مہر: تب اور آج

 

ماجید مجید
کشمیر یونیورسٹی

مہر وہ نقد روپیہ یا جنس ہے جو مسلمانوں کے نکاح کے وقت مرد کے ذمے عورت کو دینا مقرر کیا جاتا ہے، یعنی حقِ زوجیت۔ قرآن مجید کے مطابق ابتدائی دور میں مہر ایک قربانی کی صورت میں ہوتا تھا، یعنی شادی سے پہلے اللہ کے حضور جانور یا اناج کی قربانی دی جاتی تھی۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا ذکر قرآن مجید سورۂ المائدہ (27) میں ہے کہ ہابیل نے جانور اور قابیل نے اناج پیش کیا، اور قبولیت کی صورت میں آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا دیتی تھی۔ اس طرح ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، جو اس وقت کے مہر کی ایک شکل تھی۔
مہر کی ایک اور صورت یہ تھی کہ دولہا دلہن کے گھر کچھ مدت تک خدمتگار کے طور پر رہتا تھا۔ جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے ماموں کے گھر خدمت کرتے رہے اور بعد میں ان کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین پہنچے اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے شادی کی، اور مہر کے طور پر آٹھ یا دس سال خدمت انجام دی۔
قرآن حکیم سورۂ النساء آیت (20) میں ذکر ہے کہ مہر میں سونے کا پہاڑ یعنی بہت زیادہ مال بھی دیا جا سکتا ہے، یا اپنی استطاعت کے مطابق کچھ بھی دیا جا سکتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے مہر کے عوض ایک آیت سنائی اور ان کا نکاح ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی اصول برقرار رکھا۔
عرب معاشرے میں خواتین اپنے حقوق سے باخبر ہوتی تھیں اور اپنا مہر خود مقرر کرتی تھیں۔ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ نظام برقرار رہا۔ تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مہر کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے۔ لڑکیاں اپنا مہر زیادہ مقرر کرتی تھیں، جس کے باعث بعض مرد مالی مشکلات کی وجہ سے بیرونِ ممالک خصوصاً ایران سے شادیاں کرنے لگے، اور عرب میں کنواری لڑکیوں کی تعداد بڑھنے لگی۔
چنانچہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس مسئلے کا حل لے کر آئے۔ آپؓ نے مجلس بلائی اور مہر کی حد مقرر کرنے کا ارادہ کیا۔ جمعہ کے خطبے سے پہلے آپؓ نے حالات بیان کیے، لیکن اسی دوران ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور کہا: "جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی تو آپ کیسے یہ حد مقرر کر سکتے ہیں؟” یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا کہ اگر یہ خاتون مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد نہ دلاتیں تو شاید میں غلطی کر بیٹھتا۔موجودہ دور میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عورتوں کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہے، اور مہر اکثر رسمی طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ اگرچہ خواتین کے حقوق کے نام پر سیمینار اور تقاریب منعقد ہوتی ہیں، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ انہیں اکثر نمائشی طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ اصل اختیار ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔
مہر کے معاملے میں بھی عورت کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی، نہ ہی اسے اس کی اہمیت سمجھائی جاتی ہے۔ اسلام میں شادی کے اخراجات مرد کے ذمہ ہیں، لیکن آج اس کے برعکس دلہن والوں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ عورت تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی رائے دینے سے محروم رہتی ہے، حالانکہ قرآن حکیم میں عورت کی عقل و دانائی کی مثالیں موجود ہیں، جیسے ملکہ سبا، فرعون کی بیوی، اور حضرت مریم علیہا السلام۔ اسی طرح احادیث میں حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن کی عظمت واضح ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

مہر: تب اور آج

 

ماجید مجید
کشمیر یونیورسٹی

مہر وہ نقد روپیہ یا جنس ہے جو مسلمانوں کے نکاح کے وقت مرد کے ذمے عورت کو دینا مقرر کیا جاتا ہے، یعنی حقِ زوجیت۔ قرآن مجید کے مطابق ابتدائی دور میں مہر ایک قربانی کی صورت میں ہوتا تھا، یعنی شادی سے پہلے اللہ کے حضور جانور یا اناج کی قربانی دی جاتی تھی۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا ذکر قرآن مجید سورۂ المائدہ (27) میں ہے کہ ہابیل نے جانور اور قابیل نے اناج پیش کیا، اور قبولیت کی صورت میں آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا دیتی تھی۔ اس طرح ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، جو اس وقت کے مہر کی ایک شکل تھی۔
مہر کی ایک اور صورت یہ تھی کہ دولہا دلہن کے گھر کچھ مدت تک خدمتگار کے طور پر رہتا تھا۔ جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے ماموں کے گھر خدمت کرتے رہے اور بعد میں ان کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین پہنچے اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی سے شادی کی، اور مہر کے طور پر آٹھ یا دس سال خدمت انجام دی۔
قرآن حکیم سورۂ النساء آیت (20) میں ذکر ہے کہ مہر میں سونے کا پہاڑ یعنی بہت زیادہ مال بھی دیا جا سکتا ہے، یا اپنی استطاعت کے مطابق کچھ بھی دیا جا سکتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے مہر کے عوض ایک آیت سنائی اور ان کا نکاح ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی اصول برقرار رکھا۔
عرب معاشرے میں خواتین اپنے حقوق سے باخبر ہوتی تھیں اور اپنا مہر خود مقرر کرتی تھیں۔ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ نظام برقرار رہا۔ تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مہر کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے۔ لڑکیاں اپنا مہر زیادہ مقرر کرتی تھیں، جس کے باعث بعض مرد مالی مشکلات کی وجہ سے بیرونِ ممالک خصوصاً ایران سے شادیاں کرنے لگے، اور عرب میں کنواری لڑکیوں کی تعداد بڑھنے لگی۔
چنانچہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس مسئلے کا حل لے کر آئے۔ آپؓ نے مجلس بلائی اور مہر کی حد مقرر کرنے کا ارادہ کیا۔ جمعہ کے خطبے سے پہلے آپؓ نے حالات بیان کیے، لیکن اسی دوران ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور کہا: "جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی تو آپ کیسے یہ حد مقرر کر سکتے ہیں؟” یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا کہ اگر یہ خاتون مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد نہ دلاتیں تو شاید میں غلطی کر بیٹھتا۔موجودہ دور میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عورتوں کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہے، اور مہر اکثر رسمی طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ اگرچہ خواتین کے حقوق کے نام پر سیمینار اور تقاریب منعقد ہوتی ہیں، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ انہیں اکثر نمائشی طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ اصل اختیار ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔
مہر کے معاملے میں بھی عورت کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی، نہ ہی اسے اس کی اہمیت سمجھائی جاتی ہے۔ اسلام میں شادی کے اخراجات مرد کے ذمہ ہیں، لیکن آج اس کے برعکس دلہن والوں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ عورت تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی رائے دینے سے محروم رہتی ہے، حالانکہ قرآن حکیم میں عورت کی عقل و دانائی کی مثالیں موجود ہیں، جیسے ملکہ سبا، فرعون کی بیوی، اور حضرت مریم علیہا السلام۔ اسی طرح احادیث میں حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن کی عظمت واضح ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں