جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے ایک بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے انعقاد کا فیصلہ نہ صرف ثقافتی احیاء کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے بلکہ یہ خطے کی سیاحت، معیشت اور عالمی شناخت کو فروغ دینے کا ایک سنہری موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیف سیکریٹری اتل دلو نے کی، اور اس کا مقصد ریاست میں سینما، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں کو نئی زندگی دینا ہے۔اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ فیسٹیول جموں و کشمیر کو عالمی فلمی نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ گوا کی طرز پر منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول دنیا بھر کے فلم سازوں، ہدایت کاروں اور فنکاروں کو اپنی جانب متوجہ کرے گا، جس سے نہ صرف مقامی ٹیلنٹ کو ابھرنے کا موقع ملے گا بلکہ عالمی سطح پر خطے کی مثبت شبیہ بھی اجاگر ہوگی۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جموں و کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکش وادیوں اور منفرد ثقافتی ورثے کی وجہ سے فلم سازی کے لئے ایک مثالی مقام ہے۔ ماضی میں بھی کئی مشہور فلموں کی شوٹنگ یہاں ہو چکی ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس رجحان میں کمی آئی۔ اب یہ فیسٹیول ایک بار پھر اس صنعت کو زندہ کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔سیاحت کے حوالے سے بھی یہ قدم نہایت اہم ہے۔ بین الاقوامی مہمانوں کی آمد، میڈیا کی توجہ اور عالمی تشہیر سے خطے میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ ہوٹل انڈسٹری، ہنر مند کاریگر، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبے اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔تاہم، اس اقدام کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ حکومت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنائے، سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کرے اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرے۔
ساتھ ہی مقامی نوجوانوں کو فلم سازی اور میڈیا کے شعبوں میں تربیت فراہم کر کے انہیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جائے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے لئے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ اگر نیک نیتی، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس پر عمل کیا گیا تو یہ فیسٹیول نہ صرف خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ اسے عالمی ثقافتی منظرنامے میں ایک منفرد مقام بھی دلائے گا۔


