انیل کول
آج کیلنڈر 22 اپریل 2026 کی طرف پلٹ دیا تو معلوم ہوا پہلگام کی بائسرن وادی کے سبزہ زار آج بھی ایک ان دیکھے زخم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ٹھیک ایک سال پہلے، ایک خوشگوار دوپہر کو جو سیاحوں کی ہنسی اور گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازوں سے گونج رہی ہونی چاہیے تھی، اچانک دہشت نے طوفان کی طرح حملہ کر دیا۔ 26 بے گناہ جانیں جو کشمیر کی مشہور خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے آئے تھے اور ایک مقامی گھوڑا بان جس کا قصور صرف ان کی رہنمائی کرنا تھاگولیوں کی بارش میں چھین لی گئیں۔
حملہ آور، M4کاربائنز اورAK-47سے لیس، دیودار کے درختوں سے گھری اس چراگاہ میں انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے، اور اپنی بربریت کو کیمروں میں قید کرتے رہے۔TRF جو پاکستان کے پراکسی لشکر طیبہ (LeT) کا ایک نیا چہرہ ہے، نے ابتدا میں اس "کامیابی” پر فخر کیا۔ دنیا نے خوف کے ساتھ یہ سب دیکھا۔ لیکن اس کے بعد جو ہوا، وہ دہشت گردوں اوران کی حمایت کرنے والے ملک میں بیٹھے ان کے سرپرستوں کے لئے ناقابلِ تصور تھا: اسی زمین سے ایک زوردار اور دل سے نکلی ہوئی نفی کی آواز بلند ہوئی، جس کے لئے وہ لڑنے کا دعویٰ کرتے تھے۔
پہلگام حملے کی پہلی برسی صرف سوگ کا دن نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت پر غور کرنے کا لمحہ ہے جو کسی بھی فوجی کارروائی یا سفارتی بیان سے کہیں زیادہ بلند ہے۔سری نگر کی گلیوں، اننت ناگ کے بازاروں، شوپیان کے سیب کے باغات اور خود پہلگام کی وادیوں سے اٹھنے والی مذمت پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نظریے کے لئے اس قدر بھاری، گہری اور تباہ کن تھی کہ بے مثال آپریشن سندور کے درست فضائی حملے یا آپریشن مہادیو کی زمینی کامیابی بھی اس کے سامنے کم محسوس ہوتی ہے۔
ہمیں اس دن کی ہولناکی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ 22 اپریل 2025 بائسرن وادی جو پہلگام قصبے سے سات کلومیٹر کی مسافت پر ہے، خاندانوں، سہاگ رات منانے والوں اور مہم جو افراد کے لئے ایک خوبصورت تفریحی مقام بن چکی تھی۔ اس کھلے میدان میں کوئی مسلح حفاظتی حصار نہیں تھا۔اعتماد یہاں ایک خاموش اصول تھا، ایک ایسے کشمیر میں جو آہستہ آہستہ دفعہ 370 کی منسوخی کے معمولات زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا۔ پھر مسلح افراد آئے، کم از کم تین، جن میں سے کچھ فوجی وردی میں تھے اور ایک روایتی پھیرن میں ملبوس تھا تاکہ گھل مل سکے۔ انہوں نے انتہائی ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اپنے شکار کو چنا۔ عینی شاہدین نے بعد میں بتایا کہ چیخیں درختوں سے ٹکرا کر گونج رہی تھیں، لاشیں گھاس پر گر رہی تھیں، اور جنگلی پھول خون سے رنگین ہو گئے تھے۔ چند ہی منٹوں میں یہ خوبصورت منظر پچھلے پچیس برسوں میں کشمیر کا سب سے مہلک شہری قتل عام بن گیا۔ پاکستان کے نشانات ہر جگہ تھے: سیٹلائٹ فون، GPS ریکارڈر اور بعد میں بایومیٹرک شواہد نے قاتلوں کو سرحد پارLeT کے تربیتی کیمپوں سے جوڑ دیا۔لیکن چند ہی گھنٹوں میںایک غیر معمولی منظر سامنے آیا۔ کشمیر اٹھ کھڑا ہوا،اس مقصدکے حق میں نہیں جس کا دہشت گرد دعویٰ کرتے تھے، بلکہ اس کے خلاف ایک شدید، متحدہ غصے کے ساتھ۔
اسی شام پہلگام کی سڑکوں پر شمع بردار جلوس نکلے۔ مقامی گھوڑا بان، جو سیاحوں کو پہاڑی راستوں پر لے جا کر اپنی روزی کماتے ہیں، دکانداروں اور اساتذہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے، اور ایسے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا: "میرے نام پر نہیں”اور "دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا”۔ اگلے دن وادی بھر میں ایک مکمل ہڑتال ہوئی، جو اپنی نوعیت میں بے مثال تھی۔ تاجر تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، آٹو ڈرائیور اور ہاؤس بوٹ مالکان بھی اس میں شامل ہوئے۔
سری نگر، پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور بارہمولہ میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے اس حملے کو "کشمیر یت” پر حملہ قرار دیا، جو صدیوں سے اس خطے کی پہچان رہی ہے۔
تمام سیاسی جماعتوں نے اس بربریت کی مذمت کی اور کہا کہ مقامی لوگ متفقہ طور پر اس کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ "یہ حملہ انسانیت کے خلاف ہے”اور "دہشت گردی ناقابل قبول ہے” جیسے نعرے گونج رہے تھے۔ یہ احتجاج محض رسمی نہیں تھے بلکہ گہرے جذبات سے بھرپور اور مسلسل تھے۔
یہ کوئی منظم ڈرامہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی قوم کی اجتماعی آواز تھی جو تین دہائیوں کی پراکسی جنگ کی سب سے بڑی قیمت ادا کر چکی ہے۔ کشمیری جانتے ہیں کہ "آزادی”کے نام پر چلنے والی ہر گولی آخرکار ان کے اپنے بچوں، ان کی معیشت اور ان کے مستقبل کو زخمی کرتی ہے۔ پہلگام میں مارے گئے سیاح ان کے لئے اجنبی نہیں تھے،وہ مہمان تھے جن کی آمد نے برسوں کے تنازع کے بعد زندگی کو سہارا دینا شروع کیا تھا۔ جب وہ مہمان قتل کیے گئے، تو وادی کا ضمیر جاگ اٹھا۔ لال چوک میں دکانداروں نے خوف سے نہیں بلکہ حقیقی غم سے اپنی دکانیں بند کیں۔ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: "پاکستانی دہشت گردی کا ہمارے کشمیر میں کوئی مقام نہیں”۔ خواتین کی تنظیموں، طلبہ یونینوں، حتیٰ کہ سابق جنگجوؤں نے بھی اس بربریت سے خود کو الگ قرار دیا۔ یہ مذمت اس لئے زیادہ بھاری تھی کیونکہ یہ اندر سے آئی اسی طبقے سے جس کی نمائندگی کا دہشت گرد دعویٰ کرتے ہیں۔
اب اس کا موازنہ بھارت کے فوجی ردعمل سے کریں۔ اگلے ہفتوں میں نئی دہلی خاموش نہیں بیٹھی۔ آپریشن سندور مئی 2025 کے آغاز میں شروع کیا گیا، جس میں کنٹرول لائن پار کر کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ درجنوں دہشت گرد مارے گئے۔ اس کے ساتھ سفارتی اقدامات بھی کیے گئے۔ یہ ایک واضح پیغام تھا کہ اب خاموشی کا دور ختم ہو چکا ہے۔
پھر آیا آپریشن مہادیوجو 96 دن کی ایک طویل کارروائی تھی۔ 28 جولائی کو، ڈاچھی گام کے جنگلات میں انہی تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جو پہلگام حملے کے ذمہ دار تھے۔ ان کے پاس سے پاکستانی شناختی دستاویزات اور دیگر شواہد ملے۔ کسی مقامی کشمیری کی شمولیت نہیں تھی۔
ہمیں ان دونوں کارروائیوں پر فخر ہونا چاہیے۔ لیکن تاریخ ایک اور حقیقت کو بھی یاد رکھے گی: عام کشمیریوں کی آواز زیادہ بھاری تھی۔ کیونکہ اس نے دہشت گردوں سے ان کی سب سے بڑی طاقت "عوامی حمایت کا وہم” چھین لی۔
ایک سال بعدحالات بدلتے نظر آتے ہیں۔ سیکیورٹی سخت ہو گئی ہے، سیاح واپس آ رہے ہیں۔ پہلگام کے گھوڑا بان کہتے ہیں: "ہم نے بھائی کھوئے، مگر ہم دہشت کو جیتنے نہیں دیں گے”۔
پاکستان اب بھی انکار اور پروپیگنڈا کرتا ہے، مگر 22 اپریل 2025 نے اس کی حقیقت دنیا کے سامنے عیاں کر دی۔ عالمی سطح پر بھی اس حملے کی مذمت ہوئی۔
آج پہلگام حملے کی برسی پرہم ان 26 جانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہم ان جوانوں کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے انصاف دلایا۔ اور سب سے بڑھ کرہم کشمیر کے عوام کو سراہتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کو واضح الفاظ میں مسترد کیا۔
پہلگام کی وادیاں دوبارہ کھلیں گی۔ اور اس بار، یہ پھول زیادہ مضبوط ہوں گے،شہداء کے خون اور ایک متحد قوم کے عزم سے سینچے ہوئے۔
جے ہند۔ جے کشمیر


