بڑھتا ہوا عالمی عسکری خرچ

دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ عسکری خرچ ہو رہا ہے، اور دوسری طرف کروڑوں انسان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی محفوظ ہو رہے ہیں، یا صرف عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہے ہیں؟

حالیہ عالمی رپورٹس کے مطابق 2024 میں دنیا کا فوجی خرچ ریکارڈ سطح پر پہنچ کر تقریباً 2.7 ٹریلین ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہے۔یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک رجحان ہے، کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل عسکری اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسی دوران دنیا میں غربت کی تصویر نہایت تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریباً 70 کروڑ افراد شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 3.5 ارب سے زائد لوگ ایسے معیارِ زندگی سے نیچے ہیں جو ایک باوقار زندگی کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ترجیحات کیا ہیں؟ ماہرین کے مطابق اگر عالمی فوجی اخراجات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ انسانی ترقی پر خرچ کیا جائے تو بھوک اور شدید غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر، عالمی بھوک ختم کرنے کے لئے تقریباً 93 ارب ڈالر درکار ہیں، جو کل فوجی اخراجات کا صرف ایک معمولی حصہ ہے۔یہ تضاد مزید واضح ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی فوجی خرچ ترقیاتی امداد سے 13 گنا زیادہ ہے۔گویا دنیا جنگ کی تیاری پر زیادہ سرمایہ لگا رہی ہے، جبکہ امن اور انسانی بہبود کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔جغرافیائی کشیدگی،

علاقائی تنازعات، طاقت کی دوڑ، اور عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ۔ لیکن اس دوڑ کا نتیجہ کیا ہے؟ نہ تو جنگیں ختم ہو رہی ہیں، نہ ہی انسانی مسائل کم ہو رہے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور کروڑوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حقیقی سلامتی صرف ہتھیاروں سے نہیں آتی۔ تعلیم، صحت، روزگار، اور سماجی انصاف ہی وہ عوامل ہیں جو پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر دنیا اسی رفتار سے عسکری اخراجات بڑھاتی رہی تو نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی عدم استحکام بھی بڑھے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

بڑھتا ہوا عالمی عسکری خرچ

دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ عسکری خرچ ہو رہا ہے، اور دوسری طرف کروڑوں انسان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی محفوظ ہو رہے ہیں، یا صرف عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہے ہیں؟

حالیہ عالمی رپورٹس کے مطابق 2024 میں دنیا کا فوجی خرچ ریکارڈ سطح پر پہنچ کر تقریباً 2.7 ٹریلین ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہے۔یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک رجحان ہے، کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل عسکری اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسی دوران دنیا میں غربت کی تصویر نہایت تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریباً 70 کروڑ افراد شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 3.5 ارب سے زائد لوگ ایسے معیارِ زندگی سے نیچے ہیں جو ایک باوقار زندگی کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ترجیحات کیا ہیں؟ ماہرین کے مطابق اگر عالمی فوجی اخراجات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ انسانی ترقی پر خرچ کیا جائے تو بھوک اور شدید غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر، عالمی بھوک ختم کرنے کے لئے تقریباً 93 ارب ڈالر درکار ہیں، جو کل فوجی اخراجات کا صرف ایک معمولی حصہ ہے۔یہ تضاد مزید واضح ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی فوجی خرچ ترقیاتی امداد سے 13 گنا زیادہ ہے۔گویا دنیا جنگ کی تیاری پر زیادہ سرمایہ لگا رہی ہے، جبکہ امن اور انسانی بہبود کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔جغرافیائی کشیدگی،

علاقائی تنازعات، طاقت کی دوڑ، اور عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ۔ لیکن اس دوڑ کا نتیجہ کیا ہے؟ نہ تو جنگیں ختم ہو رہی ہیں، نہ ہی انسانی مسائل کم ہو رہے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور کروڑوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حقیقی سلامتی صرف ہتھیاروں سے نہیں آتی۔ تعلیم، صحت، روزگار، اور سماجی انصاف ہی وہ عوامل ہیں جو پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر دنیا اسی رفتار سے عسکری اخراجات بڑھاتی رہی تو نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی عدم استحکام بھی بڑھے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں