عالمی مذہبی قیادت کا امتحان!

آج جب عالمی سیاست کی لغت تیزی سے طاقت اور تصادم کی زبان میں لکھی جا رہی ہے، ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کی آواز ایک غیر متوقع مگر نہایت اہم ذریعے سے بلند ہوئی ہے۔پوپ لیو جو کیتھولک چرچ کے سربراہ اور اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے امریکی ہیں نےایران کے خلاف امریکہ -اسرائیل جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اورغزہ میں انسانی بحران پر گہری تشویش ظاہر کر نا یقیناً مطلوب اخلاقی مداخلت ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے اندھے بہاؤ کے بیچ بھی ضمیر کی آواز باقی رہ سکتی ہے۔
اسی ضمن میں سرینگر کی جامع مسجد سےمیرواعظ کشمیر محمد عمر فاروق کی جانب سے اس مؤقف کی تائید ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ یہ تائید صرف اتفاقِ رائے نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے نام پر اخلاقی اشتراک کی علامت ہے۔میرواعظ کا یہ کہنا کہ عالمی مذہبی قیادت کو امن کے لئے متحد ہونا چاہیے، کوئی جذباتی اپیل نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا اعتراف ہے۔ آج کی دنیا میں سیاست زیادہ تر طاقت، سرمایہ اور تشہیر کے گرد گھومتی ہے۔ جنگیں انسانی المیوں کے بجائے برتری کے مظاہرے بن چکی ہیں۔ ایسے میں مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری محض ثانوی نہیں بلکہ بنیادی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ خصوصاً عرب دنیا کے کئی مذہبی ادارے سیاسی سرپرستی کے زیرِ اثر اپنی آواز بلند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بادشاہتوں اور ریاستی مفادات کے ساتھ جڑی یہ وابستگیاں انہیں اس وقت خاموش رکھتی ہیں جب واضح مؤقف اختیار کرنا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جو بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔
یہ احساس کہ موجودہ جنگ کسی خاص مذہبی شناخت کے خلاف سمجھی جا رہی ہے، بذاتِ خود ایک خطرناک رجحان ہے۔ اسے نظر انداز کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی قیادت کو آگے بڑھ کر نہ صرف اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا بلکہ یہ واضح کرنا ہوگا کہ انصاف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہو سکتا اور انسانی جان کی حرمت ہر عقیدے سے بالاتر ہے۔
پوپ لیو کا عالمی امن اور انصاف کے لئے دیا گیا پیغام اسی ہمہ گیر اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کسی ایک قوم یا مذہب کے حق میں نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک مشترکہ اپیل ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے اس پیغام کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر مذہبی قیادت سنجیدگی سے متحد ہو جائے تو وہ دنیا کے طاقتور ترین بیانیوں کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ آوازیں ایک وقتی ردِعمل تک محدود رہیں گی یا ایک مستقل تحریک کی شکل اختیار کریں گی؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب مذہبی رہنما اخلاص اور جرات کے ساتھ متحد ہو جائیں تو وہ سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ خاموش یا منقسم رہتے ہیں تو ان کی اہمیت بھی بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

عالمی مذہبی قیادت کا امتحان!

آج جب عالمی سیاست کی لغت تیزی سے طاقت اور تصادم کی زبان میں لکھی جا رہی ہے، ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کی آواز ایک غیر متوقع مگر نہایت اہم ذریعے سے بلند ہوئی ہے۔پوپ لیو جو کیتھولک چرچ کے سربراہ اور اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے امریکی ہیں نےایران کے خلاف امریکہ -اسرائیل جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اورغزہ میں انسانی بحران پر گہری تشویش ظاہر کر نا یقیناً مطلوب اخلاقی مداخلت ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے اندھے بہاؤ کے بیچ بھی ضمیر کی آواز باقی رہ سکتی ہے۔
اسی ضمن میں سرینگر کی جامع مسجد سےمیرواعظ کشمیر محمد عمر فاروق کی جانب سے اس مؤقف کی تائید ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ یہ تائید صرف اتفاقِ رائے نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے نام پر اخلاقی اشتراک کی علامت ہے۔میرواعظ کا یہ کہنا کہ عالمی مذہبی قیادت کو امن کے لئے متحد ہونا چاہیے، کوئی جذباتی اپیل نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا اعتراف ہے۔ آج کی دنیا میں سیاست زیادہ تر طاقت، سرمایہ اور تشہیر کے گرد گھومتی ہے۔ جنگیں انسانی المیوں کے بجائے برتری کے مظاہرے بن چکی ہیں۔ ایسے میں مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری محض ثانوی نہیں بلکہ بنیادی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ خصوصاً عرب دنیا کے کئی مذہبی ادارے سیاسی سرپرستی کے زیرِ اثر اپنی آواز بلند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بادشاہتوں اور ریاستی مفادات کے ساتھ جڑی یہ وابستگیاں انہیں اس وقت خاموش رکھتی ہیں جب واضح مؤقف اختیار کرنا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جو بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔
یہ احساس کہ موجودہ جنگ کسی خاص مذہبی شناخت کے خلاف سمجھی جا رہی ہے، بذاتِ خود ایک خطرناک رجحان ہے۔ اسے نظر انداز کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی قیادت کو آگے بڑھ کر نہ صرف اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا بلکہ یہ واضح کرنا ہوگا کہ انصاف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہو سکتا اور انسانی جان کی حرمت ہر عقیدے سے بالاتر ہے۔
پوپ لیو کا عالمی امن اور انصاف کے لئے دیا گیا پیغام اسی ہمہ گیر اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کسی ایک قوم یا مذہب کے حق میں نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک مشترکہ اپیل ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے اس پیغام کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر مذہبی قیادت سنجیدگی سے متحد ہو جائے تو وہ دنیا کے طاقتور ترین بیانیوں کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ آوازیں ایک وقتی ردِعمل تک محدود رہیں گی یا ایک مستقل تحریک کی شکل اختیار کریں گی؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب مذہبی رہنما اخلاص اور جرات کے ساتھ متحد ہو جائیں تو وہ سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ خاموش یا منقسم رہتے ہیں تو ان کی اہمیت بھی بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں