مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ نہایت کم رہ گیا ہے۔ ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے خطے میں وقتی طور پر امید کی ایک کرن پیدا کی تھی، تو دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں نے اس امید کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ حملے نہ صرف انسانی المیے کو مزید گہرا کرتے ہیں بلکہ اس نازک جنگ بندی کو بھی کمزور کر سکتے ہیں جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا تھا۔
جیسا کہ روزنامہ سری نگر جنگ کے گزشتہ کل کے شمارے میں یہ خبر دی گئی کہ بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جو حالیہ ہفتوں میں خطے میں جاری جنگی صورتحال کا ایک نہایت خونریز باب ہے۔ ان حملوں کا وقت خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ یہ اُس وقت کیے گئے جب پوری دنیا یہ توقع کر رہی تھی کہ امریکہ، ایران اور خطے کے دیگر فریقین کم از کم عارضی طور پر ہتھیاروں کی زبان ترک کر کے مذاکرات کی طرف بڑھیں گے۔
لیکن لبنان پر حملوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیل خطے میں طاقت کے استعمال کو ہی اپنی اولین پالیسی بنائے ہوئے ہے۔ غزہ کی تباہی، ایران کے خلاف محاذ آرائی، اور اب لبنان پر حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکمت عملی محض دفاعی ردِعمل تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ پورے خطے کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ جنگ بندی کے دائرۂ کار، حدود اور مقاصد ابھی تک پوری طرح واضح نہیں۔ اگر جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک اور ملک پر شدید حملے شروع ہو جائیں، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا واقعی خطے میں امن کے لئے سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے یا پھر یہ سب محض سفارتی بیانات تک محدود ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی برادری بھی اب محض رسمی بیانات اور کمزور مذمتی جملوں سے آگے بڑھے۔ لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر متاثرہ علاقوں میں انسانی جانوں کے تحفظ، ریاستی خودمختاری کے احترام، اور جنگی اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لئے عملی کردار ادا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان، مگر اُنہیں محدود رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے اسی شدت سے جاری رہے تو نہ صرف امریکہ-ایران جنگ بندی غیر مؤثر ہو جائے گی بلکہ پورا خطہ ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے جس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔
نازک جنگ بندی پر اسرائیل حملہ آور
نازک جنگ بندی پر اسرائیل حملہ آور
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ نہایت کم رہ گیا ہے۔ ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے خطے میں وقتی طور پر امید کی ایک کرن پیدا کی تھی، تو دوسری جانب لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں نے اس امید کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ حملے نہ صرف انسانی المیے کو مزید گہرا کرتے ہیں بلکہ اس نازک جنگ بندی کو بھی کمزور کر سکتے ہیں جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا تھا۔
جیسا کہ روزنامہ سری نگر جنگ کے گزشتہ کل کے شمارے میں یہ خبر دی گئی کہ بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جو حالیہ ہفتوں میں خطے میں جاری جنگی صورتحال کا ایک نہایت خونریز باب ہے۔ ان حملوں کا وقت خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ یہ اُس وقت کیے گئے جب پوری دنیا یہ توقع کر رہی تھی کہ امریکہ، ایران اور خطے کے دیگر فریقین کم از کم عارضی طور پر ہتھیاروں کی زبان ترک کر کے مذاکرات کی طرف بڑھیں گے۔
لیکن لبنان پر حملوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیل خطے میں طاقت کے استعمال کو ہی اپنی اولین پالیسی بنائے ہوئے ہے۔ غزہ کی تباہی، ایران کے خلاف محاذ آرائی، اور اب لبنان پر حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکمت عملی محض دفاعی ردِعمل تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ پورے خطے کو مسلسل عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ جنگ بندی کے دائرۂ کار، حدود اور مقاصد ابھی تک پوری طرح واضح نہیں۔ اگر جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک اور ملک پر شدید حملے شروع ہو جائیں، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا واقعی خطے میں امن کے لئے سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے یا پھر یہ سب محض سفارتی بیانات تک محدود ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی برادری بھی اب محض رسمی بیانات اور کمزور مذمتی جملوں سے آگے بڑھے۔ لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر متاثرہ علاقوں میں انسانی جانوں کے تحفظ، ریاستی خودمختاری کے احترام، اور جنگی اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لئے عملی کردار ادا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان، مگر اُنہیں محدود رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے اسی شدت سے جاری رہے تو نہ صرف امریکہ-ایران جنگ بندی غیر مؤثر ہو جائے گی بلکہ پورا خطہ ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے جس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔


