کشمیر میں نجی تعلیمی ادارے جن کی بنیاد معیاری تعلیم کی علامت سمجھا جاتا تھا، دہائیوں سے والدین کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بہتر تعلیم کے خواب کے ساتھ اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کروانے والے والدین اب بڑھتی ہوئی اور غیر متوقع فیسوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ فیس ڈھانچے میں شفافیت کا فقدان ہے اور اکثر اوقات یہ اضافہ نہ تو معقول ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی واضح توجیہ پیش کی جاتی ہے۔
حکومتی سطح پر اگرچہ اس مسئلے کے حل کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، لیکن زمینی سطح پر ان کے نتائج خاطر خواہ نظر نہیں آتے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ضابطہ کاری کے فقدان اور کمزور نفاذ نے نجی اسکولوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کے نتیجے میں زائد فیسیں وصول کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے حل کے لئے عملی اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائے اور فیسوں کے تعین کے لئے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں کو بھی زیادہ مؤثر اور نمائندہ بنایا جائے۔
خاص طور پر ان کمیٹیوں میں مقامی برادری کے افراد کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صحافی، وکلا اور سب سے بڑھ کر والدین خود اس عمل کا حصہ ہوں تاکہ زمینی حقائق کو بہتر انداز میں سامنے لایا جا سکے۔ والدین کی شمولیت نہ صرف شفافیت کو فروغ دے گی بلکہ فیصلوں میں عوامی اعتماد بھی بحال کرے گی۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف والدین بلکہ پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔ تعلیم ایک بنیادی حق ہے، اسے منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہونے سے بچانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
نجی اسکولوں کا تجارت اور سرکار
نجی اسکولوں کا تجارت اور سرکار
کشمیر میں نجی تعلیمی ادارے جن کی بنیاد معیاری تعلیم کی علامت سمجھا جاتا تھا، دہائیوں سے والدین کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بہتر تعلیم کے خواب کے ساتھ اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کروانے والے والدین اب بڑھتی ہوئی اور غیر متوقع فیسوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ فیس ڈھانچے میں شفافیت کا فقدان ہے اور اکثر اوقات یہ اضافہ نہ تو معقول ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی واضح توجیہ پیش کی جاتی ہے۔
حکومتی سطح پر اگرچہ اس مسئلے کے حل کے لئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، لیکن زمینی سطح پر ان کے نتائج خاطر خواہ نظر نہیں آتے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ضابطہ کاری کے فقدان اور کمزور نفاذ نے نجی اسکولوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کے نتیجے میں زائد فیسیں وصول کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے حل کے لئے عملی اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائے اور فیسوں کے تعین کے لئے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں کو بھی زیادہ مؤثر اور نمائندہ بنایا جائے۔
خاص طور پر ان کمیٹیوں میں مقامی برادری کے افراد کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صحافی، وکلا اور سب سے بڑھ کر والدین خود اس عمل کا حصہ ہوں تاکہ زمینی حقائق کو بہتر انداز میں سامنے لایا جا سکے۔ والدین کی شمولیت نہ صرف شفافیت کو فروغ دے گی بلکہ فیصلوں میں عوامی اعتماد بھی بحال کرے گی۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف والدین بلکہ پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔ تعلیم ایک بنیادی حق ہے، اسے منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہونے سے بچانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


