شخص پرستی سماج کا ناسور

خورشید ریشی
کپوارہ، کشمیر

شخصیت پرستی ایک ایسی پیچیدہ اور مہلک سماجی بیماری ہے جو بظاہر تعریف، عقیدت اور احترام کے خوبصورت لبادے میں چھپی ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ سچائی، انصاف اور میرٹ کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے۔ اس رویے میں افراد کی اصل صلاحیتوں اور کردار کو نظر انداز کر کے ان کی مبالغہ آمیز تعریف کی جاتی ہے، یہاں تک کہ جھوٹ اور خوشامد کو بھی جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔
اگر ہم اس رجحان کا گہرائی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کی بنیاد خودغرضی اور مفاد پرستی پر قائم ہے۔ لوگ اپنے ذاتی فائدے، عہدے، دولت یا اثر و رسوخ کے حصول کے لئے بااثر شخصیات کے گرد خوشامد کا جال بنتے ہیں۔ اس عمل میں نہ صرف حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے بلکہ سچائی کو دبایا بھی جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں اصل قابلیت رکھنے والے افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور خوشامد کرنے والے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ شخصیت پرستی صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ جب کسی ادارے میں فیصلے میرٹ کے بجائے تعلقات اور چاپلوسی کی بنیاد پر ہونے لگیں تو وہاں انصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں محنت کرنے والا بددل ہو جاتا ہے جبکہ چاپلوس کو مزید حوصلہ ملتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور مجموعی طور پر معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو شخصیت پرستی انسانی کمزوریوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ تعریف سننا ہر انسان کو اچھا لگتا ہے، لیکن جب یہ تعریف حقیقت سے ہٹ کر ہو اور انسان اسے قبول کرنے لگے تو وہ خود فریبی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی خود فریبی اسے حقیقت سے دور لے جاتی ہے اور وہ اپنے گرد ایسے لوگوں کو جمع کر لیتا ہے جو صرف اس کی خوشامد کرتے ہیں۔ یوں ایک مصنوعی دنیا تشکیل پاتی ہے جہاں سچائی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
شخصیت پرستی کے سماجی اثرات نہایت خطرناک ہیں۔ یہ نہ صرف میرٹ کا قتل کرتی ہے بلکہ نوجوان نسل کی سوچ کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ کامیابی کا راز محنت اور دیانتداری نہیں بلکہ خوشامد اور تعلقات ہیں تو ان کے اندر سے جدوجہد کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے۔ اس طرح ایک ایسی نسل پروان چڑھتی ہے جو اصولوں کے بجائے مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔
تاریخی تناظر میں بھی شخصیت پرستی کے منفی اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ وہ معاشرے جہاں افراد کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور تنقید کی حوصلہ شکنی کی گئی، وہاں جمود اور زوال نے جنم لیا۔ اس کے برعکس، وہ اقوام جنہوں نے تنقید کو قبول کیا، میرٹ کو فروغ دیا اور سچائی کو اہمیت دی، وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوئیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لئے ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اصلاح کریں۔ سب سے پہلے ہمیں خود احتسابی کی عادت اپنانی ہوگی۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آیا ہم کسی کی تعریف حقیقت کی بنیاد پر کر رہے ہیں یا محض اپنے فائدے کے لئے۔ اسی طرح ہمیں بےجا تعریف کو قبول کرنے کے بجائے حقیقت پسند بننا ہوگا اور اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو جگہ دینی ہوگی جو ہمیں سچ بتا سکیں۔
سرکاری دفاتر اور دیگر تنظیموں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ ایسے نظام تشکیل دیے جائیں جہاں ہر فرد کو اس کی صلاحیت کے مطابق مقام ملے۔ میڈیا اور سماجی پلیٹ فارمز پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور جھوٹی تعریفوں اور مبالغہ آرائی کے بجائے حقیقت کو اجاگر کیا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شخصیت پرستی ایک خاموش زہر کی مانند ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس کا تدارک نہ کیا تو ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں سچائی، انصاف اور قابلیت کی کوئی قدر نہیں رہے گی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس بیماری کو پہچانیں، اس کے خلاف آواز بلند کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں اصل قدر انسان کی قابلیت، کردار اور سچائی کو دی جائے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

شخص پرستی سماج کا ناسور

خورشید ریشی
کپوارہ، کشمیر

شخصیت پرستی ایک ایسی پیچیدہ اور مہلک سماجی بیماری ہے جو بظاہر تعریف، عقیدت اور احترام کے خوبصورت لبادے میں چھپی ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ سچائی، انصاف اور میرٹ کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے۔ اس رویے میں افراد کی اصل صلاحیتوں اور کردار کو نظر انداز کر کے ان کی مبالغہ آمیز تعریف کی جاتی ہے، یہاں تک کہ جھوٹ اور خوشامد کو بھی جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔
اگر ہم اس رجحان کا گہرائی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کی بنیاد خودغرضی اور مفاد پرستی پر قائم ہے۔ لوگ اپنے ذاتی فائدے، عہدے، دولت یا اثر و رسوخ کے حصول کے لئے بااثر شخصیات کے گرد خوشامد کا جال بنتے ہیں۔ اس عمل میں نہ صرف حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے بلکہ سچائی کو دبایا بھی جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں اصل قابلیت رکھنے والے افراد پیچھے رہ جاتے ہیں اور خوشامد کرنے والے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ شخصیت پرستی صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ جب کسی ادارے میں فیصلے میرٹ کے بجائے تعلقات اور چاپلوسی کی بنیاد پر ہونے لگیں تو وہاں انصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں محنت کرنے والا بددل ہو جاتا ہے جبکہ چاپلوس کو مزید حوصلہ ملتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور مجموعی طور پر معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو شخصیت پرستی انسانی کمزوریوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ تعریف سننا ہر انسان کو اچھا لگتا ہے، لیکن جب یہ تعریف حقیقت سے ہٹ کر ہو اور انسان اسے قبول کرنے لگے تو وہ خود فریبی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی خود فریبی اسے حقیقت سے دور لے جاتی ہے اور وہ اپنے گرد ایسے لوگوں کو جمع کر لیتا ہے جو صرف اس کی خوشامد کرتے ہیں۔ یوں ایک مصنوعی دنیا تشکیل پاتی ہے جہاں سچائی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
شخصیت پرستی کے سماجی اثرات نہایت خطرناک ہیں۔ یہ نہ صرف میرٹ کا قتل کرتی ہے بلکہ نوجوان نسل کی سوچ کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ کامیابی کا راز محنت اور دیانتداری نہیں بلکہ خوشامد اور تعلقات ہیں تو ان کے اندر سے جدوجہد کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے۔ اس طرح ایک ایسی نسل پروان چڑھتی ہے جو اصولوں کے بجائے مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔
تاریخی تناظر میں بھی شخصیت پرستی کے منفی اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ وہ معاشرے جہاں افراد کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور تنقید کی حوصلہ شکنی کی گئی، وہاں جمود اور زوال نے جنم لیا۔ اس کے برعکس، وہ اقوام جنہوں نے تنقید کو قبول کیا، میرٹ کو فروغ دیا اور سچائی کو اہمیت دی، وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوئیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لئے ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اصلاح کریں۔ سب سے پہلے ہمیں خود احتسابی کی عادت اپنانی ہوگی۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آیا ہم کسی کی تعریف حقیقت کی بنیاد پر کر رہے ہیں یا محض اپنے فائدے کے لئے۔ اسی طرح ہمیں بےجا تعریف کو قبول کرنے کے بجائے حقیقت پسند بننا ہوگا اور اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو جگہ دینی ہوگی جو ہمیں سچ بتا سکیں۔
سرکاری دفاتر اور دیگر تنظیموں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ ایسے نظام تشکیل دیے جائیں جہاں ہر فرد کو اس کی صلاحیت کے مطابق مقام ملے۔ میڈیا اور سماجی پلیٹ فارمز پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور جھوٹی تعریفوں اور مبالغہ آرائی کے بجائے حقیقت کو اجاگر کیا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شخصیت پرستی ایک خاموش زہر کی مانند ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس کا تدارک نہ کیا تو ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں سچائی، انصاف اور قابلیت کی کوئی قدر نہیں رہے گی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس بیماری کو پہچانیں، اس کے خلاف آواز بلند کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں اصل قدر انسان کی قابلیت، کردار اور سچائی کو دی جائے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں