جنگ کے سائے میں سفارت کاری

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اکیس گھنٹے طویل مذاکرات کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے، جو کہ غیر متوقع نہیں تھا۔ جنگ بندی کے بعد ہونے والی اس پہلی ملاقات سے فوری معاہدے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہ تھا، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات پہلے ہی بہت گہرے تھے۔
اگرچہ یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ کوئی مشترکہ فریم ورک طے نہ ہو سکا، تاہم اس ملاقات کو مکمل ناکامی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ 1979 کے بعد اعلیٰ سطح پر براہِ راست رابطہ خود ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ دیتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگی حکمتِ عملی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔ ایسے میں امریکہ کو دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، جبکہ ایران کو بھی اپنی پوزیشن کا محتاط استعمال کرتے ہوئے لچک دکھانی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ لبنان میں جاری فضائی حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علاقائی تنازعات کو نظر انداز کر کے کسی پائیدار امن تک پہنچنا ممکن نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جنگ نے نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں، خاص طور پر توانائی کی رسد اور تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان جیسے ثالث ممالک کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، جو متحارب فریقین کے درمیان پل کا کام کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد اسی سفارتی کوشش کی ایک مثال ہے، جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، دونوں فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال سے دیرپا حل ممکن نہیں۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مرحلہ وار رعایتیں، اور علاقائی تنازعات کے حل کے لئے جامع حکمتِ عملی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔
اگر دونوں فریق جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے مسلسل مکالمہ جاری رکھتے ہیں، تو اسلام آباد مذاکرات ایک نئے سفارتی عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ خطے کے استحکام کے لئے یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

جنگ کے سائے میں سفارت کاری

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اکیس گھنٹے طویل مذاکرات کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے، جو کہ غیر متوقع نہیں تھا۔ جنگ بندی کے بعد ہونے والی اس پہلی ملاقات سے فوری معاہدے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہ تھا، کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات پہلے ہی بہت گہرے تھے۔
اگرچہ یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ کوئی مشترکہ فریم ورک طے نہ ہو سکا، تاہم اس ملاقات کو مکمل ناکامی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ 1979 کے بعد اعلیٰ سطح پر براہِ راست رابطہ خود ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ دیتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگی حکمتِ عملی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔ ایسے میں امریکہ کو دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کی طرف آنا ہوگا، جبکہ ایران کو بھی اپنی پوزیشن کا محتاط استعمال کرتے ہوئے لچک دکھانی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ لبنان میں جاری فضائی حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علاقائی تنازعات کو نظر انداز کر کے کسی پائیدار امن تک پہنچنا ممکن نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جنگ نے نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں، خاص طور پر توانائی کی رسد اور تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان جیسے ثالث ممالک کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، جو متحارب فریقین کے درمیان پل کا کام کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد اسی سفارتی کوشش کی ایک مثال ہے، جسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، دونوں فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال سے دیرپا حل ممکن نہیں۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مرحلہ وار رعایتیں، اور علاقائی تنازعات کے حل کے لئے جامع حکمتِ عملی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔
اگر دونوں فریق جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے مسلسل مکالمہ جاری رکھتے ہیں، تو اسلام آباد مذاکرات ایک نئے سفارتی عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ خطے کے استحکام کے لئے یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں