عبدارشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
مسجد کو اسلام میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ مساجد کو جنت کے باغات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پریشانی، جو انسان کا مقدر بن چکی ہے، جب آدمی اپنے خالق کے سامنے سچے من سے سجدہ ریز ہونے کے لیے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ساری پریشانی دور ہو جاتی ہے اور وہ راحت محسوس کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنی مساجد کو راحت و سکون کے بجائے دوسروں کے لیے ایذا رسانی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اذان دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بجا ہے، تاکہ مؤذن کی آواز دور دور تک پہنچ کر لوگوں کو مسجد کی طرف راغب کرے۔ خطبۂ جمعہ کے لیے چونکہ مجمع بڑا ہوتا ہے، اس لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال درست ہے۔ لیکن نماز سے پہلے اور اس کے بعد، خاص طور سے فجر کی نماز کے بعد، حد سے زیادہ بلند آواز میں ذکر و اذکار کرنا اور مساجد کے بغل میں رہنے والے لوگوں کا جینا حرام کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟
اکثر گھروں میں بستروں پر پڑے بیمار لوگ، جو جسمانی اور ذہنی تکالیف کی وجہ سے پہلے ہی بے سکون و بے قرار ہوتے ہیں، وہ اس بلند آواز سے اور زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ شیرخوار بچے، جنہیں دن رات کی کوئی تمیز نہیں ہوتی، اس شور و شرابے کی وجہ سے نہ سو سکتے ہیں اور نہ ہی بیدار رہ سکتے ہیں، بلکہ الٹا رونا شروع کر کے گھر میں موجود تمام افراد کو پریشان کر دیتے ہیں۔ مختلف امتحانات کی تیاری میں مشغول طالب علم، جو اکثر فجر کے بعد ہی پڑھائی کرتے ہیں، وہ بھی پریشان ہوتے ہیں۔ اسی طرح کئی ہدایت یافتہ لوگ، جن کا معمول فجر کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا ہوتا ہے، وہ بھی ایسا کرنے سے رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری بستیوں میں سکونت پذیر غیر مسلم بھائیوں کا بلا وجہ پریشان ہونا، یہ حق ہمیں کس نے دیا؟
ہماری ہمسایگی میں واقع مسجد میں ہر جمعرات کو نمازِ مغرب سے لے کر نمازِ عشاء تک، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے، لاؤڈ اسپیکر پر ذکر و اذکار ہوتا رہتا ہے۔
شور کرتے ہیں یہ مؤذن جب
سننے دیتے نہیں اذان تلک
پہلے پہل جب مسجدوں کی تعداد بہت کم تھی، اس وقت لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کسی حد تک درست تھا، لیکن جب سے ہم لوگوں نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدیں تعمیر کی ہیں، اب تو ایک کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً دس مساجد موجود ہیں۔ جب نماز سے پہلے اور اس کے بعد ان کے لاؤڈ اسپیکر چالو کیے جاتے ہیں تو نتیجے کے طور پر کوئی کسی کی بات نہیں سن پاتا۔ ایک مسجد میں ہونے والے ذکر و اذکار سے دوسری مساجد میں ادا ہونے والی نماز میں خلل پڑ جاتا ہے۔ نماز میں وہ خشوع و خضوع اور concentration قائم نہیں رہتا جو نماز کے لیے ضروری ہے۔
کچھ لوگ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر آن رکھنے کی یہ جوازیت پیش کرتے ہیں کہ گھروں میں بیٹھے لوگ، خاص طور سے عورتیں، مسجد میں ہو رہی نماز کے ساتھ اسی امام صاحب کی اقتدا میں نماز ادا کرتی ہیں۔ اگر صف بندی نماز کی شرط ہے تو بھلا ان کی نماز اس امام صاحب کی اقتدا میں کیسے ادا ہو سکتی ہے؟
دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ نماز ادا کر کے دھیمی آواز میں ذکر و اذکار کے بعد گھروں کو چلے جاتے ہیں، جبکہ چند عادت سے مجبور لوگ اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ خالق، جو شہ رگ سے بھی قریب ہے اور دل کی دھڑکن سے واقف ہے، کو سنانے کے بجائے مخلوق کو سنانے کے درپے ہوتے ہیں، اور اس طرح عبادت کے بجائے ریاکاری کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب آخر میں، یعنی نماز کے بعد، ہم دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو اندر ہی اندر مانگتے ہیں، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، لیکن ذکر و اذکار اس زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ آسمان میں اڑنے والے پرندے بھی کانپ اٹھیں۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ اگر ہمارے معاشرے میں کوئی حق کی بات کہنے کی جسارت کرے تو اس پر کئی طرح کے لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں۔ ایک بار میں نے ایک جید عالمِ دین کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں انہوں نے لاؤڈ اسپیکر کو صرف اذان تک محدود رکھنے کی بات کی تھی، اس لیے کہ بلند آواز سے لوگ عاجز ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دوسری مساجد میں بھی نماز اچھی طرح ادا نہیں ہو پاتی۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے مجھے لکھا: "تم کس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہو؟” میں نے مؤدبانہ عرض کیا: "حضور، نہ میں کسی گیس ایجنسی کا ایجنٹ ہوں اور نہ کسی ٹریول ایجنسی کا، بلکہ ایک سیدھا سادہ آدمی ہوں جس کو آسمان سر پر اٹھانا پسند نہیں۔”
ہم میں سے بیشتر لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ حرمین شریفین میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ روز پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں۔ وہاں باہر والے لاؤڈ اسپیکر صرف اذان کے وقت چالو رہتے ہیں، نماز کے دوران یا بعد میں حرمین شریفین سے باہر کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔
کیا ہی بہتر ہوتا اگر ہماری مساجد کے منتظمین اور امام صاحبان لاؤڈ اسپیکر کو صرف اذان تک ہی محدود رکھتے اور اس کے بعد باہر والے اسپیکر بند کر دیتے، تو نہ صرف سب مساجد میں بلا کسی خلل کے نماز اچھی طرح ادا ہوتی بلکہ گھروں میں بیٹھے لوگ بھی راحت کی سانس لیتے، اور اس طرح ہم ریاکاری سے بھی بچ جاتے اور دوسروں کو ذہنی ایذا رسانی کے گناہ سے بھی محفوظ رکھتے۔
ززز


