حج یا اذیت؟ لاکھوں خرچ، سہولیات ناپید!

حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور انسانی وقار کا عظیم مظہر ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان اپنی زندگی کی جمع پونجی خرچ کرکے اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر حاجیوں کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جائے تو یہ ایک سنگین اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے۔
رواں سال 2026 کے حج سیزن کے دوران بھارتی عازمین کی جانب سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، وہ نہایت تشویشناک ہیں۔ پانچ لاکھ روپے سے زائد خطیر رقم ادا کرنے کے باوجود حاجیوں کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب انتظامی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک ایک کمرے میں سولہ سولہ افراد کو ٹھہرایا جا رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف شدید بھیڑ بھاڑ پیدا ہو رہی ہے بلکہ خاندانوں کو بھی ایک دوسرے سے جدا کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مکہ کے عزیزیہ علاقے کے ہاسٹلوں کی جو صورتحال دکھائی گئی ہے، وہ مزید پریشان کن ہے۔ گندے اور گیلے فرش، کمروں میں داخل ہوتا ہوا پانی، اور انتہائی تنگ و ناقص واش رومز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صفائی اور صحت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات نہ صرف عبادت کے روحانی سکون کو متاثر کرتے ہیں بلکہ حاجیوں کی صحت کے لئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت ہند اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور سعودی حکومت کے ساتھ اسے مضبوطی اور وضاحت کے ساتھ اٹھائے۔ حج جیسے مقدس فریضے کے دوران سہولیات کی فراہمی کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر عازمین سے بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں تو اس کے عوض معیاری رہائش، صفائی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا لازم ہے۔عازمینِ حج کو عزت، سہولت اور تحفظ فراہم کرنا صرف ایک انتظامی فریضہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی تقاضا بھی ہے، جسے کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ...

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

تازہ ترین خبریں

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ...

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

حج یا اذیت؟ لاکھوں خرچ، سہولیات ناپید!

حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور انسانی وقار کا عظیم مظہر ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان اپنی زندگی کی جمع پونجی خرچ کرکے اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر حاجیوں کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جائے تو یہ ایک سنگین اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے۔
رواں سال 2026 کے حج سیزن کے دوران بھارتی عازمین کی جانب سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، وہ نہایت تشویشناک ہیں۔ پانچ لاکھ روپے سے زائد خطیر رقم ادا کرنے کے باوجود حاجیوں کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب انتظامی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک ایک کمرے میں سولہ سولہ افراد کو ٹھہرایا جا رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف شدید بھیڑ بھاڑ پیدا ہو رہی ہے بلکہ خاندانوں کو بھی ایک دوسرے سے جدا کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مکہ کے عزیزیہ علاقے کے ہاسٹلوں کی جو صورتحال دکھائی گئی ہے، وہ مزید پریشان کن ہے۔ گندے اور گیلے فرش، کمروں میں داخل ہوتا ہوا پانی، اور انتہائی تنگ و ناقص واش رومز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صفائی اور صحت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات نہ صرف عبادت کے روحانی سکون کو متاثر کرتے ہیں بلکہ حاجیوں کی صحت کے لئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت ہند اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور سعودی حکومت کے ساتھ اسے مضبوطی اور وضاحت کے ساتھ اٹھائے۔ حج جیسے مقدس فریضے کے دوران سہولیات کی فراہمی کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر عازمین سے بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں تو اس کے عوض معیاری رہائش، صفائی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا لازم ہے۔عازمینِ حج کو عزت، سہولت اور تحفظ فراہم کرنا صرف ایک انتظامی فریضہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی تقاضا بھی ہے، جسے کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں