کرتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس فتنہ کا مقابلہ صرف اور صرف اخلاقی صحافت سے ہی ممکن ہے۔ ایسی صحافت جو سچائی، توازن اور غیر جانبداری کو اپنی بنیاد بنائے۔ جو رفتار پر نہیں بلکہ درستگی پر یقین رکھے۔ جو عوامی شعور کو بیدار کرے، نہ کہ اسے گمراہ کرے۔یہ وقت ٹیکنالوجی سے لڑنے کا نہیں بلکہ صحافتی اقدار کو مضبوط کرنے کا ہے۔
میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ تحقیق، تربیت اور ادارتی نگرانی کو فروغ دیں۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ خود کو محض مواد تخلیق کرنے والا نہ سمجھیں بلکہ سچ کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔
عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر صحافت کو اپنا وقار بحال کرنا ہے تو اسے سنجیدگی، دیانت اور مکمل وابستگی کے ساتھ اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم سوشل میڈیا کے شور میں سچ کی آواز کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔آخرکار، ایک باشعور معاشرے کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ خبر کتنی تیزی سے نہیں بلکہ کتنی سچائی کے ساتھ پہنچائی جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

اخلاقی صحافت کی جدوجہد کا وقت

ہر سال3 مئی کو عالمی یومِ صحافت ہمیں صرف صحافت کی اہمیت یاد نہیں دلاتا بلکہ ہمیں ایک سنجیدہ احتساب کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سچ، دیانت اور ذمہ داری پر مبنی صحافت جمہوری معاشروں کی بنیاد ہے۔ مگر آج اسی بنیاد کو سب سے بڑا خطرہ سوشل میڈیا کے پھیلتے ہوئے فتنۂ معلومات سے لاحق ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو عام کیا، ہر فرد کو آواز دی، لیکن اسی کے ساتھ جھوٹ، افواہوں اور سنسنی خیزی کو بھی غیر معمولی رفتار بخشی۔ آج خبر اور افواہ کے درمیان حد فاصل دھندلا چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں ذمہ دار صحافت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔بدقسمتی سے خود صحافت کے شعبے میں بھی سنجیدگی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بہت سے افراد کےلئے یہ پیشہ اب ایک وقتی مشغلہ بن چکا ہے، جہاں تحقیق، تصدیق اور اصولوں کی جگہ جلدی شہرت اور ذاتی مفاد نے لے لی ہے۔ حالانکہ صحافت کوئی جز وقتی کام نہیں، بلکہ ایک مکمل ذمہ داری ہے جو مسلسل محنت، دیانت اور جوابدہی کا تقاضا کرتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس فتنہ کا مقابلہ صرف اور صرف اخلاقی صحافت سے ہی ممکن ہے۔ ایسی صحافت جو سچائی، توازن اور غیر جانبداری کو اپنی بنیاد بنائے۔ جو رفتار پر نہیں بلکہ درستگی پر یقین رکھے۔ جو عوامی شعور کو بیدار کرے، نہ کہ اسے گمراہ کرے۔یہ وقت ٹیکنالوجی سے لڑنے کا نہیں بلکہ صحافتی اقدار کو مضبوط کرنے کا ہے۔
میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ تحقیق، تربیت اور ادارتی نگرانی کو فروغ دیں۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ خود کو محض مواد تخلیق کرنے والا نہ سمجھیں بلکہ سچ کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔
عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر صحافت کو اپنا وقار بحال کرنا ہے تو اسے سنجیدگی، دیانت اور مکمل وابستگی کے ساتھ اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم سوشل میڈیا کے شور میں سچ کی آواز کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔آخرکار، ایک باشعور معاشرے کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ خبر کتنی تیزی سے نہیں بلکہ کتنی سچائی کے ساتھ پہنچائی جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں