امریکہ کی جانب سے ایران کی چابہار بندرگاہ پر پابندیوں کی چھوٹ ختم ہونے کے بعد بھارت ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ چابہار بھارت کے لئے صرف ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر پاکستان کے راستے کی بندش کے تناظر میں۔یہ منصوبہ 2003 میں اٹل بہاری واجپائی کے دور میں شروع ہوا اور بعد میں مختلف حکومتوں نے اسے جاری رکھا۔ 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے بعد اس میں تیزی آئی، مگر بعد ازاں امریکی دباؤ اور پابندیوں نے اس کی رفتار کو متاثر کیا۔موجودہ صورتحال میں بھارت محتاط حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ اس نے وقتی طور پر اپنی سرگرمیاں محدود کی ہیں، مگر منصوبے سے مکمل علیحدگی اختیار نہیں کی۔ بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے علاقائی مفادات کا بھی تحفظ کرے۔چابہار کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ افغانستان کی اقتصادی بحالی اور علاقائی استحکام کے لئے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت ماضی میں اس بندرگاہ کے ذریعے انسانی امداد، خصوصاً گندم اور طبی سامان، افغانستان تک پہنچاتا رہا ہے، جس سے اس کے مثبت کردار کو تقویت ملی۔آگے بڑھتے ہوئے، بھارت کے لئے بہترین راستہ سفارتی توازن اور تدبر ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات عارضی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں، لیکن چابہار جیسے منصوبے طویل مدتی نقطۂ نظر کے متقاضی ہوتے ہیں، اور بھارت غالباً اپنی حکمتِ عملی کو اسی تناظر میں جاری رکھے گا۔
بھارت کی حکمت عملی نازک موڑ پر!
امریکہ کی جانب سے ایران کی چابہار بندرگاہ پر پابندیوں کی چھوٹ ختم ہونے کے بعد بھارت ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ چابہار بھارت کے لئے صرف ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر پاکستان کے راستے کی بندش کے تناظر میں۔یہ منصوبہ 2003 میں اٹل بہاری واجپائی کے دور میں شروع ہوا اور بعد میں مختلف حکومتوں نے اسے جاری رکھا۔ 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے بعد اس میں تیزی آئی، مگر بعد ازاں امریکی دباؤ اور پابندیوں نے اس کی رفتار کو متاثر کیا۔موجودہ صورتحال میں بھارت محتاط حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔ اس نے وقتی طور پر اپنی سرگرمیاں محدود کی ہیں، مگر منصوبے سے مکمل علیحدگی اختیار نہیں کی۔ بھارت کے لئے ضروری ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے علاقائی مفادات کا بھی تحفظ کرے۔چابہار کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ افغانستان کی اقتصادی بحالی اور علاقائی استحکام کے لئے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت ماضی میں اس بندرگاہ کے ذریعے انسانی امداد، خصوصاً گندم اور طبی سامان، افغانستان تک پہنچاتا رہا ہے، جس سے اس کے مثبت کردار کو تقویت ملی۔آگے بڑھتے ہوئے، بھارت کے لئے بہترین راستہ سفارتی توازن اور تدبر ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات عارضی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں، لیکن چابہار جیسے منصوبے طویل مدتی نقطۂ نظر کے متقاضی ہوتے ہیں، اور بھارت غالباً اپنی حکمتِ عملی کو اسی تناظر میں جاری رکھے گا۔


