حالات کے اندھیروں میں امید کی روشنی

مدثر رشید

یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے اُن ہزاروں نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کے خواب بڑے ہیں مگر وسائل محدود۔ یہ اُن آنکھوں کی کہانی ہے جنہوں نے بچپن میں محرومیاں دیکھیں، مگر ہمت کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔
بچپن کا وہ دور، جب سکول جانا بھی ایک آزمائش ہوتا تھا۔ کبھی جوتے نہیں، کبھی کتابیں ادھوری، اور کبھی ایک پھٹا ہوا بستہ ہی پوری تعلیم کا سہارا۔ گھر کے حالات ایسے کہ باپ کی معمولی کمائی سے مشکل سے گزارہ ہوتا۔ ایسے میں تعلیم کوئی آسان راستہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد تھی۔
جب ہم عمر بچوں کو بہتر سہولتوں میں دیکھتے تو دل میں ایک خاموش مایوسی جنم لیتی، مگر وقت نے یہ سکھایا کہ محرومی انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ اسے کچھ بننے پر مجبور کرتی ہے۔
جوانی میں قدم رکھتے ہی ایک خوف حقیقت بن کر سامنے آیا، اگر تعلیم حاصل نہ کی تو ساری زندگی مزدوری کرنی پڑے گی۔ یہ خوف کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت بن گیا۔ اسی نے مجبور کیا کہ تھکن، غربت اور مشکلات کے باوجود محنت کا راستہ نہ چھوڑا جائے۔ دن میں مزدوری، رات میں پڑھائی، یہی معمول بن گیا۔ اپنی فیس خود ادا کرنا، کتابیں خود خریدنا، اور بغیر کسی سہارے کے آگے بڑھنا یہ سب آسان نہیں تھا، مگر ہمت نے ساتھ نہیں چھوڑا۔
وقت کے ساتھ تعلیم مکمل ہوئی، ڈگری اور ڈپلومہ حاصل کیے، مگر ایک اور حقیقت سامنے آئی۔ ہر محنت کا صلہ فوری نہیں ملتا۔ کچھ دوست اپنے مضبوط پس منظر کی وجہ سے آگے بڑھ گئے، مگر وسائل کی کمی نے راستہ مشکل بنا دیا۔ آخرکار ایک چھوٹی سی کنٹریکٹ نوکری ملی۔ کم تنخواہ، زیادہ ذمہ داریاں، اور محدود امکانات۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں فیصلہ کرنا تھا کہ ہار ماننی ہے یا خود کو ثابت کرنا ہے۔
یہاں ایک مختلف راستہ چنا گیا شکایت نہیں، بلکہ ایمانداری۔ عہدہ چھوٹا سہی، مگر کام بڑے دل سے کیا گیا۔ لگن، دیانت اور مسلسل محنت نے وہ پہچان دی جو کسی عہدے سے بڑی تھی۔
وقت نے ثابت کیا کہ صلاحیت کو نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ لوگ خود تلاش کرنے لگے، کیونکہ اصل قدر عہدے کی نہیں بلکہ کردار کی ہوتی ہے۔
یہ کہانی آج کے نوجوانوں کے لئے ایک آئینہ ہے۔
جموں و کشمیر کے موجودہ حالات میں جہاں بے روزگاری اور دباؤ عام ہے، وہاں سب سے بڑی ضرورت ہمت کی ہے۔
بڑی پوسٹ کے پیچھے نہ بھاگیں، خود کو اس قابل بنائیں کہ پوسٹ آپ کو تلاش کرے۔ وسائل کم ہوں تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ اصل طاقت انسان کی نیت اور محنت میں ہوتی ہے۔
اسلام ہمیں صبر، محنت اور اللہ پر بھروسہ سکھاتا ہے۔
اگر انسان سچے دل سے کوشش کرے تو ان شاء اللہ، اس کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ اگر آج زندگی مشکل لگ رہی ہے، اگر راستے بند محسوس ہو رہے ہیں، اگر آپ کی محنت کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آ رہا، تو یہ انجام نہیں بلکہ ایک امتحان ہے۔ ہمت نہ ہاریں، کیونکہ جو انسان اندھیروں میں بھی چلنا نہیں چھوڑتا، وہی ایک دن روشنی تک پہنچتا ہے۔ اپنی جدوجہد پر یقین رکھیں، اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور خود کو کبھی کم نہ سمجھیں۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے اور فخر سے کہیں گے کہ میں نے ہار نہیں مانی، اور یہی میری سب سے بڑی جیت تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

حالات کے اندھیروں میں امید کی روشنی

مدثر رشید

یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے اُن ہزاروں نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کے خواب بڑے ہیں مگر وسائل محدود۔ یہ اُن آنکھوں کی کہانی ہے جنہوں نے بچپن میں محرومیاں دیکھیں، مگر ہمت کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔
بچپن کا وہ دور، جب سکول جانا بھی ایک آزمائش ہوتا تھا۔ کبھی جوتے نہیں، کبھی کتابیں ادھوری، اور کبھی ایک پھٹا ہوا بستہ ہی پوری تعلیم کا سہارا۔ گھر کے حالات ایسے کہ باپ کی معمولی کمائی سے مشکل سے گزارہ ہوتا۔ ایسے میں تعلیم کوئی آسان راستہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد تھی۔
جب ہم عمر بچوں کو بہتر سہولتوں میں دیکھتے تو دل میں ایک خاموش مایوسی جنم لیتی، مگر وقت نے یہ سکھایا کہ محرومی انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ اسے کچھ بننے پر مجبور کرتی ہے۔
جوانی میں قدم رکھتے ہی ایک خوف حقیقت بن کر سامنے آیا، اگر تعلیم حاصل نہ کی تو ساری زندگی مزدوری کرنی پڑے گی۔ یہ خوف کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت بن گیا۔ اسی نے مجبور کیا کہ تھکن، غربت اور مشکلات کے باوجود محنت کا راستہ نہ چھوڑا جائے۔ دن میں مزدوری، رات میں پڑھائی، یہی معمول بن گیا۔ اپنی فیس خود ادا کرنا، کتابیں خود خریدنا، اور بغیر کسی سہارے کے آگے بڑھنا یہ سب آسان نہیں تھا، مگر ہمت نے ساتھ نہیں چھوڑا۔
وقت کے ساتھ تعلیم مکمل ہوئی، ڈگری اور ڈپلومہ حاصل کیے، مگر ایک اور حقیقت سامنے آئی۔ ہر محنت کا صلہ فوری نہیں ملتا۔ کچھ دوست اپنے مضبوط پس منظر کی وجہ سے آگے بڑھ گئے، مگر وسائل کی کمی نے راستہ مشکل بنا دیا۔ آخرکار ایک چھوٹی سی کنٹریکٹ نوکری ملی۔ کم تنخواہ، زیادہ ذمہ داریاں، اور محدود امکانات۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں فیصلہ کرنا تھا کہ ہار ماننی ہے یا خود کو ثابت کرنا ہے۔
یہاں ایک مختلف راستہ چنا گیا شکایت نہیں، بلکہ ایمانداری۔ عہدہ چھوٹا سہی، مگر کام بڑے دل سے کیا گیا۔ لگن، دیانت اور مسلسل محنت نے وہ پہچان دی جو کسی عہدے سے بڑی تھی۔
وقت نے ثابت کیا کہ صلاحیت کو نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ لوگ خود تلاش کرنے لگے، کیونکہ اصل قدر عہدے کی نہیں بلکہ کردار کی ہوتی ہے۔
یہ کہانی آج کے نوجوانوں کے لئے ایک آئینہ ہے۔
جموں و کشمیر کے موجودہ حالات میں جہاں بے روزگاری اور دباؤ عام ہے، وہاں سب سے بڑی ضرورت ہمت کی ہے۔
بڑی پوسٹ کے پیچھے نہ بھاگیں، خود کو اس قابل بنائیں کہ پوسٹ آپ کو تلاش کرے۔ وسائل کم ہوں تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ اصل طاقت انسان کی نیت اور محنت میں ہوتی ہے۔
اسلام ہمیں صبر، محنت اور اللہ پر بھروسہ سکھاتا ہے۔
اگر انسان سچے دل سے کوشش کرے تو ان شاء اللہ، اس کی محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ اگر آج زندگی مشکل لگ رہی ہے، اگر راستے بند محسوس ہو رہے ہیں، اگر آپ کی محنت کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آ رہا، تو یہ انجام نہیں بلکہ ایک امتحان ہے۔ ہمت نہ ہاریں، کیونکہ جو انسان اندھیروں میں بھی چلنا نہیں چھوڑتا، وہی ایک دن روشنی تک پہنچتا ہے۔ اپنی جدوجہد پر یقین رکھیں، اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور خود کو کبھی کم نہ سمجھیں۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے اور فخر سے کہیں گے کہ میں نے ہار نہیں مانی، اور یہی میری سب سے بڑی جیت تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں